پاکستانیوں سب کا اس وبا میں مرنا لازمی نہیں ….!

فعال کیسز
Loading...

مہینوں میں چین بڑی حد وبا پر قابو پا چکا ہے۔ یہاں اب روزانہ کے تین، چار یا پانچ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ جو شہر بند تھے انہیں کچھ شرائط کے ساتھ کھول دیا گیا ہے اور جو شہر بند نہیں تھے، وہاں کی رونقیں آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہیں۔

پچھلے ماہ بیجنگ حکومت نے ایک اعلان میں اپنے شہریوں کو کم بھیڑ والی جگہوں پر بغیر ماسک کے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا قدم تھا جو بتاتا ہے کہ چین اپنے شہروں کو اپنے لوگوں کے لیے محفوظ بنا چکا ہے، تاہم شہر بھر کی یونیورسٹیوں میں مقیم بین الاقوامی طالب علموں کا ابھی بھی کیمپس سے باہر جانا منع ہے۔ ہاں، اب ضروری کام کی صورت میں خصوصی اجازت حاصل کرکے باہر جایا جا سکتا ہے۔ اجازت ملنے میں کم از کم سات دن لگ جاتے ہیں۔ میں نے کچھ ضروری کاموں کے لیے درخواست درج کروائی ہوئی تھی، جو بدھ کو منظور ہوئی۔

اگلے روز میں جیسے ہی یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی تو آزادی کی بجائے گرمی کا احساس ہوا۔ دل تو کیا سب چھوڑوں اور واپس کمرے میں جا کر اے سی کے سامنے بیٹھ جاؤں پر کام بھی ضروری تھے۔ ہمت کر کے سب وے سٹیشن کا رخ کیا۔ وہاں معمول سے بہت کم رش تھا۔ عملے کے چہروں پر ماسک اور ہاتھوں پر شفاف دستانے تھے۔ جو درجن بھر مسافر نظر آئے انہوں نے بھی ماسک پہن رکھے تھے۔ معمول کی چیکنگ کے بعد سب وے کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی۔ صبح کے دس بج رہے تھے۔ اس وقت عموماً بیجنگ سب وے میں پاؤں دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ اکثر قطار اتنی لمبی ہوتی ہے کہ اپنی باری آنے تک دو تین ٹرینیں تو نکل ہی جاتی ہیں، پر اس دن سٹیشن خالی تھا۔ ٹرین آئی تو اس کا بھی یہی حال۔ جیسا رش کرونا سے پہلے دیکھنے کو ملتا تھا، اس دن تو اس کا تصور کرنا بھی مشکل سا لگ رہا تھا۔

بیجنگ سب وے دنیا کی مصروف ترین سب وے ہے۔ اس میں روزانہ کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں۔ ایک ریکارڈ کے مطابق 12 جولائی 2019 کو تقریباً ایک کروڑ 37 لاکھ 75 ہزار افراد نے بیجنگ سب وے میں سفر کیا تھا۔ اتنی مصروف سب وے کا ایسا حال سالوں میں بھی کبھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لگتا ہے اصل تبدیلی یہاں آئی ہے۔

سب وے سٹیشن پر جو ٹی وی لگے ہوئے تھے ان پر ماسک پہننے کا صحیح طریقہ بتایا جا رہا تھا۔ سب وے کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی سکرینیں لگی ہوتی ہیں جن پر کرونا کی وبا سے پہلے لوگوں کو اینیمیشن کے ذریعے سب وے ٹرین میں داخل ہونے یا اس سے باہر نکلنے کا طریقہ یا سڑک کراس کرنے کا طریقہ یا دوسروں سے شائستگی سے بات کرنے کا طریقہ سمجھایا جاتا تھا۔ اس دن ان سکرینوں پر بھی کرونا وائرس کے حوالے سے مختلف آگاہی پیغامات دکھائے جا رہے تھے۔

Loading...

اس بلڈ گروپ کے لوگوں کو کرونا سے زیادہ خطرہ ہے …!

میری واپسی دوپہر میں ہوئی۔ اس وقت بھی سب وے سٹیشن پر رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ ٹرینوں میں لوگوں کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی کہ صبح۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اپنا وطن یاد آ گیا جہاں لوگ اس وبا کو عالمی سازش سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا اپنے گھروں میں دبکی بٹھی ہے اور ہم گھروں سے باہر پھر رہے ہیں۔ چینیوں کو ہی دیکھ لیں۔ یقیناً آپ اتنا کام نہیں کرتے جتنا یہ قوم کرتی ہے۔ اگر یہ اس وقت اپنے گھر بیٹھ سکتی ہے تو آپ بھی بیٹھ سکتے ہیں۔

ہماری پوری زندگی گھر بنانے اور رشتے نبھانے میں گزر جاتی ہے۔ اب جب قدرت اس گھر میں رہنے اور ان رشتوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دے رہی ہے تو ہم باہر جانا چاہتے ہیں۔ کام کوئی نہیں ہے لیکن وہ جو باہر کا چکر لگ جایا کرتا تھا اور اب نہیں لگ پا رہا، ہمیں وہ چکر لگانا ہے۔

محلے میں کس کے گھر کون آیا، کس کی بیٹی کتنے بجے گھر لوٹی، کس کا بیٹا کس سپیڈ پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا، ہمیں تو یہ دیکھنے باہر جانا ہے۔ جن کے گھر چولہا نہیں جل رہا، ان تک نہ ہماری پہلے پہنچ تھی اور نہ اب ہے۔ جس نے دینا دلانا تھا، وہ اپنے ارد گرد دے دلا کر فارغ ہو گیا۔ اصل کام تو حکومت کا تھا، وہ ویسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔

دو ہفتے پہلے تک کرونا کی وبا سے ہونے والی اموات ہمارے نزدیک بس کچھ نمبر تھے، اب ان میں ہمارا کوئی نہ کوئی عزیز بھی شامل ہو چکا ہے۔ ہم پھر بھی احتیاط نہیں کر رہے۔

موت کا ایک دن معین ہے۔ اسے اپنے وقت پر آنے دیں۔ ہم سب کا اس وبا میں مرنا لازمی نہیں۔ کرونا کے بعد اس دور کی باتیں بتانے کے لیے بھی کچھ لوگ ہونے چاہییں۔ ویسے بھی ہماری حرکتیں یونہی رہیں تو اور بھی وبائیں آئیں گی۔ انہیں بھی تھوڑی خدمت کا موقع دیں۔ تب تک اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا دھیان رکھیں اور حکومت کی باتوں میں آنے کی بجائے عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کھنگالیں۔

(Visited 54 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں