‘گائے کا پیشاب‘ پینے سے موقع پر ہی ’کورونا وائرس‘ ختم ہوجاتا ہے’

بھارت

بھارت کی قدیم ترین ہندو انتہاپسند جماعتوں میں سے ایک ہندو مہاسبھا جس کا اصل نام ’اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ تھا اس کے سربراہ سوامی چکرپانی مہاراج نے دعویٰ کیا ہے کہ ’گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے‘ سے ’کورونا وائرس‘ ختم ہوجاتا ہے۔

سوامی چکرپانی مہاراج نے بھارت بھر میں ’کورونا وائرس‘ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہندوستان بھر میں ’گائے موتر‘ پارٹیاں یعنی ’گائے کے پیشاب پینے‘ کی پارٹیوں کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’گائے کا پیشاب‘ پینے سے موقع پر ہی ’کورونا وائرس‘ ختم ہوجاتا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ کے مطابق ابتدائی طور پر ہندو مہاسبھا کے سربراہ نے ملک میں کورونا وائرس پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس وائرس کے ہندوستان میں آنے کو چند حکومتی وزرا کی جانب سے جانوروں اور پرندوں کو سرعام ذبح کرکے ان کا گوشت کھانے کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

جسمانی چربی کو گھلانا اب بہت آسان..!

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندو مہاسبھا نے بھارت میں ’کورونا وائرس‘ کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اسے ختم کرنے کی منصوبہ بندی بنالی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے ملک بھر میں ’گائے موتر‘ اور ’گائے گوبر‘ پارٹیاں منعقد کی جائیں گی۔

چکرپانی مہاراج کے مطابق بھارت میں پہلے ہی زیادہ تر لوگ سبزی خور ہیں، اس لیے یہاں اتنا زیادہ کورونا وائرس نہیں پھیلے گا اور اوپر سے ہمارے پاس ’گائے کا پیشاب اور گائے کا گوبر‘ اور گائے کی مدد سے تیار کی جانے والی دوسری مصنوعات بھی ہیں جن سے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وہ جلد ہی ’چائے پارٹی‘ کی طرز کی ’گائے موتر پارٹیاں‘ منعقد کریں گے جن میں بڑے کاؤنٹرز بنائیں گے، جہاں گائے کا پیشاب آسانی سے وافر مقدار میں موجود ہوگا اور جو لوگ اسے وہاں پئیں گے وہ فوری طور پر کورونا وائرس کے مرض سے نجات حاصل کرلیں گے۔

بھارت

انہوں نے بتایا کہ نہ صرف گائے کا پیشاب بلکہ گائے کے گوبر سے بنا کیک اور دوسری چیزیں بھی استعمال کرنے سے کورونا وائرس ختم ہوجاتا ہے اور اس ضمن میں گائے کے گوبر سے تیار ہونے والی اگر بتی بھی اثر دکھاتی ہے۔

سوامی چکرپانی مہاراج کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہولی کے فوری بعد ہی سب سے پہلی نئی دہلی میں ’گائے موتر پارٹیاں‘ منعقد کی جائیں گی جس کے بعد ملک بھر میں ان کا انعقاد کیا جائے گا۔

loading...

انہوں نے بتایا کہ کامیاب ’گائے موتر‘ اور ’گائے گوبر‘ پارٹیوں کے انعقاد کے سلسلے میں وہ ملک بھر کے ’گائے شالہ‘ یعنی گائے کے باڑوں سے رابطے میں ہیں اور ان کے تعاون سے ہی وافر مقدار میں ’پیشاب اور گوبر‘ پر مشتمل پارٹیاں منعقد کی جائیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عین ممکن ہے کہ بہت سارے لوگ ان کی باتوں پر یقین نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے سے کورونا وائرس ختم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بھارت میں کورونا وائرس کے آنے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ تلنگانہ سمیت دیگر ریاستوں کے کچھ نادان حکومتی وزرا نے سرعام جانوروں اور پرندوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھایا اور ان قتل کیے جانے والے جانوروں کی فریاد پر ہی کورونا بھارت آیا مگر وہ اسے بھی گائے کے پیشاب اور گوبر کی مدد سے ختم کرلیں گے۔

انہوں نے جانور اور پرندوں کے گوشت کھانے والے وزرا کو کہا کہ انہیں کورونا وائرس سے گڑ گڑا کر معافی مانگنی چاہیے۔

خیال رہے کہ بھارت میں اگرچہ 6 کورونا وائرس کیسز کی تصدیق کی گئی ہے تاہم درجنوں افراد میں کورونا کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے اور کورونا سے بچاؤ کے لیے جہاں بھارتی نیوی نے اپنی مشقیں منسوخ کی ہیں، وہیں کئی تقریبات بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی مقامات و تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں جب کہ مندروں اور مساجد میں بھی کم سے کم افراد کی موجودگی کے حوالے سے منصوبہ بندی بنائی جا رہی ہے۔

کورونا کی وجہ سے بھارت سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک جن میں ایران سرفہرست ہیں متاثر ہوئے ہیں جب کہ پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش و سری لنکا میں بھی کورونا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

(Visited 109 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں