اپریل کے آخر تک پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا سے متعلق اقدامات سے متعلق بریفنگ دی۔

ہم کورونا وائرس کے تدارک کے لیےکوشش کر رہے ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فلائٹ آپریشن اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی شروع کرنے پر غور کیا گیا، اس کے علاوہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا دائرہ کار ملک بھر میں بچھانے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپریل کے آخر تک پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے، جس طرح سےکورونا بڑھتا جارہا ہے،اسپتال میں لوگوں کی تعدادبڑھ جائے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تین ہفتے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا،لاک ڈاؤن کے پیش نظراسکول،فیکٹریاں اوردکانیں بند کیں، اصل لاک ڈاؤن ہم نےشہروں میں کیا ہے،ہم نے 22 کروڑ لوگوں کوکھاناپینافراہم کرنا ہے، اس لیے ہم نےفیصلہ کیا ہے کہ زرعی شعبےکو مکمل طورپر کام کرنے دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبےکوکہا ہےکہ ان کے لیے کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے اور ہم 14تاریخ سےتعمیراتی سیکٹرکو بھی کام کرنےکاکہا ہے، اس وقت ہمارا سب سے بڑا چیلنج غریب طبقےکوریلیف دینا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ کل سے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کوپیسےفراہم کیےجائیں گے،17ہزارمقامات سے 12ہزارروپے مستحق افراد میں تقسیم ہونگے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم 144ارب روپےنچلے طبقے تک تقسیم کردیں گے،احساس پروگرام میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے، ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں کا ڈیٹا آرہاہے،جن کی جانچ نادراسےکرائی جائیگی۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں