کرونا وائرس سے انسان کو پہنچنے والے ایک اور نقصان کا انکشاف…!

گلوبلائزیشن
Loading...

کرونا وائرس پر کی جانے والی تحقیقات سے ماہرین آئے دن کوئی نہ کوئی نیا انکشاف کرتے رہے ہیں۔ جیسے ماہرین نے بتایا تھا کہ یہ وائرس انسان کے پھیپھڑوں گردوں اور دل کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ مریضوں کو فالج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس سے لوگ ذیابیطس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے انسان کے جسم میں انسولین بننا رک جاتی ہے جس کی وجہ سے ذیابیطس کا مسئلہ ہوتا ہے۔

یہ انکشاف جرمن کے ایک ماہر نے کیا ہے اس نے بتایا کہ جرمنی میں ایک 19 سالہ لڑکے میں پہلی بار کرونا کی یہ علامت سامنے آئی لڑکے کو انسولین نہ بننے کی وجہ سے اسپتال لایا گیا اور جب اس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ لڑکا کرونا کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں انسولین بننے کا عمل رک گیا ہے۔

جس کی وجہ سے یہ لڑکا ذیابیطس کا شکار ہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھر ہم نے اس لڑکے کے پورے خاندان کا ٹیسٹ کیا جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے والدین اور اس لڑکے میں خود کرونا کی اینٹی باڈیز موجود تھیں اور یہ تمام لوگ کرونا وائرس سے متاثر تھے۔

loading...

اس لڑکے کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اس نوجوان میں پہلے ایسی علامت پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ جب اس جرمن نوجوان کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا تو اس کے جسمانی وزن میں بھی نمایاں کمی آئی اور اس کو بار بار پیشاب آنے کی شکایت تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے متعلق نیا انکشاف کردیا …!

یہ علامات ظاہر ہونے پر اس لڑکے کا شوگر کا ٹیسٹ کیا گیا اس کا بلڈ شوگر لیول 550 ملی گرام ڈی ایل تھا جبکہ ایک نارمل آدمی کا شوگر لیول 401 ملی گرام ڈیال ہوتا ہے اور اس نوجوان کے جسم میں ایسی اینٹی باڈیز بھی موجود نہیں تھی جو شوگر کے مریضوں میں تشخیص کے وقت وجود ہوتی ہیں۔

اس نوجوان کے جسم میں اینٹی باڈیز کا نہ ہونا
یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرونا وائرس سے انسان کے جسم میں انسولین بننے کا عمل رک جاتا ہے اور اگر اس پر کو وقت پر قابو پانے کی کوشش نہ کی جائے تو کسی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(Visited 28 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں