مودی اور ہٹلر میں مماثلت ….!

مودی اور ہٹلر
Loading...

مودی اور ہٹلر غریب گھرانوں میں پیدا ہوئے، 8 سال کی عمر میں عملی زندگی کا آغاز کیا اور بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بھی فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔

مودی 17 ستمبر 1950 کو ہندوؤں کی کمتر سمجھی جانے والی ذات تیلی سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی عمر میں باپ کے ساتھ ریلوے سٹیشن پر چنے بیچتا تھا جبکہ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ مودی کے 5 بہن بھائی تھے۔ فن تقریر میں مہارت تھی اور فنون لطیفہ سے بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ 8 سال کی عمر میں ہی آر ایس ایس میں شامل ہوا اور آر ایس ایس کے کٹر ہندو انتہا پسندانہ خیالات اپنا لیے۔

196 میں میٹرک کیا اور اسی سال گھریلو حالات کی وجہ سے گھر سے بھاگ کر آشرم میں زندگی گزاری۔ کچھ ایسا ہی ایڈولف ہٹلر بھی تھا۔ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔

ہٹلر کے بھی پانچ بہن بھائی تھے اور بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بھی فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ ہٹلر نے بھی 8 سال کی عمر میں عملی زندگی کا آغاز کیا اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر گھر چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور ابتدائی زندگی ہاسٹل میں گزاری تھی۔ ہٹلر اور مودی دونوں ہی واجبی سی تعلیمی قابلیت رکھتے تھے۔

مودی عملی زندگی کے دوران 77-1975 میں آر ایس ایس پر پابندی لگنے کے بعد انڈر گرائونڈ چلا گیا۔ اس نے روپوشی کے دوران ایک کتاب دی سٹرگل آف گجرات ‘‘ لکھی۔ 1985ء میں آر ایس ایس نے نریندر مودی کو اپنے نمائندے کے طور پر بی جے پی میں بھیجا‘جس کے بعد مودی نے اپنی غربت کا رونا روکر اقتدار کا سفر طے کیا اور 2001 میں گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا۔

2002 میں مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کروایااوراسی وجہ سے کئی ممالک نے اس کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگادی۔ مودی نے مسلمانوں کے قتل عام کو فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ بتایا اور ہندو توا ‘‘ کا پرچار کیا۔

Loading...

2014 میں نریندر مودی بھارت کا وزیر اعظم بن گیا‘ جس کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔کچھ ایسا ہی معاملہ ہٹلر کا رہا۔ ایڈولف ہٹلر نے عملی زندگی کا آغاز جرمن فوج میں شمولیت سے کیا تھا۔ ایڈولف ہٹلر نے 1920 میں نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (نازی پارٹی) میں شمولیت اختیار کی اور غریب خاندان سے ہونے کا شور کرکے 1921ء میں پارٹی چیئر مین منتخب ہوگیا تھا۔

1930ء میں جرمنی کا وزیراعظم (چانسلر) بنا۔ ہٹلر کے نازی نظریات انتہا پسندانہ تھے۔ہٹلر نے بھی کتاب مائی سٹرگل‘‘ لکھی۔ 1939ء میں ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا ‘جو دوسری جنگ عظیم کے آغاز کا باعث بنا‘جس میں کروڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔

کسی کو خواجہ سرا کہہ دینا سب سے بڑی گالی کیوں ہے؟

اپنے انتہا پسندانہ نظریات کے پرچار کیلئے مودی اور ہٹلر دونوں کا طریق ایک جیسا ہی رہا۔ مودی نے گجرات میں بچوں کے نصاب میں تبدیلی کرکے برین واشنگ کی ‘نصاب میں اقلیتوں کو بیرونی افراد قرار دیا گیا۔ ہٹلر کی جانب سے بھی بچوں کے تعلیمی نصاب میں یہودیوں کے خلاف مواد شامل گیا تھااور ان کے خلاف انتہاپسندانہ نظریات بچوں کو منتقل کیے گئے۔

مودی اور ہٹلر دونوں کی جانب سے اپنی ریاست میں اقلیتوں کو ہدف بنایا گیا۔ ہٹلر نے یہودیوں اور مودی نے مسلمانوں کو بطور ِخاص نشانہ بنایا۔ہٹلر نے اقتدارمیں آنے کے بعد تمام اختیارات اپنے قبضے میں کرلیے تھے اور نچلی سطح سے اختیارات ختم کردیا تھا۔

حالیہ برسوں میں مودی کو بھی تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی اس حوالے سے اقدامات کررہا ہے۔ جھوٹ اور فریب پر مشتمل باتوں کے ذریعے پروپیگنڈا کرنا بھی دونوں کا خاصہ رہا۔

اس حوالے سے مودی کا وزیرپروپیگنڈا‘‘ امیت اور ہٹلر کے پروپیگنڈا منسٹر جوزف بوبل کا کردار بھی یکساں رہا ہے۔ جوزف بوبل نازی پارٹی کا خطرناک ترین شخص سمجھا جاتا تھا‘ جبکہ بے جے پی صدر امیت شاہ کو سازشیں کرنے کے حوالے سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

(Visited 33 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں