ہم دماغی بیماری کو نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں؟

ہم دماغی بیماری

ذہنی صحت دراصل ہے کیا؟ ہم کس طرح سوچتے ہیں، کیسا محسوس کرتے ہیں اور کس طرح کا سلوک کرتے ہیں؟ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم دماغی بیماری میں بھی کوئی شرمندگی محسوس نہ کریں. آپ کو بھی ایسا لگتا ہو گا کہ ہم دماغی بیماری کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی جسمانی بیماری۔ ہم اپنی کسی بھی جسمانی بیماری کے لیے ڈاکڑ کے پاس جاتے ہیں جیسے دل کا عارضہ ہو تو دل کا ڈاکڑ، گُردے کی عارضے کے لیے گُردے کے ڈاکڑ کے پاس جاتے ہیں تو پھر ہم دماغ کے عارضے کو معمولی کیوں سمجھتے ہیں؟
ذہنی بیماری کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے لیکن لوگ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں جیسے کوئی بہت عجیب بات ہو کسی دماغی ڈاکڑ سے علاج کروانا۔
یہاں کسی کو کینسر ہو جائے یا ہارٹ اٹیک ہو جائے تو لوگ کہتے ہیں خدا کی طرف سے آزماہش ہے لیکن جب بات کسی دماغی بیماری کی آتی ہے تو یہ ضرور کسی گناہ میں مبتلا رہا ہوگا تب ہی نفسیاتی ہو گیا ہے۔ اب یہاں ہمیں اس سوچ کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اسی سوچ کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے دماغی عارضے کو شرمندگی کا باعث سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے دماغی بیماری بھی اتنی ہی عام بات ہے جتنی کہ باقی تمام بیماریاں دماغی بیماری بھی خدا کی کوئی آزمائش ہو سکتی ہے.
اگر آپ میں سے کوئی کسی بھی ذہنی دباؤ یا کسی دماغی مرض میں مبتلا ہے تو آپ کو فوراً کسی دماغ کے ڈاکڑ کے پاس جانا چاہیے ایسے ہی جیسے آپ اپنے بخار کے لیے ڈاکڑ کے پاس جاتے ہیں۔ اس بات سے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ لوگ کیا کہیں گے آپ اتنے ہی عام نورمل انسان ہیں جتنا کہ کوئی کسی جسمانی بیماری کے ساتھ ہوتا ہے۔جب بات دماغی بیماری کی آتی ھے تو سب ایسے خاموش ہو جاتے ہیں، جیسے دماغ تو جسم کا حصہ ہی نہ ہو۔

ہمارے ہاں دماغی مریض کو پاگل، خبتی اور نفسیاتی بولتے ہیں مگر کیا آج تک آپ نے کسی کینسر کے یا دل کے مریض کے لیے کوئی نام سنے یا رکھے ہیں؟ دماغی طور پر بیمار انسان کو پاگل یا نفسیاتی کہنا (صرف اس لیے کہ وہ کسی دماغی دباؤ کا شکار ہیں) غلط ہے۔ وہ بھی اتنے ہی عام انسان ہیں جیسے کہ کوئی دل کی بیماری کے ساتھ ہوتا ہے اور دماغی بیماری بھی اتنی ہی تکلیف دہ ہوتی جتنا کے ہارٹ اٹیک اس لیے اس کو معمولی نہ سمجھیں۔ دماغی بیماری بھی جسمانی بیماری ہی ہے اور تمام بیماریوں کو سہنے والے لوگوں کو محبت اور اپنایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

loading...

تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بچہ کسی وجہ سے دماغی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، اور جوانوں میں ہر دس میں سے ایک نوجوان شدید دماغی تکالیف کا شکار ہوتا ہے۔

اگر دماغی بیماری کو وقت پر قابو نہ کیا جاۓ تو یہ آپ کے بچے کو سکول میں ناکامی یہاں تک کہ نشے کی عادت تک لے جا سکتا ہے اور کچھ کیسز میں تو بچے تشدد پسند بھی ہو جاتے ھیں اور بات خودکشی تک بھی جا سکتی ہے اس لیے دماغی بیماری کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں اور بروقت کسی اچھے معالج سے رابطہ کرنا لازم ہے۔

وزن کم کرنے کا ایک بہت آسان حل..!

ذہنی بیماری کی عام علامات معمولی سے شدید بیماری تک:

•بے وجہ تھکاوٹ
نیند کا نہ آنا
•بلا وجہ غصہ
•فریبِ نظر (آوازیں سننا)
•موڈ بدلنا
•اکیلا محسوس کرنا
•بہت ذیادہ بھوک لگنا یا بلکل بھوک نہ لگنا
•بلا وجہ الجھنا
•خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کا سوچنا
•موت یا خودکشی کا خیال آنا

دماغی بیماری کے اسباب:

•نظر انداز ھونا
•قبل از پیداہش کوئی پیچیدگی
•ماں باپ یا کسی قریبی عزیز کو کھو دینا
•جسمانی یا جنسی ذیادتی
•جینیاتی ذہنی مسائل
•علیحدگی یا طلاق
•یا دماغ کے کسی خاص حصے پر چوٹ کا لگنا

آخر میں میں بس اتنا کہوں گی کہ رونا ٹھیک ھے، چپ رہنا یا بولنا بھی ٹھیک ھے مگر اپنی بیماری کو نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں ہے ہم سب جانتے ہیں کہ غم سے نکلنا مشکل ہے مگر غم میں مستقل رہنا مشکل ترین ہے اس لیے اپنے غم کا اپنی بیماری کا باوقت علاج کروایں بنا یہ سوچے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ کیونکہ لوگ تو ہر حال میں بولیں گے لوگوں کا کام ہے بولنا انہیں آپ چپ نہیں کروا سکتے مگر اپنی بیماری کو ختم کر سکتے ہیں۔

جویریہ ملک

(Visited 77 times, 1 visits today)

Comments

comments

پاگل, دماغی بیماری, ذہنی صحت, ہم دماغی بیماری,

اپنا تبصرہ بھیجیں