بیلسٹک میزائل کیا ہیں؟

بیلسٹک میزائل

ایران نے بدھ کو عراق میں موجود دو امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔  آپ نے بیلسٹک میزائل کے تجربات کے بارے میں متعدد بار سنا ہو گا کیونکہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک ان میزائلوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

 لیکن یہ بیلسٹک میزائل کیا ہیں اور یہ کس قسم کا مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ بیلسٹک میزائلز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ہدف کو تیزی اور درست طریقے سے نشانہ بناتے ہیں۔  

اس بارے میں قائداعظم یونیورسٹی کے  بین الاقوامی اور دفاعی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے اردو نیوز کو بتایا کہ میزائل دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک کروز میزائل اور دوسرا بیلسٹک میزائل۔

’ کم ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی ہے، ہر ملک کے پاس یہ  میزائل مختلف رینج کے ہوتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی تمام ممالک کے پاس تقریباً ایک جیسی ہے، اس میں بیلسٹک میزائل میڈیم رینج، شارٹ رینج، انٹر میڈیٹ رینج اور انٹر کونٹیننٹل بیلسٹک میزائل ہوتا ہے، اگر روایتی ہتھیاروں کے لیے بیلسٹک میزائل استعمال ہوتے ہیں تو اس پر زیادہ لاگت آتی ہے۔‘

ان کے مطابق جن ممالک کے پاس سپیس ٹیکنالوجی ہے تو وہ بیلسٹک اور جن کے پاس ایروناٹیکل ٹیکنالوجی ہے وہ کروز میزائل بنا سکتے ہیں۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کیا ہے ؟

پروفیسر جسپال نے بتایا کہ یہ میزائل 500 کلومیٹر سے 5500 سے زیادہ کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

’بیلسٹک میزائل ہر قسم کا دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کے پاس روایتی ہتھیار ہے، ان کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہے ہی نہیں، جن ممالک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہوں گے وہی نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

(Visited 688 times, 1 visits today)

Comments

comments

بیلسٹک میزائل,

اپنا تبصرہ بھیجیں