انٹار کٹیکا براعظم میں چھپا ہوا تاریخی راز…

انٹارکٹیکا
Loading...

انٹار کٹیکا ایسا براعظم ہے جسے اسرار سے بھرپور کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا یہاں ایسے قدرتی عجوبے موجود ہیں جنہوں نے صدیوں سے سائنسدانوں کو سوچ میں ڈالا ہوا ہے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق بظاہر یہ برفانی براعظم میں اوپر سے بہت سپاٹ لگتا ہے جس میں ہر سو برف ہی برف نظر آتی ہے مگر اب سائنسدانوں نے ایسی دریافت کی ہے جس کا علم کروڑوں سال میں پہلی بار ہوا ہے۔ درحقیقت انٹارکٹیکا کی اربوں ٹن برف کے نیچے دنیا کی سب سے گہرائی والی زمین کو دریافت کیا گیا ہے۔

یہ منجمد اپنے نیچے ایک تاریخی براعظم کو چھپائے ہوئے ہے جسے ناسا کے ایک نقشے میں دکھایا گیا، جس سے مستقبل میں انٹار کٹیکا میں برف کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ ان خطوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں گرم موسم کے نتیجے میں برف پگھلنے کا امکان زیادہ ہوگا۔اس نقشے کو بیڈ مشین انٹارکٹیکا کا نام دیا گیا ہے جس میں اس براعظم کی چھپی ہوئی تمام تر تفصیلات کو دکھایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور نقشے کو تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ میتھیو مارلیگم نے بتایا کہ بیڈ مشین کو انٹارکٹیکا کے مخصوص حصوں میں زوم کرکے ہم اہم معلومات دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

Loading...

2020 میں کیا ہونے والا ہے، بڑی پیش گوئی سامنے آگئی ؟

اس نقشے کو جریدے جنرل نیچر جیو سائنسز میں شائع کیا گیا اور برفانی براعظم میں چھپے جغرافیائی پہلو ؤں کو دریافت کیا گیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ برف کے بہاؤ کی ساخت کیا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ چھپے ہوئے پہلو موسمیاتی تبدیلی پر گلیشیئر کے ردعمل پر اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔

انٹار کٹیکا میں برف کے بہاؤ سے آگاہی میں جاننا اتنا ہی اہم ہے جتنا زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ، کیونکہ اگر اس براعظم کی تمام برف پگھل جائے تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں 200 فٹ تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایسا جلد ہونے کا امکان تو نہیں مگر اس براعظم کا معمولی حصہ بھی پگھل گیا تو بھی اس کے دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔اس براعظم میں دنیا کی گہری ترین کھائی کی دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کتنی مقدار میں برف اس خطے سے گزرتی ہے۔

(Visited 62 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں