نجکاری کے باوجود کےالیکٹرک میں بہتری نہیں آ رہی، نیپرا

کے الیکٹرک
Loading...

کراچی: چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت نیپرا میں کےالیکٹرک کے حوالے سے عوامی سماعت ہوئی جس میں نیپرا اتھارٹی کے تمام ممبران اور دیگر نے شرکت کی۔

نیپرا نے شہر قائد میں بدترین لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سماعت مکمل کرلی جس کا فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) توصیف فاروقی کی سربراہی میں سماعت ہوئی جس میں وائس چیئرمین، چاروں صوبوں کے ممبرز نیپرا اور کےالیکٹرک کے سی ای او سمیت پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی، ممبر قومی اسمبلی آفتاب صدیقی اور وکلا بھی شریک ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر نیپرا حکام نے کہا کہ کے الیکٹرک نیپرا کو بجلی میں کمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ تیل کی کمی بتاتی رہی، اس پر کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی نے کہا کہ عام حالات میں کراچی میں لوڈشیڈنگ 3سے ساڑھے 7گھنٹے تک ہوتی ہے لیکن 22 جون کے بعد شہر میں لوڈ شیڈنگ بڑھی، پی ایس او وفاقی حکومت کو لکھ چکا تھاکہ کے الیکٹرک کی تیل کی ضرورت پوری نہیں ہوسکے گی۔

شدید گرمی میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری
مونس علوی نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے پلانٹس کو فرنس آئل کی قلت ہوئی، تیل فراہمی کا مسئلہ کے الیکٹرک کو ہی نہیں سرکاری تھرمل پاورپلانٹس کو بھی رہا، پی ایس او نے وفاقی حکومت سے تیل درآمد کی اجازت مانگی تھی، پی ایس او کو کے الیکٹرک کے پاورپلانٹس کے لیے تیل درآمد کی اجازت تاخیر سے ملی۔

Loading...

فی تولہ سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سی ای او کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ طلب بڑھنے سے ان علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کرنی پڑی جہاں نہیں کرتے، نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کیلئے ہماری درخواست پرغور نہیں کیا جاتا، نیشنل گرڈ سے 720 سے 730 میگاواٹ تک بجلی لے رہے ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین نیپرا نے سوال کیا کہ کیا 22 جون کے بعد سے لوڈ شیڈنگ پر کےالیکٹرک کی کوئی ذمہ داری ہے، اس پر مونس علوی کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کےالیکٹرک کی کوئی غلطی نہیں جس پر چیئرمین نیپرا نے جواباً کہا کہ صورتحال کی پہلے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی، سی ای او کے الیکٹرک نے بتایا کہ 10 کروڑ ڈالر تو ہم نے ترسیلی نظام پر خرچ کیے۔

(Visited 26 times, 2 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں