کرونا تیرا شکریہ ……!

ویسے کسی مسلمان تو کجا کسی انسان کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ انسانوں کے کسی قاتل کی تعریف و توصیف کرے، مگر شریعت میں بیماری کو برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے کہ یہ انسان سے اس کے گناہوں کو دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ پھر اگر بیماری کرونا جیسی ہو تو اسے برا بھلا کہنا تو دور، اس کا شکریہ ادا کرنے کا دل کرتا ہے۔

شکریہ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے باعث اسکول، کالج، یونیورسٹیاں وغیرہ بند ہیں اور بچے چھٹیاں انجوائے کر رہے ہیں، نہ اس وجہ سے کہ سرکاری و نجی دفاتر بھی بند ہیں۔ نہ ہی کاروباری مراکز اور مارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے میں اس کا شکر گزار ہوں کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے مسائل اور شدید دقت کا بھی سامنا ہے۔ ہم بھی عجب ہیں کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ ہماری چھٹیاں ہوں، مگر دوسرے لوگوں کی ان کے کام کی جگہوں پر موجودگی بھی چاہتے ہیں۔ کیا چھٹی صرف ہمارا ہی حق ہے؟

دراصل کورونا کا شکریہ ادا کرنے کا مقصد میرا یہ ہے کہ اس نے زندگی کی حقیقت سب کے سامنے کھول کر بیان کر دی ہے۔ اگر کورونا نہ ہوتا تو ہم اپنی پرانی ڈگر پر مادیت سے معمور زندگی میں ہی دھنسے رہتے۔ ہمیں کبھی احساس ہی نہ ہوپاتا کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم چیزیں کون ہیں۔ کون لوگ ہیں ہماری حفاظت جن کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔

کورونا نے ہی ہمیں احساس دلایا کہ ہمارے اردگرد زیادہ تر چیزیں عارضی ہیں جن کی ہماری زندگی میں کوئی اہمیت نہیں۔ کورونا کے باعث ہی ہمیں علم ہوا کہ کام، جم، شاپنگ مالز، فلموں، سنیما، اسپورٹس اور سماجی محافل کے بغیر بھی زندگی کا پہیہ رواں دواں رہ سکتا ہے۔ اگر کورونا نہ ہوتا تو ہمیں کیسے احساس ہوتا کہ ہماری زندگی میں ہماری فیملی، ہمارے گھر والوں، والدین، بہن، بھائیوں اور بیوی بچوں کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے؟
میں کورونا کا شکریہ اس وجہ سے بھی ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس سے عالمی دوغلا پن کھل کر سامنے آ گیا۔ اگر کورونا ہم پر حملہ آور نہ ہوتا تو کیسے پتا چلتا کہ محض اسلحے کی بنیاد پر ملک کی حفاظت نہیں ہو سکتی، صرف سرحدوں پر باڑھ لگانے سے سرحدوں کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔

اگر آپ آسٹریلیا یا امریکا کی طرح دنیا سے الگ تھلگ ہیں تو بھی آپ محفوظ نہیں کیونکہ آپ کا مستقبل ’’گلوبل ویلیج‘‘ ہی سے منسلک ہے۔ اگر آپ بہت ترقی یافتہ ہیں تو بھی کسی غریب افریقی یا ایشیائی ملک کا ایک چھوٹا سا وائرس آپ کو تباہ و برباد کرنے کو کافی ہے۔

کرونا وائرس سے اٹلی میں ہی کیوں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں…. ؟

اگر آپ کا جی ڈی پی بہت بلند ہے تو بھی ایک چھوٹا سا وائرس آپ کو گھٹنوں پر لاسکتا ہے۔ آپ دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہیں تو بھی آپ کی سیاحتی انڈسٹری مفلوج ہو سکتی ہے۔ آپ ٹیکنالوجی کے بادشاہ ہیں تو بھی آپ بے بسی محسوس کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے یہاں کسی کو خیال آئے کہ صرف میڈیکل سائنس ہی ترقی کی راہ ہے تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔

آج جس ’’مشترکہ عالمی دشمن‘‘ کا ہمیں سامنا ہے وہ میڈیکل سے تعلق رکھتا ہے۔ کل تک جن دشمنوں سے ہمارا پالا پڑتا تھا وہ جدید جنگی ہتھیاروں سے دبکتے تھے، اور ممکن ہے آنے والے کل جس دشمن کا ہمیں سامنا ہو وہ آئی ٹی یا ایسی ہی کسی فیلڈ سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کا سبق یہ ہے کہ کوئی ایک نہیں، تمام شعبے برابر اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر صرف مادی ترقی ہی حفاظت و بقا کی علامت ہوتی تو سوویت یونین کبھی نہ ٹوٹتا۔ معاشی، مادی و سماجی ترقی، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

اگر کورونا نہ ہوتا تو بھارت سمیت باقی دنیا کو کیسے احساس ہوتا کہ لاک ڈاؤن، کرفیو، گھروں سے نکلنے کی پابندی اور غذا کی کمی کا خوف کیا ہوتا ہے۔ کشمیر، روہنگیا، فلسطین، اویغور، یمن، شام، عراق اور دوسرے جنگ زدہ علاقوں میں محصورین کیسے زندگی گزارتے ہیں۔

کورونا کا شکریہ اس وجہ سے بھی بنتا ہے کہ اس نے نائن الیون کی طرح تاریخ کی مزید اقسام متعارف کروا دی ہیں۔ اب موجودہ ادوار کی تاریخ ’’پری کورونا‘‘ اور ’’پوسٹ کورونا‘‘ ادوار کی نسبت سے بھی یاد رکھی جائے گی۔

کورونا کی تعریف و تحسین اس بات پر بھی بنتی ہے کہ اس نے تمام ملکوں کو پرانی دشمنیاں، رنجشیں اور کدورتیں بھلا کر نئے سرے سے پُرعزم ہو کر مشترکہ دشمن کے خلاف صف آرا ہونے کا موقع دیا ہے۔ (اگرچہ اس حوالے سے میں زیادہ خوش فہمی کا شکار نہیں ہوں کہ حالات بہتر ہوتے ہی پرانے کھاتے پھر سے کھل جائیں گے مگر…) اور یہ بھی کورونا کے ہی سبب ہوا کہ ہمیں علم ہوا کہ باقی تمام دنیا کو بھول بھال کر اپنے اندرونی مسائل کے خلاف متحد ہونا ہی ہمارا اصل کام ہے۔

اگرچہ اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے مگر میں کورونا کا اس وجہ سے بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے سب کو ایک بار آخرت اور موت ضرور یاد دلا دی ہے۔ آپ اگر اخبارات اور نیوز چینلز کا مطالعہ و مشاہدہ کریں تو علم ہوگا کہ جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے، ہمارے ملک سمیت عالمی سطح پر جرائم کا گراف تنزلی کا شکار ہے۔

ریپ بالخصوص چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ریپ اور پھر ان کے قتل کے واقعات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کا بھی عمل دخل ہو مگر اس ضمن میں مہلک وبا لگ جانے کا خوف بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

البتہ کرونا کے سبب جو سب سے اہم کام ہوا ہے، وہ سب کے منافقانہ رویّوں کا عیاں ہو جانا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشت بچانے کےلیے مرکزی بینکوں میں کھربوں ڈالر مختص کردیئے ہیں۔ اس مقصد کےلیے برطانیہ نے 39 ارب ڈالر، اٹلی نے 28 ارب، امریکا نے 8.8 ارب، چین نے 16 ارب، جاپان نے 10.6 ارب، جنوبی کوریا نے 9.8 ارب اور آسٹریلیا نے 13ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

(عالمی ادارۂ صحت کے کورونا فنڈ میں جمع شدہ ساڑھے تئیس کروڑ ڈالر سے زائد رقم اس کے علاوہ ہے۔) اگر صرف مذکورہ سات ممالک کے مختص کردہ پیسوں ہی کو پوری دنیا کی آبادی پر تقسیم کیا جائے تو یہ 13 ڈالر فی کس سے زیادہ رقم بنتی ہے جبکہ پوری دنیا میں غربت کے خاتمے کےلیے اس کا شاید نصف بھی نہیں چاہیے۔ شرح سود میں بھی مسلسل کمی کی جا رہی ہے کہ اس کے بغیر مالی استحصال کا خاتمہ ممکن نہیں، مگر عام حالات میں جی بھر کر لوگوں کو لوٹا جاتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت جس نے کورونا سے نمٹنے کےلیے تین ارب سے زائد کا فنڈ مختص کیا ہے، تھر کے حالات میں بہتری کےلیے ابھی تک کچھ نہیں کرسکی حالانکہ ہر سال اوسطاً سات سو سے زائد بچے تھر میں محض افلاس و بھوک کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اگر کرونا نہ ہوتا تو ہمیں کیسے پتا چلتا کہ حکومتیں کیا کچھ کرسکتی ہیں، ہمارا ملک و ملت کی تعمیر میں کس قدر حصہ ہے، کس سے ہمیں خطرہ ہے اور کون ہمارا محافظ ہے۔ اسی لیے تو میں مجبور ہوا کہ کورونا کا شکریہ ادا کروں… کرونا تیرا شکریہ!

(Visited 47 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں