ماہرین کا کرونا سے ایک اور جسمانی عضو کے متاثر ہونے کا انکشاف

کرونا سے
Loading...

جب سے کرونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی ہے ماہرین اس قانون کو آغاز سے ہی نظام تنفس کی بیماری قرار دے رہے ہیں.

لیکن اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے جسم کے ایسے حصوں کو بھی تباہ کر رہا ہے جس کا نظام تنفس سے کوئی تعلق نہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں سے ہمیں اس بات کا شبہ تھا کہ کرونا وائرس سے انسان کی آنکھیں بھی متاثر ہورہی ہیں. لیکن اب ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے متعلق کئی ثبوت بھی سامنے آگئے ہیں.

یہ انکشافات چائنہ کے ماہرین نے کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چائنہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جو کے کرونا سے صحت یاب ہوئی تھی. صحتیاب ہونے کے کچھ دنوں بعد اس کو آنکھوں کا مرض موتیا ہو گیا اور یہ ہسپتال میں آئی جب ڈاکٹر نے اس خاتون کی آنکھوں کی سرجری کے لئے اس کے آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ کیا تو ان کو کرونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا.

ماہرین نے یہ تحقیق ایک رپورٹ میں شائع کی ہے اور کہا ہے کہ خاتون کے کیس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ کرونا وائرس انسانوں کے نظام تنفس کو تباہ کے ساتھ ساتھ انسان کی آنکھوں کے ٹشوز کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے.

Loading...

ہسپتال میں آنے والی خاتون کی عمر 64 سال تھی اور اس میں کرونا کی علامات 18 دن بعد ختم ہو گئی تھی اور اس کا ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا. ماہرین نے تفصیلات میں بتایا کہ اس خاتون کی پہلے ایک آنکھ میں تکلیف ہوئی اور اس آنکھ کی بینائی ختم ہونا شروع ہوگئی.

کراچی میں ایک ماہ تک موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی، نوٹیفکیشن جاری

کچھ دن بعد پھر دوسری آنکھ میں بھی ایسا ہی ہوا اور یہ خاتون ہسپتال میں داخل ہوگئی اور اس میں آنکھوں کے موتیا کی تشخیص ہوئی. ڈاکٹروں پہلے اس خاتون کو ادویات دینا شروع کی لیکن ان کا کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آیا پھر ماہرین نے سرجری کرنے کے لئے اس کے ٹشوز کے نمونے حاصل کیے

ٹشوز کے نمونوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین کو معلوم ہوا کہ اس خاتون کی آنکھوں کے ٹشوز پر کرونا وائرس نے حملہ کیا ہے. لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم ابھی تک یہ بات نہیں جان سکے کے کس طرح کرونا آنکھوں کے ٹشوز پہنچا.

کچھ ماہرین نے پہلے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انسان کی آنکھوں کے بیرونی اور اندرونی حصے کرونا وائرس کے داخل ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں اسی لیے ماہرین نے انسان کو ماس لگانے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو چشمہ لگانے یا فیس شیلڈ لگانے کی ہدایات بھی کی تھی.

ماہرین نے مزید کہا کہ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بار اپنی آنکھوں کو چھوتے ہیں۔ تو ہاتھوں کو اکثر دھونا اور جس حد تک ممکن ہو آنکھوں سے انہیں دور رکھنا کسی بھی وائرس کے آنکھوں تک پہنچنے کے امکان کم کرتا ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں