کرونا کے ایسے مریض دوسروں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں …؟

جنوبی کوریا کے ماہرین
Loading...

جنوبی کوریا کے ماہرین نے کرونا وائرس کے متعلق ایک اور دعوے کو درست ثابت کردیا ہے. اس دعوے کے متعلق کچھ ماہرین پر یقین تھے اور کچھ اس سے انکار کر رہے تھے.

جنوبی کوریا کے ماہرین نے اپنی ریسرچ میں کہا ہے کہ کرونا کے ایسے مریض جن میں اس کی کوئی علامت نظر نہیں آتی یہ مریض بھی کرونا وائرس کو اتنی تیزی سے آگے منتقل کرتے ہیں جتنے علامات والے مریض کرتے ہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم سب سے زیادہ حیران اس بات پر ہیں کہ صحت مند نظر آنے والے افراد بھی وائرس آگے منتقل کرتے ہیں. اسی لیے اس وائرس کو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور کرونا وائرس کے مریضوں کی شناخت ہی نہیں ہو پاتی.

Loading...

اب تک کرونا وائرس کو بغیر علامتوں والے مریضوں نے سب سے زیادہ آگے پھیلایا ہے. اس کے متعلق کورین ماہرین نے اپنی ریسرچ میں واضح ٹھوس ثبوت پیش کیے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ بغیر علامت والے کرونا کے مریضوں کے پھیپھڑوں اور گلے میں اتنا ہی انفیکشن ہوتا ہے جتنا علامت والے مریضوں میں ہوتا ہے لیکن ان کو ظاہر اور محسوس نہیں ہوتا.

جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے اس موضوع پر 20 دن ریسرچ کی اور ہم نے 193 بغیر علامات والے مریضوں کو اور 110 علامت والے مریضوں کو اپنی ریسرچ میں شامل کیا اور ان کا مطالعہ کیا.

کرونا سے متاثرہ ماں بچے کو دودھ پلاسکتی ہے یا نہیں…؟ ماہرین نے بتادیا ..!

ماہرین کا کہنا ہے کہ شروع کے دنوں میں 89 میں سے 30 فیصد لوگ کبھی اس طرح سے بیمار نہیں ہوئے تھے جبکہ ان میں سے 21 فیصد مریضوں میں علامات سامنے آئیں تھی. اور ہماری ریسرچ میں شامل زیادہ تر افراد جوان تھے اور ان کی عمر تقریبا 25 سال تھی. ریسرچ میں ہم نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ ان میں سے 30 فیصد متاثرہ افراد ایسی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھی
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کے 40 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور یہ دوسرے لوگوں میں با آسانی وائرس منتقل کرتے ہیں اور ان کو بیمار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے .

(Visited 13 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں