رب العزت کی برکات کے سلسلے کیسے چلتے ہیں…؟

برکت کا نظام

میں نے ایک بار سورج کے ساتھ سفر کیا تو غیر دانستہ خیال ، خیالوں کے ساتھ جڑتے جڑتے اِک قوی خیال جا بنا تو معلوم ہوا کہ برکت کا نظام میرے مالک عزوجل کا ہے وہ جسے چاہےعطا کردے جس سے چاہے چھین لے اُس رَبّ عزوجل کو کوئی نہیں پوچھ سکتا چونکہ وہ ہر تخلیق کاخود خالق ہے ۔

خیر ایک برکت کا نظام ہے اور ایک کثرت کا نظام ہے مگر تقسیم اُسی شہنشاہِ واحد لاشریک ذاتِ مبارکہ کی ہے اور اِس تقسیم کی کمی یا زیادتی اُسی کی حکمت اور شان ہے جو انسان کی سوچ سے مخفی(چُھپی ہوئی) رکھی گئی ہے .
یہ اللہ ہی کی تو شان ہے کہ ایک ہی وقت کی گھڑی سے کوئی خوش تو کوئی پریشان حال نظر آتا ہے ۔ جو خوش ہیں اُنہیں شکر اور جو پریشان ہیں اُنہیں صبر کرنا چاہیے اسی لئے صبر اور شکر دونوں پہ ہی اجر ہے. اچھی نیت انسان کو تنگی سے نکال کر خوشحالی میں لاتی ہے اور خوشحالی میں کی گئی اچھی نیت مزید رب کے انعامات کا دروازہ کھل دیتی ہے۔

ایک برکت کا دائرہ وہ ہے کہ جو اللہ اپنی مہربانی سے عطا کرتا ہے ۔ دوسرا یہ ہے جو آپ اپنے اعمال سے برکت کے سلسلے میں داخل ہوتے ہیں یعنی اللہ کی مخلوق پر اپنے ہاتھ کو کُھلا کر کے برکت کو پا جاتے ہیں. تیسرا، برکت کا نظام یہ ہے کہ آپ پر کسی کی دعاؤں کا اثر ہو.

اِس کے علاوہ دنیا پر کچھ جگہیں ، مقامات ، اوقات اور لوگ ایسے ہیں کہ وہ برکت سے بھرے ہوتے ہیں، آپ کے چہرے پر اگر غم کی پرچھایاں ہیں تو اُن جگہوں ، مقامات یا اوقات میں داخل ہوتے ہی یا برکت والوں کے ساتھ جڑتے ہی آپ کے دل کی کیفییات بدلنا شروع ہوجاتی ہیں اور یہ بھی رب عزوجل کی حکمت ہے ۔ اللہ کسی کو برکت عطا کرتا ہے تو کسی کو کثرت اور ایک رَبّ کا خاص الخاص کرم ہے کہ آپ کو دونو ں نظام عطا کر دے ، برکت اور کثرت یہ دونوں نظام جس کو بھی ملتے ہیں وہ سکون کے دائرے میں پہنچ جاتے ہیں۔

الحمد اللہ کہنا نہیں، کرنا سیکھو

جب ایک بار برکت آ جاتی ہے تو پھر برکت جاتی نہیں ہے، برکت لُٹتی نہیں ہے ہاں جب ناقدری یا برکت کی بےبرکتی کی جاتی ہے تو ایسا کرنے سے یہ برکت کا نظام چھین لیا جاتا ہے ۔ برکت کے نظام میں اتنی برکت ہوتی ہے کہ یہ سراسر اللہ کی رضا ہے یا کسی کی دعاؤں کا اثر ہے

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

loading...

ترجمہ: اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کے باعث پکڑ لیا۔ [الاعراف: 96]

اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کر کے برکت حاصل کی جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

ترجمہ: اور تمہارے رب نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور بہ ضرور مزید عطا کروں گا۔ [إبراهيم :7]

برکت کے سلسلے اُسی قدرت والے رب کے ہیں مشرق بھی اسی کی ہے اور مغرب بھی اسی کی ہے وہ کسی کو اُبھرتے سورج کے تلے رہتے ہوئے یا سورج کی کِرنوں کے ساتھ باتیں کرنے کے باوجود بھی برکت سے محروم رکھ دے ، تو کسی کو اندیھری دنیا میں ڈوبتے سورج کے ساتھ بھی برکت سے مُنور کر دے اُسے کوئی نہیں پوچھ سکتا چونکہ وہ بادشاہ ہے کائنات کا رَبّ ہے، خالق ہے مگر وہ سخی رَبّ جو بھی کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے خزانوں سے اپنی شان کے مطابق برکت اور کثرت دونوں نظام عطا فرمائے اور اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی محبت نصیب فرمائے.
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
۔ آمین ۔
قاسم علی درویش

(Visited 176 times, 1 visits today)

Comments

comments

برکات کے سلسلے, برکت کا نظام, دعا,

رب العزت کی برکات کے سلسلے کیسے چلتے ہیں…؟” ایک تبصرہ

  1. اعتدال ، رقم اور حالات

    دینِ حق یا اسلام اعتدال کا نام ہے۔ آقاﷺ نے بار بار اعتدال کا حکم دیا ہے اور اعتدال میں ہی ساری زندگی گزار کر دِکھائی ہے اور ہمیں یہی درس دیا ہے کہ ہر کام میں میانہ روی اختیار کرو، چونکہ میانہ روی، اعتدال یا درمیانی چال چلنا اِنسان کو رُسوا ہونے سے بچاتی ہے ۔ خیر انسان وہ واحد مخلوق ہے جو سوچتی ہے۔ باقی کی تمام مخلوقات رَبّ کے عین حکم کے مطابق یا اپنے محدود مزاج کے مطابق زندگیاں گزار رہی ہیں۔ سوچتا صرف انسان ہے اور یہ سوچنے کا کام یا سوچ کو منظم کرنے کے طریقے انسان چرند، پرند اور دیگر مخلوقات سے لیتا ہے حتی کہ انسان نے کائنات کے زرے زرے سے بھی سیکھا ہے اور سیکھتے سیکھتے آج کا انسان اتنا جدید ہو چکا ہے کہ اِس انسان نے اپنی تباہی کا سامان بھی خود تیار کر رکھا ہے ۔ ہر پچھلے دور کے بعد انسان پہلے سے کئی گُنا زیادہ ترقی کر چکا ہے اور اپنی آسائشوں کا سامان بنا رہا ہے اور یہ صرف اور صرف سوچ جیسی عظیم طاقت کو لے کر ممکن ہوا ہے۔ انسان کے حالات، خیالات اور مزاج کی چاشنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ انسان خوش بھی ہے غمزدہ بھی ہے، امیر بھی ہے غریب بھی ہے، سفر میں بھی ہے اور سکون میں بھی، جاگ بھی رہا ہے اور سویا بھی ہوا ہے، چل بھی رہا ہے اور رُکا بھی ہوا ہے، ہوا میں اُڑ بھی رہا ہے اور پانی میں تیراکی بھی لگا رہا ہے، قتل بھی کر رہا ہے اور زندگی کو موت کے منہ سے نکال بھی رہا ہے، کہیں قید میں آزاد ہے اور کہیں آزادی میں بھی قید کی زنجیریں پہن رکھی ہیں، کہیں گناہ کر رہا ہے اور کہیں توبہٰ، کبھی تنہائی میں ہجوم بنا لیا تو کبھی ہجوم میں بھی تنہائی ہے، کہیں بول رہا ہے اور کہیں چپ چاپ ہے۔الغرض انسانی صورت ہمہ وقت سب کچھ کر بھی رہی ہے اور کچھ بھی نہیں کر رہی ۔ یہ انسانی صورت سوچ اور مزاجوں کی ایک بہت بڑی عمارت ہے جس میں پہاڑ بھی ہیں، ریگسان بھی، جنگل بھی اور سبزا بھی، پانی، آگ اور خشکی بھی، پھر پاؤں کے تلے مٹی بھی اور ہوا بھی ہے، کہیں خلا ہے اور سر پہ آسمان بھی دیکھ رہا ہے ، انسان کی صبح ہے، شام ہے،سفر ہے ، خوشی اور غم ہے اِن سب بدلتے حالات سے سامنا کرنے کے لیے اُسے ایک طاقت کی ضروت رہتی ہے جو اُس کے مزاج کو نفع اور سکون میں اضافہ کا باعِث بنے اور وہ طاقت پیسہ ہے یعنی جیب میں پیسہ ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کیسا ہے؟ اُسے پیسوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے چونکہ سارے معاملات پیسوں کے لین دین سے ہی طے پاتے ہیں۔ پھر انسان اُس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے چونکہ اُس نے اپنی دنیا میں رہنا جو ہے، وہ لوگوں کو دیکھ رہا ہے، سُن رہا ہے بدلتے حالات اور موسم اُس کے سامنے ہیں پھر وہ اپنی کھوپڑی میں موجود دماغ کو حرکت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسی حرکت دیتا ہے کہ اپنی سوچ اور اپنے وجود کو ہی تھکا دیتا ہے پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ واقع تھک جاتا ہے کہ اتنا کما لیا، اتنا بنا لیا ۔ اب اِس کو کہاں لگایا جائے پھر وہ کوئی راہ ڈھونڈتا ہے کہ جس راہ پر یا جس محفل میں اُس کی آواز ہو ۔اور اُس کی آواز اُس کے اپنے کانوں کو ٹکرائے اور لوگ سامنے بیٹھے اُسے فقط دیکھ رہیں ہوں۔ ہاں یہ راہ وہی ہے جو آپ سوچ رہے ہو یعنی نشہ اور دیگر عیاشیوں کی راہ ۔ ہمیں اِن راستوں سے بچنا ہے ۔ محتاط ہو کر چلنا ہے اور یہ ممکن ایسے ہوگا کہ اپنی سوچ پر نظر رکھنی ہے۔ اپنی سوچ کو بھی دیکھنا ہے کہ میں کیا سوچتا ہوں اور سنیں جونہی سوچ منفی ہوتی جائے گی خوف آپ کے وجود میں داخل ہو جائے گا۔ آپ نے اپنی سوچ کو مثبت کر کے چلنا ہے ۔ اپنی سوچ پر نظر رکھنی ہے پھر کمانا بھی ہے اور حالات کے اعتبار کے مطابق خرچ بھی کرنا ہے ۔ صرف کمایا اور اُڑ دیا حالات خراب اور کمایا اور صرف بچا بچا کر رکھا تو بھی حالات خراب ۔ آپ نے بیچ کی یعنی اعتدال کی راہ اختیار کرنی ہےنہ رقم کو بہت زیادہ خرچ کر دیا اور نہ ہی سارا کا سارا بچا لیا۔ جب آپ اعتدال یا درمیانی چال چلو گے تو رقم ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتی رھے گی اور ساتھ ساتھ بچتی بھی رھے گی اور یہ اعتدال یا میانہ روی کا بڑا فائدہ ہے کہ بچ بھی رہا ہے اور خرچ بھی ہو رہا ہے۔ آپ میانہ روی اختیار کرو اپنے تمام معاملات کے اندر نہ بہت زیادہ شاہ خرچ بن جاؤ اور نہ ہی بہت زیادہ حریص بن کر رہو۔ اعتدال اور درمیانی چال چلتے رہو گے تو آپ کے حالات سنبھلتے سنبھلتے اچھے حالات بن جائیں گے۔ آپ اعتدال کے راز کو بھی پا جاؤ گے، آپ کے پاس رقم بھی بچنا شروع ہو جائے گی اور آپ کے حالات بھی سنور جائنگے۔
    اِس معاملے کے اندر ایک مُفسر کی بات مجھے بہت پسند آئی ہے وہ کہتے ہیں کہ خوب دولت کماؤ اور خوب عِلم حاصل کرو، دولت اِس وجہ سے خوب کماؤ کہ دولت والوں کے سامنے آپ کو حقیر نہ سمجھا جائے ۔آپ کی آواز دَب نہ جائے اور آپ کی دولت والوں کی محفل میں تذلیل نہ ہو بلکہ آپ کی اہمیت اور آپ کی رائے کی قدر کی جائے ۔اور علم اِس لیے خوب حاصل کرو کہ عِلم والوں کے سامنے آپ کو جاہل اور گوار نہ سمجھا جائے بلکہ آپ کی رائے ، آپ کی سوچ ، آپ کے بولو ں کو اہمیت دی جائے ، آپ کی اصلاح اور آپ کی آواز پر غور کیا جائے ۔ اِس لیے صرف دولت دولت نہ کیا جائے اور صرف علم یا تعلیم کے پیچھے نہ بھاگا جائے بلکہ دین اور دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلا جائے تب ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں اور آپ سے لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ جونہی آپ اعتدال کے ساتھ رقم کا استعمال کرنے لگوگے آپ کے حالات خود بہ خود سنورنا شروع ہو جائیں گےچونکہ اعتدال یا میانہ روی کی چال کے اندر میرے رَبّ نے برکت رکھی ہے اور یہ اعتدال آپ کو آپ کے سارے چھوٹے بڑے معاملات کے اندر کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آپ نے بچانا بھی ہے اور لگانا ہےتبھی آپ کے حالات میں آپ اور زمانے کے اچھے حالات والوں میں بھی آپ پائے جاؤ گے ورنہ حالات خواہ اچھے ہوں یا برے آپ کا وجود آپ کی سوچ اُن حالات کے اندر صرف کوئی عدنیٰ کردار ادا کررہی ہوگی اور ساتھ ہی آپ کی سوچ کہیں ماضی کے الجھے ہوئے خیالوں میں بھی کھوئی ہوئی ہوگی ۔ اچھا شخص وہ ہے جو اپنی پوری زندگی کو اعتدال کے سانچے میں ڈھال کر رکھے، اُس کے سارے معاملات میں اعتدال ہو، لباس میں اعتدال ہو، کھانے پینے میں اعتدال ہو، بول چال میں اعتدال ہو، الغرض زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اعتدال ہو، درمیانی چال ہو، اور یہ اعتدال انسان کو ہر طرح کی رسوائی سے بچاتا ہے۔ جب آپ کی زندگی میں اعتدال کی اہمیت آ جائے گی تو آپ کامیاب ہونے لگو گے اور اعتدال کی منزلیں طے کرتے کرتے آپ یقین کی دولت کو پا جاؤ گے۔ آپ ایسے سکون کو پا جاؤ گے کہ اُس سکون کے دائرے سے آپ کو کوئی نکال نہیں پائے گا چونکہ اِس سلطنت کے بادشاہ آپ ہو نگے اور لوگ عوام بن کر آپ سے سیکھنے کو آئے گی ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور اعتدال کی چال چلنے میں کامیابی عطا فرمائے ۔ اللہ ہمیں اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی محبت نصیب فرمائے۔آمین۔
    قاسم علی درویش۔

اپنا تبصرہ بھیجیں