بیروت میں خوفناک دو دھماکے، 78 افراد ہلاک 4000 سے زائد زخمی

بیروت
Loading...

بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو خوفناک دھماکے ہوئے ہیں جس کے باعث درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق بیروت کے وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں خوفناک دھماکا ہوا ہے، دھماکا آتشبازی کے سامان سے لدے بحری جہاز میں ہوا۔

عرب میڈیا کے مطابق دھماکے کی شدت سے پورا شہر لرز اٹھا جبکہ کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں، دھماکے سے کئی کلومیٹر دور تک گھروں کو نقصان پہنچا۔ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، ریسکیو کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق دھماکے والی جگہ پر متعدد ایمبولینسوں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، تاحال دھماکے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اشرف غنی کا وزیراعظم عمران خان کو فون، امریکا طالبان معاہدے پر گفتگو

لبنان کے وزیر صحت حماد حسن کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کی وجہ سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس دھماکے کے باعث دس افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں زمیں بوس ہونے والی ایک عمارت کے ملبے سے 10 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

Loading...

لبنانی میڈیا کے مطابق لبنانی سکیورٹی چیف کا کہنا ہے کہ دھماکا اسلحے کے گودام میں ہوا جبکہ دھماکا اس قد خوفناک تھا کہ اس کی آواز سائپرس تک سنی گئی۔

دھماکے اس قدر خوفناک تھے کہ صرف متعلقہ جگہ پر نہیں بلکہ کافی 17 کلو میٹر دور تک جگہوں پر بھی اس کی آوازیں سنی گئیں۔ لبنانی صدر نے ہنگامی اجلاس بلا لیا ہے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں نے سرمئی رنگ کا دھواں آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا جس کے بعد دھماکے کی آواز آئی اور آگ کے شعلے بلند ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ قریبی علاقوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور سڑکوں پر موجود کئی افراد زخمی ہوگئے اور شہر میں ہرطرف افراتفری ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق بندرگاہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کی آواز شہر کے بڑے حصے میں سنائی دی اور بعض اضلاع میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔

(Visited 28 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں