کیا ہم اپنی شرم و حیا والی تہذیب کھو رہے ہیں؟

شرم و حیا

حضور پاکؐ شرم و حیا کے بارے میں خاص ارشاد پاک ہے کہ ” جس شخص میں حیا باقی نہ رہے پھر وہ جو چاہے کرے “

اور ان کا فرمان مبارک آج کل ہمارے معاشرے میں پوری صادر آتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی تباہ کاری میں جہاں بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں دین سے دوری والدین کی نافرمانی مقدس رشتوں کا احترام نہ کرنا وہاں سب سے بڑی اور اہم وجہ ” شرم و حیا کی کمی ” ہے۔ جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا.

آج کے معاشرے میں صرف بچوں کی تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہے اور والدین اپنے لاکھوں روپے ان کو پڑھانے پر خرچ کر رہے ہیں وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ان کی تربیت بھی پوری ہے کہ نہیں۔ ان کی تعلیم اندر بھی جا رہی ہے کہ صرف باہر سے نکلے جا رہی ہے ۔ آج کے سکولوں میں آرٹ کے نام پر بچوں کو ڈانس سکھایا جا رہا ہے ۔ اور بچوں کے والدین سے لاکھوں بٹورے جا رہے ہیں ۔ کہ وہ کس طرح ان کے بچوں سے حیا ختم کر رہے ہیں۔

آج کل کا بےہودہ اور آزاد میڈیا جو کہ چینلز پہ تو شور مچاتا ہے مگر خود ایک سال سے زائد عرصے میں جب سے انڈین میڈیا کا بین ہوا ہے ۔ پاکستان میڈیا نے اسکی زرا بھی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ ایسے ایسے بے ہودہ ڈرامے فلمیں اور آرٹ کے نام پر بے حیائی نے تمام حدیں پار کر دی ہیں ۔ اور سونے پر سہاگہ کوئی روکنے والا نہیں ہے ۔ مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب ملک میں نام نہاد ترقی نہیں ہوئی تھی ۔ اور آج سے 40 سال پہلے تک حیا اور تمیز ہر جگہ تھی اور طریقہ و سلیقہ ہماری تہذیب میں نظر آتا تھا ۔ مگر آفرین ہے آج کا معاشرہ اس سے کوسوں دور ہوتا جا رہا ہے۔

دوزخ کا پہلا حصہ اور فکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم…

آج کل کی اکثر شادیوں پر نظر ڈالیں تو دلہا دلہن کسی انداز سے بھی دلہا دلہن نہیں لگ رہے ہوتے اس سے پہلے ہی ساری باتیں ہو چکی ہوتی ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب لڑکی لڑکے کی باتیں یعنی کہ آج کل کی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہوتی تب ذیادہ اچھی اور کامیاب شادیاں ہوا کرتی تھیں اور آج طلاق کی شرح انتہا کو چھو رہی ہیں۔

خدارا! میرا پیغام تمام امت مسلمہ اور تمام پاکستانیوں کے لیئے ہے کہ اپنی کھوئی ہوئی روایات کو واپس لائیں اور انکو اپنائیں ۔ شرم و حیا کو عام کریں اور عورتوں کو کہنا ہے۔۔ اپنے آپ کو زین اسلام پر ڈھالیں۔

مہمان مصنفہ

(Visited 187 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں