امریکی انتخابات 2020 : سروے رپورٹس کیا کہتی ہیں …؟

جو بائیڈن
Loading...

وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہونگے یا جوبائیڈن،یہ فیصلہ تو امریکی عوام کریں گے تاہم نیشنل پولز کی رپورٹوں میں جو بائیڈن کے لیے سب اچھا کا پیغام دیا جارہا ہے۔

نیشنل سرویز کو مونیٹرکرنے والی “ریل کلیئر پولیٹکس” نامی ویب سائٹس میں جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر تقریباً آٹھ پوائنٹ کی برتری حاصل ہے جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن 290 الیکٹورل ووٹ با آسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ڈیموکریٹس کو ایک خوف لاحق ہے اوران کے خوف کی وجہ گزشتہ انتخابات کے نتائج ہیں۔ نیشنل پولز کے مطابق 2016 میں بھی ہیلری کلنٹن کو ٹرمپ پر واضح برتری حاصل تھی اور انتخابی پنڈت ٹرمپ کو صرف ایک 179 الیکٹورل ووٹ کے حقدار ٹھہرا رہے تھے۔جب انتخابات کا دن آیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے304 الیکٹورل ووٹ لے کر نقشہ ہی الٹ دیا۔

امریکی انتخابات میں چند ریاستیں ایسی بھی ہیں جنہیں معلق ریاستوں کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ ان ریاستوں میں کسی بھی پارٹی کو واضح مقبولیت حاصل نہیں ہوتی، اور صدارتی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی کا دارو مدار وہاں کی انتخابی مہم پر ہوتا ہے۔ سوئنگ اسٹیٹس ان ریاستوں کو کہا جاتا ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی کو بھی واضح برتری حاصل نہیں ہوتی۔ نیشنل پولز اور انتخابی تاریخ کی بنیاد پراگلے ماہ شیڈول انتخابات میں آٹھ ریاستوں کو معلق ریاست کا درجہ دیا جارہا ہے جو مجموعی طور پر 125 الیکورل ووٹ کی حامل ہیں۔قومی جائزے کی رپورٹس میں جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر پانچ پوائنٹس سے زیادہ کی برتری حاصل ہے تاہم معلق ریاستیں انتخابی نتائج کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سب سے بڑی معلق ریاست فلوریڈا کو سمجھا جاتا ہے جس کے کل 29 الیکٹورل ووٹس ہیں۔ وہاں بائیڈن کو ٹرمپ پر صرف 1.2 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ بائیڈن کی مقبولیت کا گراف 48.3 فیصد ہے جبکہ ٹرمپ 47.1فیصد کے ساتھ پیچھے ہیں۔

دوسری بڑی معلق ریاست پنسلوانیا ہے جہاں 20 الیکٹورل ووٹس موجود ہیں۔ اس ریاست میں بھی بائیڈن ٹرمپ سے آگے ہیں۔ ٹرمپ کو یہاں سے 45.4 فیصد پوائنٹس ملے ہیں جبکہ 49.5 فیصد پولز نتائج بائیڈن کے حق میں ہیں۔

تیسری بڑی معلق ریاست اوہائیو میں صدر ٹرمپ بائیڈن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نظر آرہے تھے تاہم تازہ ترین نتائج کے مطابق یہاں دونوں امیدواروں کے پوائنٹس برابر ہیں۔18 الیکٹورل ووٹ والی اس ریاست میں 46.2 فیصد عوام ٹرمپ کے ساتھ ہے اور اتنی ہی تعداد بائیڈن کی حمایت کر رہی ہے۔

سولہ الیکٹورل ووٹوں کے ساتھ مشی گن ایک اور انتہائی اہمیت کی حامل ریاست ہے جہاں جو بائیڈن 50.3 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ ٹرمپ سے بہت آگے ہیں جبکہ موجودہ صدر کو صرف 43 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

پانچویں معلق ریاست نارتھ کیرولائنا ہے، جو الیکٹرول کالج میں 15 ووٹوں کے ساتھ اپنی اہمیت جتاتی ہے۔نارتھ کیرولائنا میں اب تک کے پولز کے مطابق جو بائیڈن کو 48.9 فیصد عوامی مقبولیت حاصل ہے جبکہ ٹرمپ 46.8 فیصد کے ساتھ پیچھے ہیں۔

گیارہ الیکٹورل ووٹ کی حامل ایریزونا بھی معلق ریاستوں میں شامل ہے جہاں صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن میں کانٹے کا جوڑ ہے۔ یہاں بائیڈن صدر ٹرمپ سے صرف 0.1 پوائنٹ سے آگے ہیں۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کا انتخابی نشان گدھا اور ری پبلکنز کا ہاتھی کیوں؟

وسکانسن کے 10 الیکٹورل ووٹ ہیں جہاں بائیڈن کو واضح برتری حاصل ہے۔ بائیڈن کی مقبولیت کا گراف 50 فیصد کو چھو رہا ہے جبکہ ٹرمپ کو 45 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔

