کراچی میں 16 لوگ مرے لیکن سب حکام آرام سے سوئے رہے ، چیف جسٹس

کے الیکٹرک کیخلاف
Loading...

کراچی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں جو گرجائیں گے اور والوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، اٹارنی جنرل، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ریلوے سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھ کر سنایا اور کراچی ماس ٹرانسپورٹ پلان کی کاپی عدالت میں پیش کی ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گرین لائن پروجیکٹ اور اورنج لائن مکمل ہوچکا اور یہ جلد آپریشنل ہوجائیں گے جب کہ دیگر پر کام ہورہا ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک پیسہ فراہم کررہے ہیں۔

اے جی سندھ کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مکالمہ کیا کہ جس طرح نقشے دیتے ہیں اس طرح کام بھی ہونا چاہیے، یہ فیوچر ٹرانسپورٹ پلان نہیں ہے، آپ خرچا کرنا چاہ رہے تھے اور پیسہ بانٹنا چاہ رہے تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ گرین لائن سرجانی ٹاؤن سے شروع ہورہا ہے اور اس پر کام تین سال پہلے شروع ہو ا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تین سال میں تو پورے ایشیاء میں روڈ بن جاتیں، پیسہ ہے، بندے ہیں، ایک سال میں تمام پروجیکٹ کیوں مکمل نہیں ہوئے، اتنی بڑی بڑی روڈز ہیں ایک سال میں بن جاتی ہیں۔

حکام نے عدالت کو بتایا کہ اورنج لائن اگلے سال تک آپریشنل کردیں گے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اس ماہ کیوں آپر یشنل نہیں ہوسکتا؟ آپ لوگ پیسے نہیں دیتے، ناظم آباد چلے جائیں کوئی کام نہیں ہورہا ہے، ہر وقت کوئی نہ کوئی بدلتا رہتا ہے، لوگوں کو خواب دکھاتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی عذاب ہوگئی ہے، لوگ مر رہے آپ لوگ بین بجا رہے ہیں، یہ سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں، گر جائیں گے۔

Loading...

وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے بھائی کے خلاف انکوائری ملتان سے لاہور دفتر منتقل

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جو لوگ کراچی میں کام کررہے ہیں ان کو کراچی کا کیا پتا ؟ جتنے فلائی اوورز بنائے ہیں آپ خود ہی اگلے 5 سال میں گرادیں گے، ملک کے لیے کام کریں، جب تک ڈنڈا اوپر سے آتا نہیں آپ لوگ کام نہیں کرتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیماڑی کا برج گرنے والا ہے کیماڑی کا رابطہ کراچی سے ختم ہو جائے گا۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ یہ بسیں روڈزپر کب چلیں گی؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ بسیں چل رہی ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ نے جواباً کہا کہ شام کو ناظم آباد چلے جائیں وہاں سے ائیرپورٹ 4 گھنٹے میں پہنچیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ یہاں 1955 والی بسیں چل رہی ہیں، ملک بھر کی کچر ابسیں یہاں چل رہی ہیں،  یہ بسیں تب چلیں گی جب میں گھر چلاجاؤں گا، میرے دوسرے ساتھی چلےجائیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کل کے واقعے میں اتنے لوگ مرگئے، سب آرام کی نیند سوئے ہیں، اس پر اے جی سندھ نے بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے20 افسران کو معطل کیا گیا ہے۔

عدالت نے اے جی سندھ سے ناظم آباد میں تعمیر کی جانے والی غیر قانونی عمارتوں کی رپورٹ طلب کرلی۔

(Visited 44 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں