ماں باپ کی خدمت سے جنت کمائیں …!

ماں باپ
Loading...

ماں باپ اس دنیا میں سب سے بڑی عظیم نعمت خداوندی میں سے ایک ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی اور آپؐ نے ماں باپ کی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ اور اس کا رسول ماں باپ کی خدمت اور قدر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی دعا لینی چاہیئے۔

حضرت محمدؐ نے فرمایا اے عمرؓ میرے بعد ایک آدمی آئے گا جس کا نام اویس ہو گا اور وہ کرن شاخ سے ہو گا اس سے دعا کروانا ۔ علی آپ بھی اور عمر آپ بھی۔ فرمایا یا رسول اللہ کس لیئے ؟ تو آپؐ نے فرمایا اس نے اپنی ماں کی ایسی خدمت کی ہے کہ جب وہ دعا کے لیئے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔

حضرت عمرؓ نے حج کے موقع پر سارے حاجی کھڑے کر لیئے فرمایا یمن والے کھڑے ہو جائیں باقی بیٹھ جائیں پھر فرمایا یمن والے بیٹھ جائیں کرن والے کھڑے ہو جائیں ۔ تو صرف ایک آدمی کھڑا رہا فرمایا تم کرنی ہو ؟
جی میں کرنی ہوں ۔
اویس کو جانتے ہو؟
جی وہ میرے بھائی کا بیٹا ہے لیکن تھوڑا پاگل سا ہے ۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟
حضرت عمرؓ نے فرمایا پاگل وہ نہیں پاگل تم ہو ۔ پھر پوچھا وہ کہاں ہے ؟
بتایا گیا عرفات کی طرف اونٹ چرانے گیا ہے ۔

آپ نے حضرت علیؓ کو ساتھ لیا اور دوڑ لگائی۔ تو دیکھا اویس کرنیؓ ایک کیکر کے درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور اورنٹ چر رہے تھے ۔ تو جب اویس کرنی نے دیکھا کہ دو آدمی آ کر بیٹھ گئے ہیں تو انہوں نے اپنی نماز کو مختصر کیا حضرت عمرؓ نے پوچھا آپ کون ہو ؟
بتایا جی میں مزدور ہوں ۔
فرمایا تمہارا نام کیا ہے ؟
کہا جی میں اللہ کا بندہ ہوں ۔
فرمایا تیری ماں نے تیرا نام کیا رکھا ہے ؟
اویس کرنی نے چونکہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کو نہیں دیکھا تھا بولے آپ کون ہیں میرے متعلق اتنا کیوں جاننا چاہتے ہیں ؟ تو حضرت علیؓ بولے یہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ ہیں اور میں علیؓ ہوں ۔ تو اویس کرنی کانپنے لگے اور بولے میں معافی چاہتا ہوں پہلی درفعہ آیا ہوں میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا۔ فرمائیے۔
حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ نے فرمایا ہمارے لیئے دعا کیجیئے تو اویس کرنی رونے لگے اور بولے میں عاجز مسکین بندہ میں دعا کروں ۔ میری اوقات ہے دعا کرنے کی ۔

Loading...

حضور پاکؐ سے صحابہ کرام کی بے مثال محبت کا سنہرا واقعہ …!

فرمایا ہمیں حضورؐ نے فرمایا تھا کہ اویس سے دعا کروانا۔ سوچنے والی بات ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جیسی عظیم ہستیوں کو دعا کروانے کے لیئے کہا گیا ۔ اس کی وجہ نا کوئی تہجد نا نماز نا روزہ نا حج نا زکوة نا قرآن اور نا ہی کوئی علم ہے بلکہ اس کی وجہ صرف ماں کی خدمت ہے۔

حضرت محمدؐ نے فرمایا قیامت کے دن لوگ جنت میں جائیں گے تو حضرت اویس کرنیؓ کو جنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا وہ گھبرا جائیں گے کہ اللہ تعالی نے انہیں جنت کے دروازے پر کیوں روک لیا ؟ تب اللہ فرمائے گا اویس کرنی پیچھے دیکھو تو پیچھے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو گا جو جہنم میں جا رہے ہوں گے تو اللہ فرمائے گا اویس اپنی انگلی لوگوں کی طرف پھیرو جس جس کی طرف تمہاری انگلی جائے گی اس شخص کو میں جنت میں ڈال دوں گا۔ یہ ہے ماں کی خدمت اور قدر کا صلہ۔

حضرت محمدؐ نے فرمایا
” تیرا باپ تیری جنت کا سب سے بڑا دروازہ ہے اگر تو نے اپنے باپ کو ناراض کر کے موت پائی تو جنت کا دروازہ تیرے لیئے کھل نا سکے گا ”
یہ ہے ایک باپ کا رتبہ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو اپنے ماں باپ کی خدمت اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

(Visited 23 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں