بیوی سے عشق کب ہوتا ہے…؟

بیوی

ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا ، کہنے لگیں ’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ”منہ ول کعبے شریف“ پڑھا ھے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اِس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہو گرل فرینڈ ہو“

میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ، ”خاتون جب میں اپنے سفر ناموں میں غیر منکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہوں تو بھی آپ کو منظور نہیں“۔

وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں ”آخری عمر میں ہی کیوں؟“

میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو راز داں بناتا ہوں۔

’اے لاہور دی کڑی دا فون نمبر اے ٹرائی کرکے ویکھ لے‘

آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ھوتا ھے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کیے۔ میری بے راھرو حیات کو برداشت کیا۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ھے۔

loading...

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ، ”جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ھے دِل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مَر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لُوں“۔

اب اِس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ہوں ، کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ مَر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پُوچھے گا مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔

”مستنصر حسین تارڑ“

(Visited 115 times, 1 visits today)

Comments

comments

بیوی, عشق,

اپنا تبصرہ بھیجیں