عزت کا معیار صرف عورت کے اعضا تک محدود کیوں…؟

عزت

ہمارے سماج میں اگر کسی کا ریپ ہو جائے تو کہا جاتا ہے ’ہائے تیری عزت لٹ گئی۔‘ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ’بھیا جی، یہ عزت کا دائرہ کار صرف عورت تک کیوں محدود ہے؟ یا ہم نے محض جائے مخصوصہ کو ہی کیوں عزت کا مینار تصور کر لیا ہے؟ کیا عزت محض آپ کے جسم میں ہے؟ کیوں ہماری عزت کپڑوں میں قید ہے؟‘

کوئی بھی مرد یا عورت ساری زندگی عزت دار رہے ہوں اور اچانک جنسی زیادتی ہو جائے تو زمانے والے اس کی ساری عزت ان لیبلوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں کہ ’اب تیرا کیا ہو گا؟ تو تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی! تیری توعزت لوٹ لی گئی ہے !‘

اسی کلنک سے بچنے کے لیے نجانے کتنی ہی زبانیں کٹ جاتی ہیں اور بار بار ریپ کا شکار ہونے والوں کے پیچھے یہی بلیک میلنگ ہوتی ہے۔

جنسی زیادتی ذہنی اور جسمانی ظلم تو ہے مگر جنسی زیادتی کرنے والے کو محض ریپسٹ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ستم یہ کہ زیادتی بھی اس نے کی، ظلم اس نے کیا، لیکن کوئی اسے نہیں کہتا کہ تیری عزت لوٹی لی گئی۔ عزت مظلوم ہی کی لٹی، بلکہ سچ پوچھیے تو لفظ ریپسٹ کے ساتھ ایک طرح کا فخر اور چھاتی ٹھونکنے کا تاثر جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ سہولت ہے جو صرف مرد کو حاصل ہے۔

گذشتہ دن ایک صاحب نے اپنی زوجہ کے ساتھ کچھ رنگین یادیں فیس بک پر تصاویر کی صورت میں اپ لوڈ کر دیں، تھوڑی دیر بعد علم ہوا کہ موصوف کے والد اپنے بیٹے سے کہنے لگے، ’تو نے تو ہماری ناک ہی کٹوا دی، ہماری عزت کو سب نے دیکھ لیا، بڑا بے شرم ہو گیا ہے!‘ گویا سسر کی عزت کے طوطے کی جان بھی صرف بہو کے اندر بند ہے، بیٹے میں نہیں۔

اپنی ذات کو اس موضوع پر رکھ کر پرکھیں تو شاید اس کرب کا احساس ہو کہ یہ اذیت بھی بڑی اذیت ہے کہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی ہونے والی جنسی زیادتی تاحیات آپ کا پیچھا کرتی رہے گی۔

یہاں تک کہ شادی کے بندھن میں باندھنے کے لیے کوئی عزت دار خاندان آپ کو قبول کرنے سے پہلے لاکھ بار یہی سوچے گا کہ ہائے یہ تو استعمال شدہ ہے۔ اب یہ استعمال شدہ لفظ بھی بڑا معنی رکھتا ہے یعنی سیکنڈ ہینڈ گاڑی ہو جیسے۔

یہ اکثر طلاق یافتہ خواتین و حضرات کے لیے لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ انہی لفظوں سے اندازہ لگائیں کہ عزت و وقار کے ناپ تول اور زاویے کتنے اہم بنا دیے گئے ہیں کہ یہ سماج ایک طلاق یافتہ عورت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو اس شخص کو کس ظرف کے ساتھ قبول کرنے کی جسارت رکھ سکتا ہے جس کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین واقعہ رونما ہو چکا ہو۔

یہ امتیازی رویہ محض ہمارے سماج میں نہیں بلکہ دنیا میں آج بھی موجود ہے۔ افریقہ، عرب اور بھارت تک میں ایسے گاؤں دیہات ہیں جہاں خواتین کا ختنہ کر دیا جاتا ہے تاکہ ان میں جنسی خواہش، مردوں سے قربت اور نسوانی جنسیت کو قابو میں رکھا جائے اور جو بچ جائے گی تو وہ ہے ’عزت۔‘

loading...

جنس تبدیل کروانے والی لڑکی کی حیران کن کہانی.. !

2018 میں صومالیہ میں دس سالہ بچی ختنے کے دوران زیادہ خون بہہ جانے سے ہلاک ہو گئی تھی اور والدین نے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی کوشش نہیں کی کیوں کہ والدین کے نزدیک یہ روایت بہت مقدس تھی۔ اتنی مقدس کہ بےشک اس کی حرمت پر انسانی جان قربان کر دی جائے۔

یونیسف کے مطابق صومالیہ میں 98 فیصد خواتین کو ختنہ کروانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ کمیونٹیز ایسی پائی جاتی ہیں جو لڑکیوں کے ختنے کرتی ہیں اور جسم کے مخصوص حصوں پر ٹانکے لگا کر راستے دشوار کر دیے جاتے ہیں تاکہ محفوظ رہ سکے تو ’عزت۔‘

آج بھی عرب اور افریقہ کے بیشتر علاقوں میں عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے اور وجہ تصور سمجھی جاتی ہے تو ’عزت۔‘

عزت، عزت، عزت۔ آخر کیا ہے یہ عزت ؟ محض کوئی ایسی چیز جسے زبردستی کسی کے استعمال سے چھین لیا جاتا ہے یا جسم کے وہ مخصوص مقام جو گوشت کا لوتھڑا ہونے کے باوجود دل و دماغ، سوچ، فکر، زندگی بھر کی انتھک محنت پر پانی پھیر سکتی ہے؟

بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے سماج میں پہلے بہتری لانے والوں کو قبول کریں اور بہتری کے راستے کی رکاوٹوں کو روک دیں۔

اپنی اپنی عزتیں اور اپنا وقار کسی ایک حادثے کے بعد ہمیشہ کے لیے کہیں کھو جانے کے خوف سے خود کو اور دوسروں کو آزاد کریں۔ ایسے لوگ جن کے ساتھ ریپ جیسے واقعات ہو چکے ہوں، سب سے پہلے اس جرم کے دور رس اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا سدباب کریں اور ایسے افراد کے ماتھے پر کسی قسم کی تختی نہ ٹانکیں۔

ایسے شخص کے لیے زندگی کو پہلے سے زیادہ آسان بنائیں تاکہ وہ آگے بڑھ کر گزرے وقت کو اور ایسی سستی کم ظرف عزت کو بہت پیچھے دھکیل دے جو کسی کی زبردستی یا رضامندی سے چھینی جا سکتی ہو۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو 

(Visited 40 times, 1 visits today)

Comments

comments

جنسی زیادتی, ریپ, عزت, عورت,

اپنا تبصرہ بھیجیں