آخری معلق ریاست آئیووا ہے جس کے حصے میں صرف چھ الیکٹورل ووٹ ہیں۔ یہاں بھی ڈونلڈ ٹرمپ 0.6 پوائنٹس سے جوزف بائیڈن سے آگے ہیں۔پولز کے مطابق ٹرمپ کو 46.4 فیصد جبکہ بائیڈن کو 45.8 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

یہ آٹھ معلق ریاستیں 23 فیصد الیکٹرول ووٹ رکھتی ہیں اس لیے دونوں صدارتی امیدواروں کی انتخابی مہم کی مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ نیواڈا اور ٹیکساس بھی اہمیت کی حامل ریاستیں ہیں۔ نیواڈا سے جوبائیڈن کو برتری حاصل ہے جبکہ ٹیکساس سے ٹرمپ آگے ہیں۔ انتخابات 2020 میں یہ سوئنگ ریاستیں کونسے امیدوار کی گود میں گرتی ہیں یہ انتخابی نتائج آنے پر ہی واضح ہوگا۔

صدر ڈونلڈٹرمپ کی حکومت کے چار سالوں میں امریکی خارجہ پالیسی نشیب و فراز کا شکار رہی،،کہیں محاذ آرائی بڑھی،، تو کہیں امن کی جانب پیش رفت ہوئی۔ جہاں چین ، ایران اور وینزویلا کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے وہیں افغانستان میں قیام امن کی امید جاگی۔

سب سے پہلے امریکا ‘‘کے نعرے کو عملی جامع پہنانے کی کوشش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ دوست اور دشمن ممالک کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے رہے۔ نیٹو فنڈز کی کم ادائیگی کا مدعا اٹھایا تو اتحادی ملک جرمنی سے ایک تہائی فوج واپس بلا کر دم لیا۔ قریب ترین اتحادی یورپی یونین سے تعلقات کشیدہ ہوئے تو یورپ کے برتاؤ کو چین سے بھی بدتر قرار دیا۔

Loading...

صدر ٹرمپ ایک برس تک پاکستان کے حوالے سے مکمل خاموش رہے پھر اچانک یکم جنوری 2018 کو پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ پاکستان پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا اور فوجی امداد بند کرادی، لیکن جلد ہی انہیں یوٹرن لینا پڑا۔طالبان سے مذاکرات شروع کروانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو خط لکھ کر مدد مانگی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو خوب سراہا۔

جولائی 2019 میں وزیراعظم عمران خان سے ملے تو شیر و شکر ہوگئے،جنوبی ایشیا میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی۔ ورلڈ اکانومک فورم کے موقع پر بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ امریکی صدر نے فروری 2020 میں دورہ بھارت کے دوران مودی کو سامنے بیٹھا کر پاکستان کی تعریف کی جس پر بھارتی وزیر اعظم تلملا اٹھے۔

چین کے ساتھ پورے چار سال صدر ٹرمپ نے سرد جنگ کا ماحول بنائے رکھا۔ پہلے تجارتی جنگ چھیڑی اور چینی مصنوعات پر 360 ارب ڈالر کے محصولات عائد کیے۔ اس کے ردعمل میں چین نے 110 ارب ڈالر محصولات کے ساتھ جوابی وار کیا۔ صدر ٹرمپ نے چینی کمپنی ہواوے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر امریکی مارکیٹ سے نکال باہر کیا پھر ہاتھ دھو کر ٹک ٹاک کے پیچھے پڑ گئے۔ طویل مذاکرات کے بعد رواں سال تجارتی تعلقات میں بہتری آئی تو صدر ٹرمپ نے سفارتی جنگ چھیڑ دی اور چینی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ ہیوسٹن میں واقع چینی قونصلیٹ پر تجارتی راز چرانے کا الزام لگاکر اسے بند کردیا۔ دریں اثنا امریکا سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتا رہااورہانگ کانگ میں چین مخالف مظاہروں کی بھرپور حمایت کی ۔ چین مخالف پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر تائیوان کے ساتھ عسکری تعلقات کو بھی مزید فروغ دیا۔

مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی پالیسی میں اسرائیل نوازی کا رنگ غالب رہا۔ سب سے پہلے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیاگیا۔صدر ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین پر “ڈیل آف دی سینچری” کے نام سے منصوبہ پیش کیا جسے فلسطینی قیادت نے اسرائیل نواز قرار دے کر مسترد کردیا۔ امریکی صدر نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کیا جس سے مشرق وسطیٰ میں صیہونی ریاست کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔

ایران کے خلاف بھی امریکی صدر نے جارحانہ پالیسی اختیار کی۔ سابق صدر باراک اوبامہ کے دور میں طے شدہ ایران ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر تاریخ کی بد ترین پابندیاں عائد کردی۔ جنوری 2020 ء میں ایرانی پاسدران انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کوصدر ٹرمپ کے حکم پر عراق کے دورے کے دوران ڈرون حملے میں قتل کیا گیا جس کے بعد دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔

صدر ٹرمپ نے بیرون ممالک سے اپنی افواج کو واپس بلانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہو ئے اکتوبر 2019ء میں اچانک شام سے فوجی انخلاء کا اعلان کردیا لیکن صرف تین ہفتے بعد اس اعلان سے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی افواج کو شام میں ہی رکنے کا حکم دے دیا۔ عراق میں موجود چھ ہزار امریکی افواج میں سے آدھی فوج واپس بلا لی۔ ٹرمپ کے دور میں ہی کالعدم تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو شمالی شام میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ٹرمپ کے دور میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے اور کچھ عرصہ پہلے صدر ٹرمپ نے کرسمس سے پہلے افغانستان چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان مسئلے پر اپنے چار سالہ دور میں ’’کبھی ہاں کبھی ناں ‘‘کی پالیسی پر گامزن رہے مگر انہی کے دور میں امریکا کی افغان پالیسی یکسر تبدیل ہوگئی اور 19 سال سے جاری کشیدگی کو طول دینے کی بجائے سیاسی حل کی پالیسی اپنائی گئی۔ امریکی صدر نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے تین ماہ کے اندر افغانستان پر ’’مدر آف آل بم‘‘ گرانے کا حکم دیا۔

13 اپریل 2017 ء کو صدر ٹرمپ کے حکم پرامریکا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ننگرہار میں گرایا گیا تاہم یہ بم بھی داعش کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچا سکا۔ ٹرمپ نے صوبہ ہلمند کو ایک بار پھر امریکی افواج کے حوالے کرنے کی منظوری بھی دی جو غیر ملکی افواج کے لیے موت کی وادی بن گیا تھا۔ 2017 میں ہی ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا۔ 21 اگست 2017 ء کو ورجینیا میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان سے انخلاء چاہتے ہیں۔ 2018 ء کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی اور پاکستان پر عدم تعاون کا الزام لگایا۔

پھر اْسی سال ہی وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی درخواست کردی۔ ستمبر 2018 میں ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو امریکا کا نمائندہ خصوصی مقرر کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی۔ 2019 ء کے شروع میں طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات پر پیش رفت ہوئی اورفروری 2019 ء میں زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمائندے عبد الغنی برادر کے درمیان امن مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق رائے طے پایا۔دونوں فریق انٹرا افغان ڈائیلاگ، سیاسی ڈھانچے کی تشکیل اور جنگ بندی سے متعلق بات چیت پر آمادہ ہوگئے تاہم 7 ستمبر 2019ء کو صدر ٹرمپ نے پھر یوٹرن لیا اور کابل میں طالبان کے ہاتھوں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو جواز بنا کر مذاکرات منسوخ کردیے۔ اس وقت یہ بھی انکشاف ہوا کہ کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ ، افغان صدر اشرف غنی اور طالبان کے درمیان ملاقات طے تھی جو منسوخ ہوگئی۔

صدر ٹرمپ چونکہ انتخابات سے پہلے افغان جنگ سے جان چھڑانا چاہتے تھے تاکہ انتخابی مہم میں اپنے دور حکومت کا ایک اہم اقدام شامل کرسکیں، لہٰذا 2020 میں طالبان سے مذاکرات کی کوششیں تیز کردیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں اہم پیشرفت تب سامنے آئی جب 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پاگیا، جس کے تحت امریکا نے افغانستان سے مشروط انخلاء پر رضامند ی ظاہر کردی اور طالبان بھی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہوگئے۔ 12 ستمبر 2020 ء کو دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا جہاں افغانستان میں مستقبل کے سیاسی نظام اور اختیارات کی تقسیم پر بات چیت جاری ہے۔

کورونا کی وباء پھوٹنے کے بعد صدر ٹرمپ عالمی اداراہ صحت پر بھی الزامات لگاتے رہے اور کورونا وائرس کے عین عروج کے دوران عالمی ادارے کے فنڈز روک دیے۔ ڈبلیو ایچ او پر چین کی طرف جھکاؤ کا الزام لگایا اور آخر کار عالمی ادارہ صحت سے الگ ہونے کے حکم نامے پر دستخط کردیے۔

کورونا کی وباء سے متعلق غیرسنجیدگی دکھانے کے علاوہ صدر ٹرمپ کی ماحولیات، محصولات، امیگریشن اور ایران کے بارے میں پالیسیاں عالمی سطح پر انتہائی غیر مقبول ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے بارے میں عالمی سطح پر مثبت رائے صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈرامائی طور پر کم ہوئی اور صدر اوباما کے دور کے مقابلے میں قابل ذکر حد تک منفی رہی ہے۔

(Visited 39 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں