April 15, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

کیا واقعی احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں ؟

کہتے ہیں ” احساس اور محبت کے رشتے خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں ” یہ بات سو فیصد درست ہے کہ زندگی میں رشتے ناطے بہت ہی قیمتی ہیں اور انمول بھی ۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک خون سے پیدا کیا تاکہ ان میں محبت اور احساس قائم رہے ۔

لیکن آج کل کے زمانے میں رشتے تو قائم ہیں لیکن احساس سے عاری ۔ ہر انسان کو صرف اپنی پڑی ہے اپنی زندگی اپنی خوشیوں کا خیال سب کو ہے لیکن ساتھ پڑے انسان کی کوئی قیمت نہیں ۔ قیمت ہے تو صرف اپنی لیکن اس بے حس دنیا میں بھی کچھ ایسے ہیں جو صرف اپنوں کا ہی نہیں انسانیت کا احساس کرنے والے ہیں جو خود کو چھوڑ کر پہلے دوسروں کا خیال کرتے ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے
” رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں ”
اگر احساس ہو تو پرائے بھی اپنے بن جاتے ہیں اور اگر احساس نا ہو تو اپنوں کو پرایا ہونے میں بھی کوئی ٹائم نہیں لگتا ۔

ہم سب کو اپنے اندر احساس پیدا کرنا چاہیئے اور احساس پیدا کرنا پڑے گا ۔ یہی احساس اور دوسروں کا خیال ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے گا ۔اگر ہم مل کر رہیں گے ، ساتھ چلیں گے ، ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال کریں گے تو کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا ۔

احساس کیا ہے ؟

احساس کا مطلب ہے کہ انسان کے اندر دوسروں کا احساس ہو۔ وہ دکھ سکھ تکالیف خوشی غم محسوس کرنے والا ہو ۔ اگر انسان میں محسوس کرنے والی حس ہو گی تبھی وہ احساس کر سکے گا۔

ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا، اسکا بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہنے لگا “امی جان ابھی کل ہی تو میں نمک بازار سے لے آیا تھا پھر آپ کو ہمسائیوں سے نمک مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟”

ماں بڑی محبت سے کہنے لگی “بیٹا ہمارے ہمسائے غریب ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کل نمک لائے ہیں اور ہمارے کچن میں نمک موجود ہے لیکن میں نے ان سے نمک صرف اس لئے مانگ لیا تاکہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہ کریں، بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہے.

اس میں کوئی حرج نہیں یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں ” یہی احساس ہے. یہی دوسروں کا خیال ہے کہ کسی مدد کی جائے تو ایسے کی جائے کہ اسے معلوم تک نا پڑے کہ دوسرا اس پر احسان کر رہا ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ معاشرہ اب تک قائم ہے ۔ احساس کا ہونا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ احساس کے خاتمے کے ساتھ ہی تمام رشتے اور تعلقات بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ۔

حضرت علیؓ کا فرمان ہے
” کسی شخص کی قدر و قیمت کا اندازہ اُس کے اندر اِحساسِ ذمہ داری سے لگایا جاتا ہے۔ “

اسلام میں حقوق العباد کے تحفظ کا نظام …!

بچپن میں ہم لکڑہارے کی کہانی پڑھتے تھے کہ اس نے تین بیٹے کیسے آپس میں لڑتے تھے اور پھر ان کے باپ نے انہیں سبق سکھانے کے لیئے تینوں بیٹوں کو ایک ایک لکڑی دی اور اسے کاٹنے کا حکم دیا تینوں بیٹوں نے بہت ہی آسانی سے لکڑی کاٹ دی پھر اس بوڑھے باپ نے لکڑیوں کا ایک گٹھا بنایا اور پھر سے تینوں بیٹوں کو باری باری اسے کاٹنے کا حکم جاری کیا لیکن اس بار چونکہ لکڑیاں اکٹھی تھیں اس لیئے وہ لکڑیوں کا گٹھا کاٹ نا پائے ۔

تب لکڑہارے نے انہیں بتایا کہ یہی میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ جب تم لوگ الگ الگ اور جدا رہو گے تو کوئی بھی بڑی آسانی سے تم لوگوں کو نقصان پہنچا سکے گا لیکن جب تم لوگ لکڑیوں کے گٹھے کی طرح ایک ساتھ اور مل جل کر رہو گے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔

اسی لئے کہتے ہیں اتفاق میں برکت ہے ۔ ایک دوسرے کا حساس کریں گے ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو زندگی آسان ہو جائے گی ۔۔ اور پھر دشمنوں کی جرات نہیں پڑے گی کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں۔

اشفاق احمد کہتے ہیں،’’فاتحہ لوگوں کے مرنے پہ نہیں بلکہ احساس کے مرنے پہ پڑھنی چاہیے کیونکہ لوگ مر جائیں تو صبر آجاتا ہے مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے۔‘‘

یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں کسی کو ہماری ضرورت ہے اس کی مدد کریں ،اپنی حیثیت کے مطابق اسکی ضرورت کو پورا کریں ۔ یہی احساس ہے جو اگر ہم انسانوں میں ہو گا تو ہم اللہ تبارک و تعالی کے مزید قریب ہو جائیں گے ۔

رشتوں کی قدر کریں چاہے رشتے خون کے ہوں یا احساس کے ۔۔ اپنی نیت پاک صاف رکھیں۔ نیکی کریں۔ نیکی کا بدلہ اللہ دینے والا ہے تو اس کی امید بھی رب تعالی سے ہی رکھنی چاہیئے نا کہ انسانوں سے۔

زونیرہ شبیر ( زونی )

%d bloggers like this: