کیا ایسی پورن فلموں‌ کی کمی رہ گئی تھی …..

غیر اخلاقی فلمیں

نیویارک : ایک طرف پوری دنیا کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے اور دوسری طرف مفاد پرست لوگ اس خوف اور بیماری کے ٹرینڈز کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی شہرت بنانے اور پیسہ کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اب تک تو پورن اداکارائیں اور ماڈلز ہی سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کے ٹرینڈز میں پوسٹس کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی تھیں

لیکن آپ کو یہ سن کر شدید حیرت ہو گی کہ اب کورونا وائرس کے نام سے پورن فلمیں بھی بننے لگی ہیں۔ ویب سائٹ goat.com.au کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق پورن فلمیں اس تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں کہ ان کے لیے ’کورونا وائرس پورن‘ کے نام سے ایک باقاعدہ کیٹیگری بن گئی ہے۔ فحش فلموں کی صرف ایک ویب سائٹ ’پورن حب‘ پر ہی اب تک اس نوع کی 123 فلمیں پوسٹ ہو چکی ہیں۔

ایک طرف ان فلموں کے ٹائٹلز میں کرونا وائرس کا نام استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ان فلموں میں کرداروں نے ہیزمٹ (کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا حفاظتی باڈی سوٹ) اور فیس ماسک وغیرہ پہن رکھے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان فلموں کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سیکس ڈول کا نیا ورژن کیسا ہوگا ؟ کمپنی نے اعلان کردیا

چنانچہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی فلموں کے ذریعے محض کورونا وائر س کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فحش مواد کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

(Visited 725 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں