روح اور خواب کا کیا تعلق ہوتا ہے …!

خواب
Loading...

اللہ تبارک و تعالی نے کچھ چیزوں کو انسان کے اختیار میں نہیں رکھا ۔ انہی چند ایک چیزوں میں خوابوں کا بھی شمار ہوتا ہے ۔ ہمارے خواب ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے ۔ خوابوں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں کبھی کس طرح کے خواب آتے ہیں تو کبھی کس طرح کے ۔ کبھی ڈراوُنے خواب آتے ہیں تو کبھی اسلامی جیسے خواب میں مکہ ، مدینہ یا قرآن پاک کی زیارت نصیب ہو جانا وغیرہ ۔
خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ۔

1 اللہ کی طرف سے آنے والے خواب

ایک خواب اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں جو انسان کی بھلائی اور رہنمائی کے لیئے ہوتے ہیں ۔ ایسے خواب انسانوں کی ہدایت کے لیئے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات اللہ تعالی خواب کے ذریعے انسانوں تک اپنی بات پہنچا دیتا ہے ۔ جیسے کے استخارہ وغیرہ کے ذریعے سے ۔ بعض اوقات ایسے خواب آتے ہیں جو کہ بزرگ ہستیوں کی طرف سے ہوتے ہیں یا پھر بزرگ افراد خود خواب میں آ جاتے ہیں ۔ یا ان کے مزار بھی خواب میں اکثر دکھائی دیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے فلاں فلاں بزرگوں یا ان کے مزاروں کو خواب میں دیکھا ہے ۔ بلکہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور پاکؐ کو خواب میں دیکھا ہے یہ ناممکن بات بھی نہیں ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے ولی خواب میں آتے ہیں یا ان کے جنات خواب میں آتے ہیں اور وہ پیغام دے کر چلے جاتے ہیں ۔

لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ بعض اوقات شیطان بھی خواب میں آتا ہے اور وہ خود کو بزرگ کے طور پر پیش کرتا ہے اور لوگوں کو بےوقوف بناتا ہے ۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ شیطان کبھی بھی اللہ کا رسول بن کر خواب میں نہیں آ سکتا لیکن وہ بزرگ بن کر خواب میں ضرور آ سکتا ہے اس لیئے اگر آپ کوئی ایسا خواب دیکھیں کہ جس میں آپ کسی بزرگ کو دیکھیں تو اس پر فورًا یقین نہیں کیجیئے اس پر مکمل تحقیق کیجیئے سرچ کیجیئے اور اس کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں اور سچائی جانیئے ۔ پھر یقین کیجیئے ۔

2 شیطان کی طرف سے آنے والے خواب

شیطان کی طرف سے آئے گئے خواب بھی شیطانی ہوتے ہیں یعنی ان میں برائی چھپی ہوتی ہے ۔ ایسے خوابوں میں چوری کرنے کے طریقے سکھائے جاتے، برائی کرنا کسی کو تنگ کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔ کیونکہ شیطان خوابوں کے ذریعے انسان کو سکھا رہا ہوتا ہے برائی کی طرف مائل کر رہا ہوتا ہے ۔۔ اور وہ انسان کو بےوقوف بنا رہا ہوتا ہے ۔ اور جن افراد پر کالا جادو کیا گیا ہوتا ہے انہیں تو روز ہی الٹے پلٹے خواب آتے رہتے ہیں کبھی خواب میں باتھ روم ، چھپکلی ، گندے نالے ، بچھو ، کتے ، مرے ہوئے لوگ ، جن ، چڑیلیں قبرستان وغیرہ نظر آتے ہیں ۔ یہ خواب شیطانی ہوتے ہیں ۔

3 اپنے نفس کی طرف سے آنے والے خواب

جب انسان دن رات کسی چیز کے متعلق سوچتا رہے تو اس کے بارے میں خواب آتے ہیں مثال کے طور پر آپ کہیں گئے فرض کریں کسی شادی میں گئے اور آپ کو وہاں بہت مزہ آیا پھر آپ سارا دن اسی کے بارے میں سوچتے رہیں اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں سوچتے رہیں تو اب جب آپ سوئیں گے تو آپکو خواب میں بھی وہی شادی یا اس کے بارے میں ہی کچھ خواب آئے گا ۔

ارشاد باری تعالی ہے ” بے شک جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کیا اس کے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نا وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے اور ہم گناہ گاروں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ”
سورة الاعراف

پھر ارشاد ہوتا ہے
” خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نا کرو اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دوسری جگہ پھینک دیتی ہے” سورة حج

loading...

حضرت ابراہیمؓ فرماتے ہیں کہ ہم آپؐ کے ساتھ مدینہ میں ایک انصاری صحابی کے جنازے پر گئے ۔ جب میت کو قبر میں اتار دیا گیا تو آپؐ قبر کے پاس بیٹھ گئے اور ہم لوگ آپؐ کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ ہم اتنے خاموش اور ساکت تھے کہ پرندے اگر وہاں ہوتے تو ہمیں درخت سمجھ کر ہمارے سروں پر بیٹھ جاتے ۔ آپؐ کے ایک درخت سے شاخ توڑ کر ان کی قبر پر لگائی اور دو تین بار دعا فرمائی کہ
” اللہ پاک انہیں قبر کے عذاب سے بچا “

پھر آپؐ نے فرمایا ” جب کوئی نیک انسان فوت ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمانی فرشتے سفید سورج کے جیسے روشن چہرے کے ساتھ اس کے پاس جنت سے کفن اور خوشبو لے کر آتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ اے نیک روح ، غفور الرحیم اللہ پاک کے پاس چلو ۔ اور پھر آسانی سے اس کی روح نکل جاتی ہے اور پھر اسے خوشبودار کفن پہنایا جاتا ہے اور اس کی روح آسمان کی طرف فرشتوں کے گھیرے میں اس شان سے جاتی ہے کہ زمین کی طرف آنے والا ہر فرشتہ پوچھتا ہے کہ ” یہ نیک روح کون ہے ”
تو انہیں اس کا پورا نام فلاں ابن فلاں بتایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پہلے آسمان پر پہنچ جاتا ہے ۔ وہ پہلے آسمان کے فرشتوں کو کہتے ہیں کہ ان کے لیئے دروازہ کھولا جائے اور وہ کھل جانے ک بعد اس نیک روح کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ روح ساتویں آسمان پر اللہ پاک کے پاس ملاقات کے لیئے پہنچ جاتی ہے اور پھر اللہ پاک اسے واپس قبر میں میت کے پاس واپس بھیج دیتے ہیں کہ دو فرشتوں منکر و نکیر کے سوالات کے جواب دہ سکے ۔
1 تمہارا رب کون ہے ؟
یہ روح جواب دیتے ہے کہ ” اللہ ”
2 تمہارا مذہب کیا ہے ؟
کہتا ہے ” اسلام ”
3 تمہارا رسول کون ہے ؟
وہ جواب دیتا ہے ” محمدؐ

4 زندگی کیسے گزاری ؟

جواب دیتا ہے ” قرآن پاک پڑھا اور عمل کیا ”
تو غیب سے آواز آتی ہے کہ میرے بندے نے جو کہا سچ کہا اس کے لیئے جنت سے کپڑے لائے جائیں اسکیے استقبال کیلئے جنت کو سجایا جائے اور اس کے لیئے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں پھر جنت کی کھڑکی کھلتی ہے تو اس کی خوشبو سے قبر مہک اٹھتی ہے اور قبر تا حد نظر وسیع ہو جاتی ہے ۔ پھر ایک روشن چہرہ اور صاف ستھرے کپڑوں والا خوشبو دار انسان اس کے پاس آتا ہے کہ ” خوش ہو جاو اللہ پاک آپ سے بہت خوش ہیں ” وہ پوچھے گا آپ کون ؟ آنے والا اسے بتاتا ہے کہ میں آپ کا نیک عمل ہوں ۔ تو یہ سجدہ شکر میں اللہ تعالی سے کہے گا کہ کاش میں گھر والوں کو جا کر بتا سکتا کہ اللہ تعالی نے مجھ پر کتنا کرم کیا ۔

جب کوئی برا انسان مرنے لگتا ہے تو آسمانی فرشتے کالے کپڑوں میں آتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں اور آنکھوں سے آگ نکل رہی ہوتی ہے اور یہ اس برے انسان کے اردگرد بیٹھ جاتے ہیں اور اس کی روح کو کھینچنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کانٹوں کا کپڑوں سے اڑ جاتا ۔ اس شخص کو بے پناہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پھر اس کی روح کو آسمان کی طرف لے کر جاتے ہی۔

نظر بد کی علامات اور اس سے بچنے کا طریقہ …!

تو فرشتے پوچھتے ہیں تو اس کا تعارف دنیاوی برائی والے نام سے کروایا جاتا ہے اسے پہلے آسمان پر جانے کی اجازت نہیں ملتی اور وہ دوبارہ قبر میں آ جاتا ہے اور منکر نکیر اس سے سوال کرتے ہیں ۔
1 تمہارا رب کون ہے ؟
2 مذہب کیا ہے ؟
3 رسول کون ہے ؟
4 زندگی کیسے گزاری ؟
سب کے جواب میں وہ یہی کہتا ہے ہائے افسوس مجھے نہیں پتہ ۔ تو اس کے لیئے جہنم کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور عذاب کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی ہڈیاں آپس میں دھنس جاتی ہیں ۔
پھر ایک کالی سیاہ اور خوفناک شکل کا آدمی اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو ؟
تو آنے والا بتاتا ہے کہ میں تمہارا برا عمل ہوں ۔
پھر وہ برا آدمی اس خوفناک آدمی سے پناہ مانگنے لگے گا ۔
( ابو داود 4753 ، شاہی الجمی – البنی 1676 )
ابو داود میں حضرت ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ” اللہ پاک کے علاوہ کوئی ہم پر رحم نہیں کر سکتا بے شک ہم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے )
کتابوں میں محققین لکھتے ہیں کہ جب انسان کو قبر میں اتارا جا رہا ہوتا ہے تو روح یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے اور نیک ہو تو کہتی ہے ‘جلدی جلدی کرو’۔ اور بدنیک ہو تو کہتی ہے کہ ‘یہ مجھے کہاں کے کر جا رہے، مجھے بچھا لو’ لیکن اس کے آواز انسان جنات نہیں سن سکتے، باقی جانور وغیرہ سن سکتے ہیں۔

قبر میں میت کے دفن کے بعد جب تدفین کیلئے آنے والا آخری انسان قبر سے 40 قدم دور ہو جاتا ہے تو فرشتے آ جاتے ہیں اور حساب کتاب شروع کر دیتے ہیں ۔ تو بری روح انتہائی خوفناک طریقے سے چلاتی ہے اور اس کی آواز انسانوں اور جنات کے علاوہ سب کو سنائی دیتی ہے ۔
اگر کوئی ان دو فرشتوں منکر و نکیر کے سوالات کے صحیح جوابات دے گا تو اس کی قبر جنت جیسی بن جائے گی اور جس نے ان کے سوالات کے غلط جوابات دیئے تو اس کی قبر میں قیامت آنے تک عذاب ہی عذاب رہے گا ۔
اللہ پاک ہمیں نیک ہدایت دیں اور عذاب قبر سے محفوظ رکھیں آمین ثم آمین ۔

(Visited 116 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں