آرمی چیف توسیع، مسلم لیگ ن کی ’’غیرمشروط حمایت‘‘ متزلزل

جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع پر سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے کے کچھ روز بعد مسلم لیگ نون کے ایک اہم رہنما سے رابطہ کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ان کی جماعت کے غیرجانبدارانہ کردار کو سراہا گیا۔ جہاں بدلہ لینے کا وعدہ کیا گیا تھا وہاں قانون سازی کی منظوری کے لئے بھی مدد مانگی گئی جیسا کہ عدالت عظمیٰ نے توسیع کے طریقہ کار کو باقاعدہ بنانا چاہا تھا۔ لندن میں ایک اجلاس ہوا۔

یہ بھی دیکھئے:’پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل2020‘ قومی اسمبلی میں پیش

Media player logo

یہ اعلیٰ قیادت اور پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کے ارکان کے مابین تھا جو پاکستان سے وہاں پہنچے تھے۔ دیگر کے ساتھ ساتھ توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

پارٹی کی قیادت نے بل کی حمایت کا فیصلہ سنایا۔ اس بات کا انکشاف اندرونی ذرائع کے ساتھ پس منظر کی گفتگو سے ہوا ہے۔ تب تک تفصیلی فیصلے کا انتظار تھا۔ حکومت اس کے خلاف نظرثانی درخواست میں گئی۔

درمیان میں لندن میں قیادت اور پاکستان میں پارٹی کے بڑے کارکنوں کے مابین کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس طرح ایک ماہ گزر گیا۔ قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے جوں ہی وفاقی حکومت نے مسودہ بل منظور کیا تو مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تاخیر سے بلایا گیا۔

خواجہ آصف، پارلیمانی لیڈر نے بتایا کہ انہوں نے یہ پیغام ایک ماہ قبل ہی موصول کیا تھا۔ پارٹی کے اراکین اسمبلی نے جس طرح سے رد عمل ظاہر کیا وہ اب ایک تاریخ ہے۔

وہ ’’غیر مشروط حمایت‘‘ کے سوال پر الجھ کر رہ گئے۔ نون لیگ کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر اور سینئر صحافیوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے تاریخی یوٹرن پر خوب تنقید کی۔ خواجہ بھی اس حملے کی زد میں آئے۔

پارلیمانی پارٹی نے ان پر شیطان کے وکیل کا کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا۔ نیب کی تحویل میں موجود ن لیگ کے رہنما بھی آگ اُگل رہے تھے۔ سب سے سخت حاشیہ شاہد خاقان عباسی نے لگایا جو اس وقت اسپتال میں داخل ہیں۔

پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کا حصہ ایک سینئر رہنما کے مطابق گرما گرم تبادلہ ہوا۔ ان میں سے بعض نے اسے اعلیٰ قیادت کی طرف سے ایک ’فروخت‘ کا معاہدہ قرار دیا جن پر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ جیلوں میں بند دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذاتی راحت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔

اندرونی ذرائع کے مطابق بل کے مندرجات عدم اطمینان کا باعث بنے۔ پارٹی رہنماء کا کہنا تھا کہ نون لیگ کا خیال تھا کہ یہ بل شخص سے متعلق ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ہمیں ادراک تھا کہ موجودہ آرمی چیف کو توسیع دینے پر معاملہ ختم ہوجائے گا جبکہ بل مستقبل میں ایسے معاملات کیلئے راستہ دینے کو تیار ہے۔ گزشتہ عدالت میں پیشی کے موقع پر پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے بھی شاہد کو یہی تاثر دیا تھا۔

پارٹی کے اندر اور اس کے حامیوں کے درمیان خفگی پر اعلیٰ قیادت بوکھلا گئی ہے۔ خواجہ طوفان کی نظروں میں ہیں۔ ایک جانب وہ پارلیمانی پارٹی کو پر امن کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور دوسری جانب اعلیٰ پارٹی قیادت کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ انہوں نے وہی کیا جو انہیں کرنے کو کہا گیا تھا یعنی غیرمشروط حمایت کرو۔ اعلیٰ قیادت کا خیال تھا کہ ایک ماہ قبل دیئے گئے الفاظ کو آگے بڑھانے کے بجائے اس سے پہلے کسی سے مشورہ کرلینا چاہئے تھا۔

فیصلہ بل کی حمایت کرنے کے لئے کیا گیا تھا بلکہ اس کے مندرجات کو عام کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح سے لیا گیا تھا اور یہ کہ پارٹی کو 36 گھنٹوں میں اسے منظور کرنے کے حکومتی اقدام کی حمایت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

خواجہ نے جمعرات کی رات کو استعفے کی دھمکی دے دی تھی لیکن اعلیٰ قیادت نے انہیں ایسا کرنے سے ایک ایسے وقت میں روکا جب دیگر رہنماء پہلے ہی جیلوں میں ہیں۔

دریں اثناء مریم نواز نے بھی قابل نفرت سرنڈر پر احتجاجاً اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ نواز نے یہ دلیل دیتے ہوئے انہیں اپنا فیصلہ واپس لینے کا کہا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو دیگر بھی یہی کریں گے۔ آخر کار بحث نے نقصان کو قابو کرنے کے طریقوں اور ذرائع کی طرف رجوع کیا۔

شاہد اور خواجہ علیحدہ علیحدہ جگہوں سے لندن میں قیادت سے مستقل رابطے میں تھے۔ ابتدائی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مریم نواز جلد بازی میں منظور ہونے والے بل کے ’غیر مشروط تعاون‘ کے تاثر کو ختم کرنے کے لئے ٹویٹ کریں گی۔

تاہم خط کا مسودہ تیار کرنے کا معاہدہ ہوگیا۔ یہ خط شاہد نے تیار کیا تھا جس نے خواجہ کو آگے بڑھانے کے لئے اسے قیادت کے حوالے کیا تھا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اب سے مسلم لیگ (ن) خط میں دیئے گئے روڈ میپ کے مطابق کام کرے گی۔

حکومت کی جانب سے اس پر اتفاق رائے سے انکار کی صورت میں مسلم لیگ (ن) اس بل کی حمایت نہیں کرے گی۔ چونکہ خواجہ کو یہ خط بھیجا گیا تھا ، بعد ازاں اس کو لندن سے میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا۔ شروع میں خواجہ نے جمعہ کی دوپہر تک خط موصول ہونے سے انکار کیا۔

ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے پہلے فون چیک نہیں کیا تھا لہٰذا اس کی وصولی کے بارے میں انہیں معلوم نہیں تھا۔ یہ خط پڑھتے ہی انہوں نے بعد میں اپنی قیادت کے فیصلے کے بارے میں حکومت تک پیغام پہنچایا۔ آیا مسلم لیگ ن شخصی قانون سازی کی حمایت کرے گی (جو پارٹی کی اکثریتی رائے ہے) یا حکومت کے متعارف کرائے گئے بل کی منظوری دے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔

اتنا ہی اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت قانون سازی کے طریقہ کار سے متعلق نواز شریف کی ہدایات کی پابندی کرتی ہے جیسا کہ خط میں تفصیل سے ہے۔ پارٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے ان کے مشوروں کو نظرانداز کیا گیا تو اس بل کی حمایت نہ کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ رہنما کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں پارٹی ان کے حکم کی تعمیل نہیں کرتی تو وہ اس حوالے سے انہوں نے پارٹی کے بجائے عوام کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

(Visited 62 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں