دل کے بے سکون ہونے کی وجہ خدا سے دوری ہے ۔۔۔۔!

خدا
Loading...

آج کل ہر انسان بے سکون سا دکھائی دیتا ہے ، ہر شخص کسی نا کسی پریشانی سے دوچار رہتا ہے ، ہر انسان کی پریشانیاں الگ ہیں، حالات الگ ہیں ہر انسان کے خیالات الگ ہیں ۔ ہر کسی کو بس اپنی پڑی ہے ۔ آج کل کی مصروف زندگی میں کوئی کسی دوسرے کا نہیں سوچتا ۔۔ سوچتا ہے تو بس اپنے بارے میں ۔ فکر سے دوچار رہتا ہے لیکن بس اپنے لئے اسے کوئی فکر نہیں کسی کی۔ کوئی جی رہا ہے مر رہا ہے کھا رہا ہے پی رہا ہے یا بھوکا ہے۔ فرق پڑتا ہے تو صرف اپنی ذات سے اپنے آپ سے ۔۔ اور یہی آجکل سے دور کے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔

جو ہے ہم اس پے خوش نہیں ہوتے جو گزر گیا اسے روتے رہتے ہیں یا پھر آنے والے وقت کی بہتری میں لگے رہتے ہیں لیکن ہم نہیں سوچتے کہ جو گزر گیا اس میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے جو آنے والا ہے وہ اللہ بہتر کرے گا لیکن جو ابھی ہے وہ اللہ کا تحفہ ہے اس کی فکر کریں ۔ میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیئے اور ضرور سوچنا چاہیئے ۔۔ اچھا سوچیں تو ہی اچھا ہو گا ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ ” انسان کے لیئے وہی کچھ ہے جس کے لیئے اس نے کوشش کی ” اور کوشش انسان تب ہی کرے گا جب وہ سوچے گا ۔۔ اس لیئے حالات و واقعات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری امر ہے کہ ہمیشہ اچھا اور پوزیٹو سوچا جائے ۔

میں بس یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ آنے والے دور کا جس کا ہمیں کچھ علم نہیں اس کی پریشانی کرنے سے بہتر ہے کہ ہم ابھی کے موجودہ وقت کو انجوائے کریں ۔ آجکل بس جسے دیکھو ہر کوئی جیلسی میں جی رہا ہے۔ جلن نے سب کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔ کسی سے دولت کی جلن ، . کسی سے ترقی و کامیابی کی جلن ، کسی سے اچھے عہدے کی جلن تو کسی سے محبت کی جلن ۔ بات صرف یہ ہے کہ انسان خوشیوں کو اپنے لیئے سمیٹ لینا چاہتا ہے اور غموں کو بکھیر دینا چاہتا ہے لیکن انسان یہ نہیں جانتا کہ جس راستے پر وہ غم بکھیر آیا ہے وہاں سے اس کا گزر بھی ہو سکتا ہے ۔۔ تو پھر خوشیاں کیسے ساتھ نبھائیں گی جبکہ ًغم بھی ساتھ ساتھ ہوں گے ۔۔۔۔؟
آجکل کوئی کسی نہیں ہے ۔۔ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو ایسے سینکڑوں ہزاروں لوگ نظر آتے ہیں جن کو ان کے اپنوں نے مات دی ہے۔

ماں باپ کی خدمت سے جنت کمائیں …!

ہر کسی کو اس کے نصیب میں لکھا سب مل جاتا ہے پیسہ بھی ، رزق بھی ، گھر بار بھی ، عزت شہرت بھی اور کاروبار بھی ۔ لیکن ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ صحیح وقت کب آتا ہے یہ صرف وہ اللہ جانتا ہے لیکن وہ صحیح وقت سب کی زندگی میں آتا ہے ۔ کبھی جلدی تو کبھی دیر سے کبھی آگے تو کبھی پیچھے لیکن وہ وقت کبھی بھی کہیں بھی آتا ہے ۔ انسان بس جلد باز واقع ہوا ہے وہ چاہتا ہے بس ہو اور ابھی ہو۔ سب سے پہلے ہمیں وہ سب مل جائے جو ہمیں چاہیئے۔ جس کی تمنا ہم کرتے ہیں ۔

Loading...

ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ لیکن ہم یقین نہیں رکھتے کہنے کو تو ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ پر یقین ہے۔ ہم کہتے ہیں اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔ ہم کہتے ہیں اللہ ہماری سنتا ہے ۔۔ ہم کہتے اللہ بہتر کرے گا۔ ہم کہتے ہیں اللہ ہماری شہرگ سے بھی ذیادہ قریب ہے ۔ ہم کہتے ہیں اللہ ہمارے ہمیشہ ساتھ ہے۔ ہم کہتے ہیں اللہ ہماری دعائیں سنتا ہے اور یہ تمام باتیں سو فیصد درست بھی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ۔

لیکن دل سے سوچیں اگر ہمیں اللہ پر یقین ہے ، اگر ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے ، اگر ہم جانتے ہیں کہ ہمارا اللہ ہمارے ساتھ اور وہ سب بہتر کر دے گا ، اگر ہمیں یقین ہے کہ اللہ ہمارے سنتا ہے وہ عطا بھی کرے گا ۔ اگر ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ ہمارے قریب ہے تو پھر ہم اداس پریشان کیوں رہتے ہیں ؟

اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم کہنے کو تو کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ پر یقین ہے لیکن ہمارے دل میں یہی ہوتا ہے کہ بس اللہ ابھی سب کر دے وہ سب کر دے جو ہم چاہتے ہیں ۔۔ لیکن اللہ فرماتا ہے اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے ہو گا وہی جو میری چاہت ہے پس اگر تو خوش ہو جائے اس پہ جو میری چاہت ہے تو میں تجھے وہ بھی دوں گا جو تیری چاہت ہے ۔

اللہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے ستر ماوں سے بڑھ کر محبت کرنے والا اپنے بندے پر ظلم نہیں کر سکتا۔ وہ دے گا ضرور دے گا۔ بس صبر سے کام لیں۔ اس پر دل سے یقین رکھیں۔ اور جلنا چھوڑ دیں ۔۔ بلکہ سارے جہان کو منور کر دیں۔ اپنے خوبصورت دل اور خوبصورت اخلاق سے ۔

زونیرہ شبیر

(Visited 56 times, 4 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں