ریڈیو پاکستان کیا سے کیا ہو گیا….!

جن لوگوں نے ریڈیو کے اچھے زمانے دیکھے ہیں، اُنہیں میرا مشورہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کی کراچی کی موجودہ نشر گاہ دیکھنے نہ جائیں، ایسے بڑے قومی ادارے کو ایسے کونے کھدرے میں ڈال رکھا ہے کہ دل دُکھتا ہے۔

کہاں وہ محمد علی جناح روڈ پر ریڈیو پاکستان کی شاہانہ عمارت اور کہاں باکمال اور بےمثال لوگوں کا روز کا آنا جانا، اور کہاں یہ ادارہ ترقیات کراچی کی پہاڑ جیسی عمارت کے پچھواڑے، لاکھوں موٹر سائیکلوں کے اڈّے اور سودے والوں کے مجمع کے بیچ پھنسی ہوئی عمارت، جو کسی صورت بھی وطن کی قومی نشرگاہ کا ٹھکانا نہیں ہو سکتی۔

میں بھلا کاہے کو جاتال، وہ تو یہ ہوا کہ نوجوانوں کا پروگرام ترتیب دینے والی صدیقہ بینش نے مجھے دعوت دی کہ اُن کے پروگرام میں آئیے اور نوجوانوں سے گفتگو کیجئے، یہ نوجوانوں والی بات میرے دل کو لگی اور میں نے آنے کا وعدہ کر لیا۔

کہاں میں نے وہ ساٹھ ستّر کے عشرے والی چہل پہل دیکھی تھی کہ کیسے درخشاں چہرے والے نامور لوگ آتے جاتے دکھائی دیتے تھے، اب جو میں گیا تو واحد سرکردہ شخصیت شاعر، مصنف اور ڈراما نگار علی معین نظر آئے اور وہ بھی یوں کہ وہ میرے میزبان تھے اور مجھے اپنی کار میں ریڈیو پاکستان لے گئے تھے۔

راہ داریوں میں چلتے ہوئے ریڈیو کے عملے کے کچھ لوگ نظر آئے، کچھ سہمے سہمے، کچھ بجھے بجھے، اسٹوڈیو میں داخل ہوئے تو وہاں اس کے سوا کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھی کہ ایک میز کے درمیان ایک پرانا، قدیم اور فرسودہ سا مائیکرو فون رکھا تھا اور ریڈیو کے کارکن اسی عالم میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

گفتگو میں شامل لڑکوں اور لڑکیوں نے سوالات کئے جن سے اُن کی ذہانت جھلکتی تھی، پروگرام کی پروڈیوسر نے پذیرائی کی اور باہر تک آکر مجھے رخصت کیا، میں واپس تو آگیا لیکن میرے ساتھ لگے لگے بےشمار سوال بھی چلے آئے، یہ کیا ہوا، ریڈیو کو کس کی نظر کھا گئی، کیا قومی نشرگاہ کی کوئی اہمیت نہیں رہی، کیا میڈیا کے انقلاب کی اس رو میں ہمارا پرانا وفا شعار ریڈیو بہہ کر کسی گوشہ گمنامی کی نذر ہو گیا۔

کیا لوگوں نے ریڈیو سننا چھوڑ دیا، کیا وہ ڈرامے، وہ گفتگوئیں، وہ مکالمے، وہ ترانے، وہ گیت، نغمے، ٹھمریاں دادرے، وہ سامعین کے خطوط، وہ آپ کی فرمائش، کیا وہ سب خواب ہوئے، اوجھل ہوئے، مٹ گئے یا بھلا دیئے گئے؟

میرا دل نہیں مانا اور میں نے ریڈیو کے شائقین اور ملازمین سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، علی معین پھر میرے کام آئے اور وہ کچھ لوگ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے، معلوم ہوا کہ سارے کا سارا مسئلہ وسائل کا ہے، ریڈیو کی جھولی خالی ہے اور عملہ خدا جانے کیسے اپنے کام چلا رہا ہے۔

جدھر دیکھئے پیسے کا رونا ہے جو خزانۂ عالیہ کو خالی کرکے کبھی کا رخصت ہوا، سارے کام، بہت سارے کام جاری ہیں لیکن اگر کسی کو صاف جواب مل رہا ہے وہ کوئی گرا پڑا ادارہ نہیں، وہ ملک و قوم کے تاج میں جڑا ہوا ریڈیو پاکستان ہے، وہ بات پرانی نہیں ہوئی جب حکام اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کی مرکزی عمارت کرائے پر چڑھانے چلے تھے۔

گاہک مل گئے تھے اور بھاؤ تاؤ جاری تھا، شکر ہے کہ اس پر شور اٹھا جو بےاثر نہیں رہا۔ اب تازہ خبر یہ ملی کہ پور ے ملک میں ریڈیو پاکستان کی کافی املاک(پروپرٹیز) موجود ہیں جن کو ٹھکانے لگا کر خزانے پر نظر کرم کرنے کی تیاری ہے۔

یہ بھی پتا چلا کہ ریڈیو کی املاک کی فہرستیں بن رہی ہیں اور دام لگ رہے ہیں، سب ہو رہا ہے لیکن ایسا کوئی وعدہ نہیں ہورہا ہے کہ ان املاک کی فروخت سے آنے والا پیسہ ریڈیو پاکستان ہی پر خرچ ہوگا، اس طرح کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔

اب ملازمین کی تنظیم جو اس بدحالی کا سب سے بڑا شکار ہے، اتنی سادہ ہے کہ حکامِ بالا کو پیسہ کمانے کے طور طریقے بتا رہی ہے، مثال کے طور پر بجلی یا گیس کے بل کے ساتھ ریڈیو کے نام پر ذرا سی فالتو رقم وصول کی جائے جو یکجا ہو کر بھاری رقم بن جائے گی، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی ٹیکس یا محصول کے نا م پر اتنی رقم جمع کی جائے کہ ریڈیو جیسا ادارہ کھلی فضا میں زندہ رہ سکے مگر پاکستان میں اس کا امکان نہیں۔

میں تو برطانیہ کو جانتا ہوں جہاں ہر شخص کو ٹیلی وژن کا لائسنس لینا پڑتا ہے اور اس کی اچھی بھلی قیمت ہے، وہاں بھی پیسے کی تنگی ہوتی ہے اور لائسنس کی فیس بڑھانے کی بات ہوتی ہے تو حکومت چلانے والی سیاسی جماعت اس کی ہمت نہیں کر پاتی کیونکہ پھر لوگ اسے ووٹ نہیں دیں گے۔

پاکستان میں تو آج کے لوگوں کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ اچھے دنوں میں پورے ملک میں ریڈیو کا لائسنس ہوا کرتا تھا اور ہر شخص کو ڈاک خانے جاکر لائسنس لینا ہوتا تھا۔ مجھے تو ایوب خان کے مارشل لا کے شروع کے دن یاد ہیں جب اعلان ہوا تھا کہ اتنے وقت کے اندر اندر اپنا ریڈیو لائسنس حاصل کیجئے ورنہ آپ کی خیر نہیں، اس پر ڈاک خانوں میں لائسنس بنوانے والوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔

ایک بار یہ بھی ہوا کہ راولپنڈی کے قریب جی ٹی روڈ پر کچھ لوگ گاڑیاں روک روک کر ان کے کاغذات دیکھ رہے ہیں۔ اتفاق سے انہوں نے ایک بااختیار صاحب کی کار روکی اور کا غذات طلب کئے۔ ان صاحب نے ڈپٹ کر کہا کہ پہلے آپ اپنے کاغذات دکھائیے۔ دیکھے تو پتا چلا کہ وہ ریڈیو کے لائسنس دیکھنے والا عملہ تھا جس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا یہ ڈھنگ نکالا تھا۔

ہائے، ہمارا غریب ریڈیو، کس کو پڑی ہے کہ اس کے لائسنس بنوائے اور اس کی رقم بھی بھرے۔ اب تو اگر لوگ اپنی ریڈیو کی سوئی کو چلا کر ریڈیو پاکستان کی فری کوئنسی پر لے جاتے ہیں اور وہاں کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیں تو سچ یہ ہے کہ اس بیمار ادارے پر احسان کرتے ہیں، چھوٹا ہی سہی۔ تو کیا اتنی بڑی سرزمین پر کوئی نہیں جو اس ادارے میں نئی روح پھونک سکے؟

(Visited 29 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں