آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کیا ہے ؟

آرمی ایکٹ

یکم جنوری کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی تھی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ آرمی ایکٹ میں ایک نئے چیپٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔

فوجی سربراہان کی مدت ملازمت کے حوالے سے بلوں کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور بل کے تحت بری، بحری اور پاک فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کیلئے توسیع کر سکیں گے۔

آرمی چیف توسیع، مسلم لیگ ن کی ’’غیرمشروط حمایت‘‘ متزلزل

بل کے تحت آرمی ایکٹ کے سیکشن 8 اے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سالوں کیلئے جنرل رینک کے آفیسر کی چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرری کر سکیں گے۔ بل کے مطابق شق 8 بی کے تحت تعینات آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کیلئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت مزید تین سالوں کیلئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کر سکیں گے۔

بل کی شق 8 سی کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی ریٹائرمنٹ اور ملازمت کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور کسی جنرل کی ملازمت کی مدت کی شرائط اور محدودات کا تعین چیف آف آرمی سٹاف یا آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے ضمن میں نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کی عمر 64 سال سے زیادہ نہ ہو۔ دوبارہ تعیناتی یا تقرری کیلئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 سال مقرر کی گئی ہے۔

(Visited 236 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں