گھر میں قید ایک شوہر کی نوٹ بک ….

لاک ڈاؤن‘‘ نے ان کو بھی ’’گھریلو‘‘ کردیا جو کہلاتے تو ’’گھر والے‘‘ ہیں لیکن گھر کے امور سے انھیں اتنی ہی دل چسپی اور واقفیت ہوتی ہے جتنی کسی خالص خاتون خانہ کو سیاست سے، واضح رہے کہ ہم ملکی سیاست کی بات کررہے ہیں گھریلو سیاست کی نہیں۔

ایک ایسے گھریلو ہوجانے والے شوہر کی نوٹ بُک ہمارے ہاتھ لگ گئی، سوچا عام استفادے کے لیے پیش کردیں، سو پیش ہے: بھنڈی پکانے کے لیے اس کی مُنڈی اور دُم کاٹی جاتی ہے۔ یہ لیس دار کٹی مُنڈیاں میز پر چمکاکر طرح طرح کی اشکال بنائی جاسکتی ہیں، لیکن تجربے سے ثابت ہوا کہ یہ اشکال دیکھ کر بیگمات کی شکل غصے سے بگڑ جاتی ہے اور یہ آرٹ انھیں مارشل آرٹ کے گُر آزمانے کا موقع دیتا ہے۔

دوسرا تجربہ: شوہر نے لکھا کہ اگر بھنڈی کاٹتے ہوئے اس کا انگریزی نام لیڈی فنگر کا تصور ذہن میں ہو تو بھنڈی کی کٹائی میں جوش وجذبہ شامل ہوکر اس مشقت کو مشن بنادیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روٹی کا گول ہونے کی شرط نہ آئین میں درج ہے نہ کوئی قانون یہ گولائی لازمی قرار دیتا ہے۔ بیگم کسی کتاب سے بھی اس بابت کوئی حوالہ نہ دکھا سکیں۔ سو طے پایا کہ روٹی کو گولائی دینے کی کوشش میں وقت کی لمبائی بڑھتی جاتی ہے۔ چناں چہ روٹی کی مختلف النوع شکلوں کو بھی بلاتعصب روٹی ہی قرار دیا جائے تاکہ روٹی تو کسی طور پکا پائے مچھندر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تُف ہے اس ٹیکنالوجی پر جس نے سب ایجاد کرلیا مگر ایک ایسی جھاڑو نہ بنا پائی جسے پھیرتے وقت جھکنا نہ پڑے۔ علامہ اقبال نے تو کہا تھا ’’تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن‘‘ غیر تو رہا ایک طرف اس چھوٹی جھاڑو کی وجہ سے کوڑے کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔ قسم خدا کی ایک گھنٹے میں خودی اور کمر دونوں جواب دے گئیں۔ اللہ گواہ ہے کہ جھاڑو دینے کے بعد پیاز کاٹتے ہوئے جب کہا تھا ’’بیگم جھکانے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں‘‘ تو آنکھوں سے آنسو صرف پیاز ہی کے باعث نہیں بہہ رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بریانی میں طرح طرح کی اتنی چیزیں پڑتی ہیں کہ اتنا کچھ جوڑ کر بریانی بنانے سے بہتر ہے بندہ اتنی ہی محنت جوڑ توڑ پر کرکے سیاسی جماعت بنا لے۔ بریانی ہو یا سیاسی جماعت، مطلب تو کھانے سے ہے ناں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتیلی چمکانا مقدر چمکانے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس شوہر نے کہا کے پتیلی نہ چمکے تو بیوی کی گرج چمک مقدر ہوتی ہے۔ مانجھ مانجھ کر ’’منجھے ہوئے سیاست داں‘‘ اور ’’منجھے ہوئے کھلاڑی‘‘ کے معنی سمجھ میں آگئے۔ اور یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ پتیلی کی طرح سیاست داں اور کھلاڑی کو جس نے مانجھا ہے انھیں استعمال کرنا بھی اس کا حق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش ماسی کے پوچھا لگاتے سمے پوری توجہ پوچھے پر دی ہوتی تو پوچھے کی تکنیک آگئی ہوتی۔ اب پچھتاوا ہوتا ہے کہ ماسی سے روز خیریت پوچھنے کے بجائے ایک بار پوچھے کا صحیح طریقہ پوچھ لیا ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاتھوں کے انگوٹھے آپ کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں ….؟

شملہ مرچ، موٹی مرچ اور پتلی مرچ کا استعمال کھانوں میں الگ الگ ہے اور لال مرچ تو بالکل ہی الگ ہے۔ انھیں ایک ہی طرح کی اُن مرچوں پر قیاس کرنا ٹھیک نہیں جو باس کی خو ش آمد پسند طبیعت سے فائدہ اٹھاکر دفتر کے ساتھیوں کو لگائی جاتی ہیں۔ شوہر کا کہنا ہے کہ یوں سمجھو کہ مرچوں کا معاملہ بھی مسلمانوں والا ہے ہر مقصد کے لیے الگ مسلمان استعمال کرنا پڑتا ہے جیسے سوویت یونین کے خلاف کھچڑی میں ضیاء الحق ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی دال گلانی ہو تو پرویزمشرف۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جان کر جان جل کر رہ گئی کہ جس ایک پاؤ دہی کے لیے جون جولائی کی بھری دوپہر میں دوڑایا، دوستوں کی محفل سے اٹھایا، کرکٹ میچ کے فائنل کی آخری گھڑیوں میں بازار کی طرف بھگایا اور دفتر سے جلدی اٹھوایا جاتا ہے، وہ کھانے میں صرف ذائقہ بڑھانے کے کام آتا ہے۔ اس کے نہ ہونے سے کھانے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس آگاہی نے دل سے دہی کی رہی سہی عزت تو ختم کی ہی بیگم کا دہانہ بھی دہی کے کونڈے جیسا لگنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشین صرف کپڑے دھوتی ہے نچوڑنا خود پڑتے ہیں۔ تھک تھک کرتے کپڑے نچوڑتے ہوئے باربار خیال آیا کہ ہمارے حکم رانوں کو اس عوام کو نچوڑنے میں کتنی محنت کرنی پڑتی ہوگی جس میں نچڑنے کو کچھ نہیں بچا۔ تاہم کپڑے سکھانا تمام گھریلو کاموں میں وہ واحد عمل ہے جو ’’اک ہم ہی نہیں جسے دیکھو یہاں، وہی آنکھ ہے نم‘‘ کی تسلی دیتا ہے کہ سامنے والی بالکونی پر بھی کوئی مرد ہی یہ فریضہ انجام دے رہا ہوتا ہے جس سے نظریں ملتی ہیں تو ایک دوسرے کو یہ پیغام ملتا ہے: چند روز اور میری جان فقط چند ہی روز لاک ڈاؤن کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں اک ذرا صبر کے فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔

Leave a Reply