اسلام میں حقوق العباد کے تحفظ کا نظام …!

حقوق العباد
Loading...

انسانی طبیعت میں ایسے جذبات موجود ہیں جو انسان کو دنیاوی لذتوں میں مصروف کر کے اسے آخرت سے غافل بنا دیتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر فرمائی ہیں تاکہ خوف خدا اور رسوائی کے اندیشے سے کوئی شخص ایسی جاہلانہ حرکت کا مرتکب نہ ہوجائے۔ نبی کریم ﷺ کو اس لئے معبوث فرمایا گیا کہ آپ ﷺ گمراہی اور جہالت سے نکال کر ہدایت پھیلائیں ۔ آپ ﷺ کو معاصی چھڑا کر اطاعت کا خوگر بنانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

ترک فرائض کی سزا

زواجر (تنبیہات) کی دو قسمیں ہیں، ایک حدود اور دوسری تعزیرات۔

حدود کی بھی دو قسمیں ہیں، وہ حدود جو حقوق اللہ (اجتماعی حقوق) سے متعلق ہوں، اور دوسرے وہ جو حقوق العباد (انفرادی حقوق) سے متعلق ہوں۔ حقوق اللہ سے متعلق حدود کی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ حدود جو ترک فرائض پر عائد ہوتی ہیں جیسے فرض نماز کا ترک کیا جانا۔ ایسے شخص سے ترک نماز کا سبب دریافت کیا جائے گا۔اگر وہ کہے کہ بھول گیا تو یاد آتے ہی قضاء پڑھے، کیونکہ فرمان نبی ﷺہے کہ،

ترجمہ: جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، یا سو جائے تو وہ اس نماز کو بیدار ہوتے ہی یا یاد آتے ہی پڑھ لے، کہ یہی اس کا وقت ہے۔ اور اس کے سوا کوئی کفارہ نہیں ہے۔

اگر ترک نماز بیماری کی وجہ سے ہے تو بیٹھ کر یا لیٹ کر غرض کہ جس طرح بھی پڑھ سکے پڑھ لے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ،

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ مکلف نہیں فرماتا (البقرہ:۲۸۶)

جرائم ان شرعی ممنوعات کو کہا جاتا ہے جن کے ارتکاب پر شریعت اسلامیہ نے حدود و تعزیرات مقرر کی ہیں۔ جرائم کی تین حالتیں ہیں۔ ایک حالت بریت ہے یعنی ملزم پر جرم ثابت نہ ہو سکنے پر اسے بری کر دیا جائے ۔دوسری حالات سزا کی تکمیل ہے یعنی جرم کا ثبوت فراہم کر دیا جائے اور قاضی سے مجرم قرار دے دے ۔یہ جرم کی صحت کے ثبوت کے وقت شرعی حکم کے مطابق دی جاتی ہے۔ اور تیسری درمیانی حالت ہے جو تہمت (الزام)کے بعد اور صحت ثبوت سے قبل ہوتی ہے۔ اس کا اعتبار ناظر جرائم (پولیس افسر یا شرطہ )کے حال پر ہے۔ اگر ناظر جرائم یعنی پولیس افسر محض حاکم ہو،اس کے سامنے کسی شخص کو سرقہ (چوری) یا زیادتی کے الزام میں پیش کیا جائے تو اس کے روبرو یہ الزام غیرمئوثر ہے اور وہ اس شخص کو تحقیق و تفتیش کے لئے محبوس نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے اقرار جرم کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔بہرحال یہ ناظر اس کے خلاف چوری کے جرم کے دعویٰ کی سماعت صاحب حق مدعی سے کرے ، اور ملزم کے اقرار یا انکار کا اعتبار کرے۔اور زیادتی کے دعویٰ کی سماعت اس وقت کرے جب اس عورت کو بھی پیش کیا جائے جس سے ارتکاب زیادتی ہوا ہے۔ ایک اور صورت یہ ہے کہ اگر ملزم خود ہی ارتکاب جر م کرلے تو اس کے اعتراف پر حد جاری کرے ورنہ اگر ثبوت موجود ہوں تو اس کی سماعت کرے، اور اگر ثبوت موجود نہ ہوں اور مدعی چاہے تو بر بنائے حقوق العبادنہ کہ بر بنائے حقوق اللہ اس کو حلف دے۔

رحمتِ عالم محمد مصطفٰے ﷺ

امیر اور قاضی کے اختیارات میں فرق

اور اگر ناظر جرائم جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا ہے امیر ہو ، یا معاون کی یا احداث کی اولاد ہو تو اس کے عزم کے متعلق تفتیش اور استبراء کے ایسے اختیارات حاصل ہوں گے جو قاضیوں اور حکام کو حاصل نہیں ہیں ۔ ان دونوں کے اختیارات کو ممتاز کرنے والے امور 9 ہیں۔

1۔امیر کو جائز نہیں ہے کہ بغیر دعویٰ کی تحقیق کے ملزم کے خلاف اعوان امارت کا الزام سنے،البتہ ان سے ملزم کے بارے میں یہ معلومات حاصل کر سکتا ہے،کہ آیا وہ مشتبہ لوگوں میں سے ہے یا اس طرح کی قابل تہمت باتوں میں مشہور ہے یا نہیں۔ اگر یہ لوگ اس کی بریت بیان کریں تو الزام بے اثر ہو جائے گا ، اور اسے فوراََ چھوڑ دیا جائے گا۔ اور وہ یہ بیان کریں کہ وہ اس قسم کے امور میں ملوث رہا ہے تو الزام کی شدت بڑھ جائے گی، اور اس کے بعدتفتیش کی جائے گی ۔جبکہ قاضیوں کو کچھ ایسے اختیارات حاصل نہیں ہیں جو پولیس یا امیر (حکمران)کو حاصل ہیں۔

Loading...

2۔امیرکو یہ اختیار حاصل ہے کہ الزام کی بے اثری کے بعد اس کی شدت معلوم کرنے کے بعد ملزم کی عادات اور حالات کو بھی مدنظر رکھے۔ چنانچہ اگر ملزم خواتین سے ہنسی مذاق کا شوقین ہو تو یہ الزام شدت اختیار کر جائے گا ورنہ کیس کمزو ر پڑ جائے گا۔ اور اگر چوری کا ملزم ہو اور چالباز ہو، اور اس کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات ہوں یا گرفتاری کے وقت اس کے پاس آلہ نقب موجود ہو تو بھی الزام قوی ہو گااور اگر آلہ نقب موجود نہ ہو تو الزام کمزور پڑ جائے گا۔

3۔ امیر (حکمران)ملزم کو فوری طور پر تفتیش و تحقیق کے لئے محبوس کر سکتا ہے۔ البتہ مدت حبس کے بارے میں فقہائے کرام میں اختلاف ہے۔ چنانچہ عبداللہ زبیری شافعیؒ کہتے ہیں کہ ایک ماہ سے زیادہ حبس (حوالات) میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے، اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ مدت متعین نہیں ہے، اور امام کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے اور یہی رائے زیادہ صحیح ہے۔جبکہ قاضی بلا حق واجب کسی کو قید کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

4۔اگر الزام قوی ہو تو امیر ملزم کو ضرب تعزیر دینے کا مجاز ہے ، تاکہ ملزم الزام کے متعلق سچ سچ بتا دے ، اگر وہ پٹتے ہوئے اقرار کرے تو یہ دیکھا جائے گا کہ کس امر کیلئے پیٹا گیا ہے۔ اگر اقرار کرانے کیلئے ہی مارا گیا ہے تو پٹنے کے وقت کاا قرار غیر معتبر ہے۔اور اگرا س لئے پیٹا گیا ہے کہ صحیح صورتحال بتا دے اور وہ مار کے دوران اقرار کر ے تو ضرب موقوف کر کے اقرار کا اعادہ کرایا جائے۔اگر وہ اقرار کا اعادہ کر لے تو اس دوسرے اقرار پر ماخوذ ہو گا، پہلے پر نہیں ہو گا۔اور اگر پہلے ہی اقرار پر اکتفا کرتے ہوئے دوبارہ اقرار نہ کیاجائے تو پہلے اقرار کے مطابق عمل کرنے کا امیر کو اختیار ہے لیکن یہ ناپسندیدہ ہے۔

5۔اگر کسی مجرم کے جرائم بڑھ جائیں ، وہ متعدد مرتبہ کی سزا سے بھی باز نہ آئے اور لوگوں کو اس سے مضرت پہنچ رہی ہو، تو امیر (حکمران )اس کو عمر قید کی سزا دے سکتاہے، اور اس صورت میں ا سکے کھانے پینے کے اخراجات بیت المال کے ذمہ ہوں گے،مگر قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے۔

6۔امیر کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ ملزم کو حلف دے تاکہ الزام کی شدت اور غیرمئوثر ہونے کی کیفیت واضح ہو سکے ۔خواہ اس پر لگائے گئے الزام کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے ، اور امیر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ طلاق، عتاق یا صدقہ کی قسم دے۔ جبکہ قاضی نہ بلا استحقاق کسی کو قسم دے سکتا ہے اور نہ طلاق یا عتاق (غلام آزاد کر دینے کی قسم) دے سکتا ہے۔

7۔امیر جرائم پیشہ افراد سے بالجبر اور ڈرا دھمکا کر توبہ کرا سکتا ہے، یہ دھمکی جھوٹ نہیں ہے بلکہ تعزیر کی ایک صورت ہے۔

8۔امیر کو دیگر اہل مذہب جن کی شہادت سننا قاضی کے لئے درست نہیں ہے، شہادت سننا درست ہے۔

9۔امیر کے ذمے ایسی مار پیٹ کا انتظام ہے جو موجب تاوان اور حد نہ ہو۔ اگر کسی کے جسم پر نشان نہ ہو تو س کا دعویٰ حق پہلے سنے جو پہلے دعویٰ دائر کرے۔اگر کسی کے جسم پر ایک نشان ہو تو فقہاء کے نزدیک اس کا دعویٰ سنے ۔ بہرحال مار پیٹ میں پہل کرنے والا زیادہ مجرم اور شدید سزا کا مستحق ہے۔

حدود و تعزیرات

جرم کے ثابت ہونے کے بعد جہاں تک حدود کے قائم کرنے کا تعلق ہے تو اس میں امیر اور قاضی کے اختیارات برابر ہیں۔ بہرحال جرائم کا اثبات دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ ایک ثبوت سے اور دوسرے اقرار سے ، اور ان میں سے ہر ایک کے احکام سمجھنا ہوں گے۔ دراصل حدود زواجر (تنبیہات) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان امور پر مقرر فرمایا ہے جو ممنوع ہیں لیکن ان کا ارتکاب کیا جائے یا ان کا حکم دیا گیا ہو اور انہیں چھوڑ دیا جائے۔

(Visited 48 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں