میرے فادر ورلڈ کے بسٹ فادر ہیں!

والد
Loading...

میرے فادر ورلڈ کے بسٹ فادر ہیں یہ میں اکثر کہتی ہوں لیکن جب میں نے یہ بات اپنے فادر سے کی تو وہ مسکراتے ہوئے نہایت اطمینان بھرے لہجے میں بولے ‘ بیٹا ہر بیٹی کے لیئے اسکے والد دنیا کے بہترین والد ہیں ‘ تب مجھے لگا بابا ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ کسی بھی بیٹی کے لیئے اسکے والد بہترین ہو سکتے ہیں کسی بھی بیٹی کے لیئے اسکے والد ہی اسکے آئیڈیل ہو سکتے ہیں بیٹی کے لیئے رول ماڈل اسکا باپ ہی ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔
ایک باپ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ محافظ ، سائبان ، رہبر ، ساتھی اور بہترین دوست بھی ہوتا ہے ۔ جیسے کہ میں اگر اپنے والد محترم کی بات کروں تو میرے والد میرے لیئے سب کچھ ہیں ۔ وہ ، وہ سب کچھ ہیں جو شائد میں لکھ یا بول نہیں سکتی لیکن میں محسوس کر سکتی ہوں ۔

اپنے والدین کے لیے وقت نکالیں… ایسا نہ ہو…

کسی جاننے والی نے مجھ سے پوچھا کہ اپنی کوئی ایسی خواہش بتاو کہ جس کی پوری ہونے میں تم نے ضد کی ہو ۔ تو یقین جانیئے میں سوچ میں پڑ گئی کیونکہ میں بالکل بھی ضدی نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں سوچنے لگی کہ شائد کبھی کسی خواہش کے لیئے میں نے ضد کی ہو ۔ اب وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے ہوئے بولی تو کیا ایسی کوئی خواہش نہیں جس کا اظہار تم نے اپنی فیملی سے کیا ہو ۔ کیا تمہاری کوئی خواہش پوری نہیں کی جاتی وہ ہنسنے لگی ۔
تو میں نے نہایت اطمینان اور تسلی سے اسے جواب دیا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اپنی کسی خواہش کا اظہار کیا ہو ۔
اب کی بار وہ مجھے تعجب سے دیکھنے لگی تو میں نے اسے کہا کہ میرے والد محترم میری ہر خواہش میری زبان تک آنے سے پہلے ہی پوری کر دیتے ہیں میری ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ میری زبان تک بھی نہیں آتی تو میں کیسے کہ دوں کہ فلاں خواہش یا فلاں کام میرے کہنے یا بتانے پر انجام پزیر ہوا ۔
وہ مسکرا کر میری جانب دیکھنے لگی پھر بولی چلو آج اپنی کسی ایسی خواہش کے بارے میں بتاو کہ جو ابھی بس تمہارے دماغ میں ہی تھی اور وہ پوری کر دی گئی ۔ اور تم خود بھی سمجھ نا پائی کہ آخر یہ ہوا کیسے ؟

Loading...

اسکی یہ بات سن کر میرے چہرے پر مسکان سی پھیل گئی اور مجھے اسکے اس سوال کا جواب دینے میں لمحہ بھی نا لگا ۔ ایسی ایک نہیں بالکہ ہزاروں خواہشیں ہیں لیکن چلو ابھی حال ہی کی بات لے لیتے ہیں ۔
میں نے اسے بولا میرے چہرے کو دیکھو وہ دیکھنے لگی پھر میں نے اسے کہا چلو اب اس کو دیکھو اب کی بار میرا اشارہ میرے ہاتھ میں موجود موبائل کی سکرین پر چند دن پہلے کی میری ایک تصویر پر تھا ۔ اب وہ ادے دیکھنے لگی ۔ پھر میں نے پوچھا بتاو کیا تمہیں میرے موجودہ پہلے اور تصویر والے چہرے میں کوئی فرق نظر آیا ؟ اس نے ایک نظر تصویر پر ڈالی پھر لمحہ بھر میرے چہرے کو دیکھا پھر بولی بس تصویر میں گلاسسز ( عینک ) ہیں جو کہ ابھی آپ کے چہرے پر نہیں ہیں ۔

اب کی بار میں مسکرائی اور میں نے اسے کہا جی بالکل آپ نے بجا فرمایا ۔ میری خواہش تھی کہ بس کسی طرح میری ان گلاسسز سے جان چھوٹ جائے یہ میری اپنی خواہش تھی ۔ میری ذاتی خواہش مہں نے اپنے الفاظ پر مزید زور دیتے ہوئے کہا ۔ لیکن میرے والد یہ بات شائد جانتے تھے کیسے اس بارے میں میں کچھ نہیں کہ سکتی ۔ میری یہ خواہش میرے والد محترم کی بھی خواہش بن چکی تھی ۔ میں اس بات کا اندازہ بخوبی لگا سکتی ہوں کہ انہیں میری یہ خواہش پوری کرنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا میں جانتی ہوں کہ وہ کافی عرصہ پہلے سے میرے لیزر ٹریٹمنٹ کے بارے میں سوچ اور کوشش کر رہے تھے اور آخر انہوں نے میری یہ خواہش پوری کر دی ۔ اور اب الحمداللہ میرے چہرے پر گلاسسز نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یہ میری ایسی ایک خواہش تھی کہ جس کا اظہار میں نے کبھی اپنی فیملی سپیشئلی اپنے فادر سے نہیں کیا تھا ۔ یہ میری خواہش تھی لیکن میری یہ خواہش جانتے ہوئے میری فیملی نے اسے اپنی خواہش مان لیا ۔ پھر جب میری والدہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے جو کچھ پیسے جمع کر رکھے تھے انہوں نے وہ فورًا میرے فادر کو دیئے اور کہا کہ یہ کچھ پیسے بھی رکھ لیں شائد انکی ضرورت پڑ جائے ۔ میرے والد صاحب نے کافی ہوسپٹلز سے اس بارے میں پوچھا اور آخر کار چند دن پہلے راولپنڈی کے مشہور ہوسپٹل ” Ammanat eye hospital ” میں میرا یہ ٹریٹمنٹ کرایا گیا ۔ جو کہ پاکستان کے کے سینیئر ڈاکٹر سر عامر اسرار نے کیا ۔ جسکی وجہ سے الحمداللہ اب مجھے گلاسسز لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
زندگی میں صرف والدین کا رشتہ ہی ایسا رشتہ ہے جو جو بنا مطلب کے آپ سے پیار کرتے ہیں جو آپکی خواہش سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں اور اپنی تمام خواہشوں بلکہ ضرورتوں کو بھی کسی اندھیری کال کوٹھری میں قید کر دیتے ہیں ۔
اس لیئے میں ہمیشہ کہتی ہوں میرے والدین ورلڈ کے بسٹ والدین ہیں اور میری فیملی میری جنت ہے ۔ فیملی کسی جنت سے کم نہیں ہوتی اللہ تعالی میری اور آپکی اس جنت کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ اللہ تبارک وتعالی ہم سب کے والدین کو صحت بھری زندگی اور خوشیاں عطا کریں ۔ اور ہمیں انکے حق میں بہتر کریں آمین ثم آمین ۔
تحریر : زونیرہ شبیر ( زونی )
پنڈیگھیب ، اٹک

(Visited 74 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں