کیا واقعی کرونا وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے…؟

لندن : عالمی ادارہ صحت کے ماہرین اور دیگر سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس بات میں فی الحال کوئی حقیقت نہیں کہ کرونا وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے، سائنسی تحقیق کے بعد ہی کوئی حتمی بات کہی جاسکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ماہر صحت اریا وان کیروف اور دیگر متعدی امراض کے متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہا کہ گزشتہ روز میلان کے سین رافیل اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو کے دعوے کے سائنسی شواہد نہیں ملے ہیں اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کرونا وائرس کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے بھی ٹھوس شواہد یا مربوط اعداو شمار نہیں ہیں کہ نئے کورونا وائرس میں کوئی تبدیلی ظاہر ہورہی ہے یا اس کی شکل اور بیماری کی شدت میں کوئی کمی آئی ہو، کسی بھی وائرس کے پھیلنے کے دوران اس میں تغیر اور موافقت پانا غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔

لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کے ماہر پروفیسر مارٹن ہائبرڈ نے کہا کہ سارس کویو ٹو وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں پر غور کرنے کے بعد اس خیال کی حمایت نہیں کی جاسکتی کہ کورونا وائرس کم طاقتور ہوتا جارہا ہے یا کسی بھی طرح سے کمزور ہورہا ہے۔

اپنے ایک تبصرے میں ان کا کہنا ہے کہ کہا پورے 35،000 سے زیادہ وائرس کروموسوم کے اعداد و شمار کے ساتھ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ شدت سے متعلق کوئی خاص فرق یا کمی موجود ہے۔”

دماغی صحت کو کورونا وائرس کس طرح متاثر کرتا ہے؟

واضح رہے کہ اٹلی کے ایک سینئر ڈاکٹر البرٹو زنگریلو نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ نیا کورونا وائرس اپنی تباہ کاریوں کے بعد آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھوتا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں یہ وائرس اب طبی طور پر اٹلی میں موجود نہیں ہے،21 فروری کو اس وبا کے منظر عام پر آنے کے بعد سے اٹلی میں کوویڈ 19 سے دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں، گزشتہ ماہ مئی میں نئے انفیکشن اور اموات میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ نئے کورونا وائرس کوویڈ 19 وبائی بیماری نے دنیا بھر میں اب تک 370،000 سے زیادہ افراد کو ہلاک اور 60 لاکھ سے زائد کو متاثر کیا ہے۔

(Visited 37 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں