کرونا سے متاثرہ ماں بچے کو دودھ پلاسکتی ہے یا نہیں…؟ ماہرین نے بتادیا ..!

متاثرہ ماں
Loading...

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اب تک ہلاک 7 لاکھ 18 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں. سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوچکی تھیں۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کے حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا تھے. اب ماہرین نے ریسرچ کے ذریعے سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ کیا کرنا سے متاثرہ ماں کے دودھ کے ذریعہ بچے میں کرونا وائرس منتقل ہوسکتا ہے؟

جو ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اگر وہ کرونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے تو کیا اس کو اپنے بچے کو دودھ پلانا جاری رکھنا چاہیے یا نہیں؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ماں بھی اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔ ریسرچ کے ذریعے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں کرونا وائرس منتقل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے.

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے ادارے کو پوری دنیا سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچہ کرونا وائرس کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے عام طور سے محفوظ رہیں گے۔

Loading...

کرونا وائرس کا مریض کتنے دن تک وائرس پھیلا سکتا ہے….؟

ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 8 لاکھ 20 ہزار بچے ماں کا دودھ نہ ملنے کے وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا خواتین کو اپنے نومولود بچے کو اپنا دودھ پلاتے ہوئے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے متعلق جتنے بھی ادارے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ والدین کی حوصلہ افزائی کریں کے بچے کو ماں کا دودھ پلائیں تاکہ بچے کی صحت اور زندگی کو محفوظ بنایا جاسکے.

ماہرین نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا دنیا کے 136 ممالک ایسے ہیں جہاں پر ان متبادل دودھ کے ڈبوں کے لیے سخت قوانین بنائے گئے ہیں.

یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بچوں کو چھ ماہ تک اس کے علاوہ بچے کچھ نہیں دینا چاہیے. 6 ماہ کی عمر کے بعد ماں کے دودھ کے ساتھ بچوں کو دوسری غذائیں دی جاسکتی ہیں .

(Visited 19 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں