کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق نئی تحقیق سامنے آگئی….!

Loading...

کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماہرین دن رات تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں. کرونا وائرس کے متعلق پہلی بار ہزاروں ماہرین نے اکٹھے ایک ہی دعوی کیا ہے.

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کھانسی کرنے اور چھینکنے کے علاوہ ہوا کے ذرات میں موجود ہوتا ہے. کرونا وائرس کے ذرات اس طرح ہوا کے ذرات کے ساتھ مل کر سفر کرتے ہیں اور ادھر ادھر پھیل جاتے ہیں جس سے لوگ آسانی سے متاثر ہو سکتے ہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ انسان کے ناک اور منہ سے نکلنے والے ذرات زیادہ فاصلے پر موجود دوسرے انسان کو بھی آسانی سے متاثر کر سکتے ہیں. لیکن کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ذرات صرف کچھ فاصلے تک جاتے ہیں اور کچھ دیر ہوا میں موجود رہتے ہیں.

Loading...

کیا مصنوعی اینٹی باڈیز سے کرونا کے مریضوں کا علاج ہو سکے گا ….؟

اسی لیے اس وائرس کو ہوا سے پھیلنے والا وائرس بھی کہہ سکتے ہیں. اس کے متعلق 32 ممالک کے سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کو ایک خط لکھا اور اس خط کی تفصیل آئندہ ہفتے سائنسی جرنل میں شائع کی جائے گی.

عالمی ادارہ صحت کے کچھ ماہرین کا پہلے یہ کہنا تھا کہ کھانسی اور چھینکنے کے دوران منہ سے نکلنے والے ذرات کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد زمین پر گر جاتے ہیں لیکن اب یہی ماہرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ذرات کافی دیر تک ہوا میں موجود رہتے ہیں اور ہوا کے دوش پر سفر کرتے رہتے ہیں اور وائرس کا پھیلاؤ جاری رہتا ہے .

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات درست ثابت ہوجاتی ہے تو پھر لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دفتروں اور بند کمروں میں بھی ایک دوسرے سے دور رہیں اور این 95 ماسک کا استعمال کریں تاکہ اپنے جسم میں وائرس کو داخل ہونے سے روک سکیں اور عالمی ادارہ صحت کو بھی چاہیے کہ وہ اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ نکالے.

(Visited 45 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں