کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی بڑی وجہ یہ ہے….!

Loading...

کرونا وائرس کے متعلق دنیا بھر کے ماہرین اپنی تحقیقات میں مصروف ہیں کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ کیا ہے ؟ کسی ماہر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے کھانسنے اور چھینکنے سے زیادہ جلدی پھیلتا ہے.

جبکہ کچھ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ وائرس آلودہ چیزوں اور جانوروں کے ذریعے تیزی سے پھیل رہا ہے. اس بارے میں سی ڈی سی کی ترجمان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے دوسروں سے ملنے جلنے سے تیزی سے پھیلتا ہے.  سی ڈی سی کی سینئر ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ جب انسان کھانسی کرتا ہے یا چھینکتا ہے تو اس دوران منہ سے نکلنے والے کھانسی کے ذرات کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں.

Photo: File

ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو شخص وائرس پھیکا رہا ہے اس میں اور بھی کوئی بیماری کی علامات موجود ہوں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کرونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں لیکن ان میں بظاہر کوئی علامت نہیں ہوتی.

جو افراد ان حالات میں دوسروں سے گفتگو کرتے ہوئے 6 فٹ کا فاصلہ نہیں رکھتے وہ آسانی سے کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں.

Loading...

کیا آپ دوبارہ کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں…. ؟

سی ڈی سی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ امریکہ میں ایک شخص نے گرجا گھر میں 52 افراد کو کرونا وائرس کا شکار بنایا کیونکہ اس شخص نے سماجی فاصلہ نہیں رکھا تھا.

لہٰذا ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس صرف انسان کے دوسروں سے ملنے سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے جبکہ آلودہ سطحوں کو چھونے سے یہ وائرس اتنی جلدی نہیں پھیلتا اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بالکل اسی طرح کرونا وائرس متاثرہ جانور سے بھی آسانی سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتا.

لوگوں کو چاہیے کہ وہ سماجی فاصلہ رکھیں کیونکہ صرف سماجی فاصلہ رکھ کر ہی کرونا وائرس سے بچ سکتے ہیں.

(Visited 78 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں