پی ٹی آئی نے سندھ سرکار کیخلاف نیب میں جانے کا اعلان کر دیا

Loading...

کراچی: پی ٹی آئی نے سندھ سرکار کیخلاف نیب میں جانے کا اعلان کر دیا، حلیم عادل شیخ کہتے ہیں صوبے میں ہر کام پر 52 فیصد رشوت لی جاتی ہے، 256 ایکڑ زمین کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں، ریکارٖڈ موجود ہے۔

معاشی نمو کیلئے آؤٹ آف دی باکس حل کی ضرورت ہے، وزیراعظم

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مراد علی شاہ کو بلایا جائے تو وہ جاتے نہیں، امتیاز شیخ کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہییں۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سندھ میں جوکام ہوتاہے اس میں 52 فیصد رشوت لی جاتی ہے، یہ کراچی کو کچھ نہیں دیں گے صرف پیسہ لوٹیں گے، نیب میں ہم بھی شکایت درج کرائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فاروق ایچ نائیک ماہر ہیں، کبھی خود بیمار ہوتے ہیں کبھی جج، دعا کرتا ہوں کہ زرداری اور شریف کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

‘پھولن دیوی کے کہنے پر مجھے سلطانہ ڈاکو بنا دیا گیا’

اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ بلائے تو جانا چاہیے، نیب میں ان لوگوں کی پیشی ہو تو لاٹھی لے کر آتے ہیں بعد میں جاگنگ کرتے نظر آتے ہیں، ہمیں نیب کی طرف سے نوٹس بھی نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے جب بلایا حاضر ہو جاؤں گا، نیب کے کل کے نوٹس میں منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں ہے، پھولن دیوی کے کہنے پر مجھے سلطانہ ڈاکو بنا دیا گیا۔

Loading...

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اینٹی کرپشن میں 14 مقدمےدرج ہیں،کارروائی نہیں کی جاتی، ایک تعلقے میں سیکڑوں افراد نے ہوٹل، پیٹرول پمپ، سیمنٹ فیکٹری، فارم ہاؤس بنا رکھے ہیں، ہم نے اومنی گروپ کے خلاف ریلی نکالی تو انہوں نے آنٹی کرپشن نے اینٹی کرپشن کو میرے پیچھے لگا دیا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر نہیں بنتی ورنہ ہوچکی ہوتی، اینٹی کرپشن نے میرے خلاف جھوٹ کا پلندہ بنادیا، آج فشری کی صورتحال نثار مورائی سے زیادہ خطرناک ہے، فشری میں ایک ارب 80 کروڑ آیا جو کرپشن کی نذر ہو چکا فشری میں 100 فیصد کرپشن ہو رہی ہے جب کہ یہاں غیر قانونی طور پر چیئرمین بیٹھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مضافات میں ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر دی جاتی تھی، ان کے دور میں بھتہ لیا جاتا تھا ہم نے بھتہ نہیں دیا ہم نے کہا جو سرکاری فیس ہے وہ ہم سے لے لیں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ملیر میں انہوں نے ہزاروں ایکڑ زمین جعلی چالان پر لیز کر کے دی ملیر میں زمین پر قبضے میں پی پی رہنما شریک ہیں،ملیر میں جو کچھ ہوا اس پر ایک جے آئی ٹی بنائی جائے، انہوں نے کوڑیوں کے داموں غیر قانونی زمینیں بانٹیں جب کہ مائنز میں غیر قانونی لیز ٹھٹہ میں دی گئی ہیں۔

(Visited 14 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں