پارلیمنٹ کے ارکان و اسٹاف میں کرونا کیسز مثبت آنے کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر
Loading...

اسلام آباد: اب تک دو ارکان پارلیمنٹ کی مثبت رپورٹ جاری کر دی گئی۔

اپنے بیان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس پارلیمنٹ کی راہداریوں میں بھی پہنچ گیا ہے جبکہ ارکان پارلیمنٹ اور عملے میں کورونا کی تشخیص باعث تشویش ہے

انہوں نے کہا کہ مزید ارکان اور عملے میں کورونا کی تشخیص ہونے کا خدشہ ہے اور کورونا کیسز میں اضافے سے متعلق میرے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بروقت خبردار کردیا تھا کہ ٹیسٹ کے بغیر کسی کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دیا جائے لہٰذا موجودہ صورتحال میں اجلاس بلانے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ضروری ہو تو اجلاس میں تاخیر کی جائے اور ٹیسٹ کو یقینی بنانے کے بعد ہی پارلیمنٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر میں بھی مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت زیرعلاج ہیں۔

Loading...

صدر مملکت عارف علوی نے 11 مئی کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت کے لیےارکان کا کورونا ٹیسٹ کروانا لازم قرار دیا تھا، قومی اسمبلی کا اجلاس کل اور سینیٹ اجلاس منگل کو ہو گا اور اس کے لئے ارکان کے کورونا ٹیسٹ لئے جارہے ہیں اور پارلیمانی اجلاسوں سے قبل کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی ایچ کے عملے نے ارکان پارلیمنٹ کے ٹیسٹ کے نمونے حاصل کرلئے ہیں، اب تک جن ارکان کے ٹیسٹ لئے گئے ہیں ان میں ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب، طاہرہ اورنگزیب، راجہ ظفرالحق، رانا ثنااللہ، مشاہد حسین، مائزہ حمید، عائشہ غوث پاشا، جنرل (ر)عبد القیوم اور سینیٹر سلیم ضیاء شامل ہیں، اور اب تک ان میں سے اب تک دو ارکان پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے اسٹاف کی کورونا رپورٹ مثبت آچکی ہے، جب کہ باقی ارکان کی ٹیسٹ رپورٹ بھی آج شام تک جاری ہو گی۔

پیسوو امیونائزیشن تھراپی کے ذریعے کورونا کا پہلا مریض صحت یاب

دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ اور عملے میں کورونا کی تشخیص کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈی والا نے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس موخر کرنے کی تجویز دے دی ہے اور کہا ہے کہ ارکان اور پارلیمنٹ عملے میں کورونا کی تشخیص باعث تشویش ہے۔

سلیم مانڈی والا نے کہا کہ کورونا کیسز میں اضافے سے متعلق میرے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں، اب یہ وائرس پارلیمنٹ کی راہداریوں میں بھی پہنچ گیا ہے، مزید ارکان اور عملے میں کرونا کی تشخیص ہونے کا خدشہ ہے،

بروقت خبردار کردیا تھا کہ ٹیسٹ کے بغیر کسی کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دیا جائے، موجودہ صورتحال میں اجلاس بلانے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں، ضروری ہو تو اجلاس میں تاخیر کی جائے اور ٹیسٹ کو یقینی بنانے کے بعد ئی پارلیمنٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

(Visited 31 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں