طیارے گرانے میں ملوث ذمہ داروں کو سزا دی جائے: یوکرائنی صدر

تہران: یوکرائن کے صدر ولادمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ ایران میں گرنے والے یوکرائنی طیارے میں ملوث ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائنی صدر کا کہنا تھا کہ ایران حادثے کے ذمہ داروں کو سزا دے، معاوضہ ادا کرے اور معافی مانگے۔ توقع کرتے ہیں کہ ایران مجرموں کو عدالت میں پیش کرے گا، متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا اور طیارے کی باقیات واپس کر دی جائیں گی۔

یوکرائن کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ واقع کی انکوائری بغیر کسی ارادی تاخیر کے کی جائے گی۔

اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے ایران سے معافی کا بھی مطالبہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ یوکرین کے 45 ماہرین کو حادثے کی انکوائری میں مکمل طور پر رسائی دی جائے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی ذمہ داران کے احتساب اور متاثرین کے لواحقین اور عزیزوں کے لیے شفاف انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک قومی سانحہ ہے اور اس پر کینیڈا کے شہری ایک ساتھ سوگ منا رہے ہیں۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کا کہنا ہے کہ ایران کو اس واقع سے سبق سیکھنا چاہیے۔

کمیٹی کے چیئرمین کونسٹنٹین کوساچیف کا کہنا تھا کہ اگر بلیک باکس کی ریکارڈنگ اور تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ ایرانی فوج نے طیارہ جان بوجھ کر مار گرایا ہے تو یہ معاملہ ختم ہو جانا چاہیے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ امید ہے کہ ایران کے لیے یہ واقعہ سبق آموز ہو گا اور اس کے تمام فریقین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

فرانس کی وزیر دفاع فلورنس پارلی انٹر ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں جو واقعات ہم نے دیکھے ہیں ہمیں ان کے ڈرامائی تسلسل سے سبق سیکھنا چاہیے کہ ہمیں کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ بدھ 8 جنوری کو یوکرینین انٹرنیشنل ایئر لائن کا مسافر تیارہ ایران کے دارالحکومت تہران سے اُڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا، جس میں 176 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حادثہ ایران کے عراق میں فوجی اڈوں میں موجود امریکی فوجیوں پر بلیسٹک میزائل حملوں کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ یہ ایک افسوس ناک دن تھا۔ انسانی غلطی امریکی ’مہم جُوئی‘ سے پیدا ہونے والے تناؤ سے ہوئی جس کی وجہ سے یہ تباہی ہوئی۔ مسلح افواج کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعے غلطی سے پیش آیا۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے محکمہ قومی ایوی ایشن کے سربراہ علی عابدزادے نے اس بات کی تردید کی تھی کہ یوکرینی طیارے کو کسی میزائل نے مار گرایا ہے۔

واضح رہے کہ جمعے کو کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس متعدد ذرائع سے یہ معلومات سامنے آئی ہیں جن میں ہماری اپنی اور ہمارے اتحادیوں کی معلومات بھی شامل ہیں کہ یوکرینی طیارے کو ایران کے زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل نے نشانہ بنایا اور ایسا غلطی سے ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی افسران نے بھی کہا تھا کہ ’یوکرین کے مسافر طیارے کو غلطی سے ایرانی میزائل لگے۔‘

ایک امریکی افسر کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق یوکرینین انٹرنیشنل ایئرلائنز کے بوئنگ طیارے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف کے لیے تہران سے اُڑان بھرے دو منٹ ہی ہوئے تھے کہ جب میزائلوں کی ہوا میں موجودگی کا پتا لگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے فوراً بعد طیارے کے نزدیک دھماکہ ہوا۔ دو امریکی افسران کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ کے وقت طیارے کا گرنا ایک حادثہ تھا۔

واضح رہے کہ یوکرینی ایئرلائنز کے تباہ ہونے والے طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین،11 یوکرینی، 10 سویڈش، چار افغان، تین جرمن اور تین برطانوی شہری سوار تھے۔

(Visited 21 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں