تاریخ کی بہترین خواتین کرکٹرز ….!

Loading...

تاریخ کی ایسی بہترین خواتین کرکٹرز جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے۔

ایلاسی پیری

ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جنہوں نے خواتین کرکٹرز میں اپنا نام بنایا ۔ وہ اپنے ملک کی طرف سے فٹ بال بھی کھیلتی رہی ہیں۔ 3نومبر 1990کو پیدا ہونے والی ایلاسی پیری نے 15فروری 2008 کو انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ وہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ باؤلنگ بھی کرتی تھیں۔ ایلاسی پیری ن ے اپنی آل راؤنڈ پرفارمنس سے آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کو کئی میچ جتوائے۔ اس وقت ان کا شمار بہترین خواتین کرکٹرز میں ہوتا ہے وہ پہلی خاتون کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹی 20میچوں میں ایک ہزار رنز بنائے ہیں اور 100وکٹیں بھی اپنے نام کی ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز (213)بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے جبکہ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 150وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ انہوں نے کئی اعزازات بھی اپنے نام کئے ہیں۔

میری زونے کیپ

میری زونے کیپ جنوبی افریقہ کی قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتی ہیں وہ 4جنوری 1990ء کو پیدا ہوئیں اور اس وقت وہ 30برس کی ہو چکی ہیں۔انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کی پہلی خاتون کرکٹر ہیں جنہوں نے خواتین کے ایک ٹی 20انٹرنیشنل میچ میں ہیٹ ٹرک کی۔

میری زونے کیپ نے 10مارچ 2009ء کو آسٹریلیا کے خلاف پہلا ایک روزہ میچ کھیلا۔ انہوں نے پہلا ٹی 20میچ بھی آسٹریلیا کی خلاف کھیلا۔کیپ نے صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا جو بھارت کے خلاف تھا۔وہ دائیں ہاتھ سے میڈم فاسٹ بائولنگ کرتی ہیں اور دائیں ہاتھ سے ہی بلے بازی کے جوہر دکھاتی ہیں۔ وہ اپنی آل رائونڈر کارکردگی سے اپنی ٹیم کے لیے کئی کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔ انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں 19رنز بنائے جبکہ 108ایک روزہ میچز میں ان کا سکور 1834رنز ہے۔

اسی طرح وہ 78ٹی 20میچز میں حصہ لے چکی ہیں جس میں انہوں نے 946رنز بنائے۔میری زونے کیپ نے ایک روزہ میچز میں23.40رنز کی اوسط سے 123وکٹیں اپنے نام کیں‘ جبکہ ٹی 20میچز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 58ہے۔جو انہوں نے 20.65رنز کی اوسط سے حاصل کیں۔

ثنا میر

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ثنا میر آل رائونڈر ہیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی ہے۔5جنوری 1986ء کو ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی ثنا میر پاکستان کی خواتین کرکٹرز  ٹیم کی کپتان بھی رہ چکی ہیں۔انہوں نے 226بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں جن میں سے 137میچز میں انہوں نے کپتان کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے۔وہ پاکستان کی پہلی خاتون بائولر ہیں جنہوں نے ایک روزہ میچوں میں 100وکٹیں حاصل کیں۔2018ء میں انہیں آئی سی سی نے ایک روزہ میچوں کی نمبرون بائولر قرار دیا۔ 2010ء اور 2014ء میں ثناء میر نے ایشین گیمز میں پاکستان کی قیادت کی اور دو گولڈ میڈل جتوائے۔ ستمبر 2017ء میں بسمہ معروف کو ایک روزہ میچز کی کپتان بنا دیا گیا کیونکہ ثنا میر کپتانی سے دستبردار ہو گئی تھیں۔2008ء کے خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچوں میں انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔

Loading...

پی ایس ایل کے بقیہ 4 میچز کب ہونگے ….؟

ثناء میر نے 120ایک روزہ میچوں میں 17.91 رنز کی اوسط سے1630رنز بنائے۔انہوں نے تین نصف سنچریاں بھی بنائیں انہوں نے 106ٹی 20میچز میں حصہ لیا اور 14.07کی اوسط سے 802رنز بنائے۔بائولنگ کے میدان میں ثناء میر کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی۔انہوں نے ایک روزہ میچز میں  24.27رنز کی اوسط سے 151وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹی 20میچز میں انہوں نے 23.42رنز کی واسط سے 89وکٹیں اپنے نام کیں۔ثناء میر کی ایک روزہ میچز میں بہترین کارکردگی 32رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہیں۔ اسی طرح ٹی 20میچز میں انہوں نے ایک میچ میں 13رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

23مارچ 2012 ء کو ثناء میر کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 25 اپریل 2020 کو ثناء میر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

سارا ٹیلر

ان کا تعلق انگلینڈ سے ہے۔ وہ 20مئی کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ وہ وکٹ کیپر تھیں اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی بھی کرتی تھیں اور وہ جاحانہ انداز میں کھیلتی تھیں۔ وہ کائونٹی کرکٹ بھی کھیلتی ہیں۔ یکم ستمبر 2006ء کو وہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1000 رنز بنانے والی سب سے کم عمر خاتون بلے باز بن گئیں جب انہوں نے ٹانٹن میں بھارت کے خلاف 75 رنز ناٹ آئوٹ بنائے۔ سارا ٹیلر نے اپنی ٹیم کو کئی فتوحات دلوائیں۔ انہوں نے 9 ٹیسٹ میچز کھیلے اور19.66 کی اوسط سے295 رنز بنائے اور ان کی اوسط 39.18 رنزرہی۔ انہوں نے 89 ٹی 20 میچز میں 29 رنز کی اوسط سے2175 رنز بنائے۔ انہوں نے وکٹوں کے پیچھے بھی کئی کیچز پکڑے اور سٹمپ آئوٹ بھی کئے۔

وہ کچھ عرصہ کھیل سے دوررہنے کی آرزومند تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ذہنی طورپر فٹ نہیں تھیں۔ ستمبر 2019ء سارا ٹیلر خرابی صحت کی بناء پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں سارا ٹیلر اس کا حصہ تھیں اور انہوں نے انگلینڈ کی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2014ء میں انہیں آئی سی سی کی بہترین خاتون کرکٹر قرار دیا گیا۔

سمریتی مندھانا

بھارت سے تعلق رکھنے والی سمریتی مندھانا18جولائی 1996ء کو ممبئی میں پیدا ہوئی۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ بائولنگ کرتی ہیں۔ وہ بڑی ذہین کرکٹر ہیں اور انہوں نے کیریئر کے شروع میں ہی یہ ثابت کر دیا کہ ان میں ایک بڑی کرکٹر بننے کی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انہوں نے دو ٹیسٹ میچز کھیلے اور 27 کی اوسط سے 81 رنز بنائے، 51 ایک روزہ میچز میں انہوں نے 43.08 کی اوسط سے 2025 رنز بنائے جبکہ 74 ٹی 20 میچز میں سمریتی مندھانا نے 25.44 کی اوسط سے 1705 رنز بنائے۔

وہ ایک عمدہ فیلڈر بھی ہیں کرکٹ کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ آگے چل کر بہت عمدہ کرکٹ بنیں گی۔ انہوں نے اگست 2014ء میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 22اور دوسری اننگز میں 51 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں معاونت کی۔ مندھانا نے آسٹریلیا کے دورے میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ہوبارٹ میں کھیلے گئے ایک روزہ میچ میں 109 گیندوں پر 102 رنز بنائے۔

(Visited 29 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں