کورونا وائرس ۔۔ چین کی بےبسی …؟

چین

کورونا وائرس کی یلغار نے فی الحال وہ تباہی نہیں مچائی ہے جسکا واویلا ہمیں مین اسٹریم یا سوشل میڈیا پر سننے کو مل رہا ہے، چین نے سرعت سے اقدامات کیے ہیں اور بیماری کو بڑی حد تک اسکے نمو کی جگہ تک محدود کر دیا ہے۔ یہ بیماری ہے کیا؟ کیسے پھیلتی ہے؟ کیا نقصان پہنچاتی ہے؟ ۔۔یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہم اس بیماری کے، چین پہ بحیثیت ایک ملک کے، پڑنے والے اثرات اور چین کے ردعمل کی نوعیت پر بحث کریں گے۔

عالمی تجزیہ کار اب آہستہ آہستہ چین کو آئندہ کی سپر پاور کے طور پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں، گو یہ مرحلہ ابھی دور ہے لیکن چین کی معاشی طاقت اور ترقیاتی سرگرمیوں کی اٹھان اسکے عالمی حجم کو واضح کر رہی ہے۔

عالمی معاملات میں بردباری کا رویہ چین کی پہچان رہا ہے،اپنے ذاتی معاملات کے علاوہ اگر اس نے اپنے معمول کی نیم دروں نیم بروں پالیسی سے کچھ انحراف کیا ہے تو وہ صرف پاکستان کے معاملے میں ورنہ وہ بڑی حد تک غیر جانبداری اور پہلو بچا کے رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکن ہونے کے باوجود گلوبل چیس بورڈ پر چین نے کبھی جارحانہ چالیں نہیں چلیں۔۔۔اپنی ترقی کی رفتار بڑھانے کے ساتھ ساتھ چین نے جب اپنی عوام کی مناسب کیپیسٹی بلڈنگ کرلی تو دنیا کے دیگر ممالک کو اپنی ترقی کی کا ماڈل دکھاتے ہوئے انکے سامنے OBOR(ون بیلٹ ون روڈ) کا منصوبہ رکھا اور انہیں بھی ترقی کی ترغیب دلائی۔

یہاں سے عالمی معیشت اور دیگر معاملات پر اجارہ داری رکھنے والے بڑے ممالک کا ماتھا ٹھنکا اور چین کی اس معاشی پیشقدمی کے منصوبے کے آگے بند باندھنے کی سعی شروع ہوئی، میانمار (برما) میں، جہاں کی فوجی جنتا سے اپنے تعلقات بہتر بنا کر چین ایک بندر گاہ تعمیر کر چکا تھا اور وہاں کی مغرب نواز حکمران آنگ سانگ سوکئی سے بھی بڑی حد تک معاملات درست سمت میں جا رہے تھے، اچانک ہنگامے شروع ہو گئے، اراکان کے روہنگیا نسل کے معاشی اور سیاسی طور پر لاچار مسلمانوں کو بدھ مت کے پیروکاروں نے ہدف بنایا اور اس انداز میں ظلم ڈھایا کہ جیسے انہیں ان مظالم کے دنیا بھر میں عریاں طور پر نظر آنے سے کوئی سروکار نہیں، مطلب واضح تھا کہ میانمار حکومت پر دباؤ ڈال کر اسے چین کی طرف سے پھیلائے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو جھٹکنے پر مجبور کیا جائے، چین کو پیغام مل گیا لیکن اس نے روایتی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

بنگلہ دیش میں چین کی طرف سے تعمیر کی جانے والی بندرگاہ پر کام جاری ہے اور فی الحال وہاں چونکہ حسینہ واجد کی پارٹی کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر سیاسی طاقت موجود نہیں اور یہ بھی کہ چین کو آسام سے گزر کر بنگلہ دیش پہنچنا ہوگا جس کے لیے بھارت سے معاملات طے ہونا باقی ہیں اس لیے ابھی وہاں امن ہے لیکن 1971 میں مشرقی پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بچانے میں کوششیں کرنے والے جماعت اسلامی کے وہ تمام سیاستدان جنہیں حسینہ واجد کی حکومت غدار ڈکلیئر کر چکی تھی قانون، روایات اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے پھانسی چڑھائے جا چکے ہیں اور متوقع عوامی ردعمل کو حکومت کنٹرول کرنے میں کامیاب رہی ہے۔۔۔یہی ردعمل ان عالمی طاقتوں کا اثاثہ ہے جسے کسی نہ کسی مقامی مسئلے کا رنگ دے کر عین اس وقت ابھارا جائے گا جب حکومت کو چینی بندرگاہ سمیت کسی مسئلے پر بلیک میل کر کے مجبور کرنا ہوا، (کچھ اور نہ بن پڑا تو بنگلہ دیشی مسلمانوں کی دین سے وابستگی کی وجہ سے یہاں داعش کا ظہور بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے)۔۔۔سری لنکا میں چین کی طرف سے تعمیر کی جانے والی بندرگاہ تعمیر بھی ہوچکی اور اس کی وجہ سے وہاں شدید ہنگامے بھی ہو کر فرو ہو چکے ہیں،،،، پاکستان میں OBOR کا سب سے اہم حصہ سی پیک کے نام سے تعمیر کے مراحل سے گزر رہا ہے اور اس کے خلاف پاکستان کے کون کون سے جغرافیائی یا خطے کے ہمسائے نے سازش میں حصہ نہیں لیا، کس کس ملک کی پروکسی اسکی تعمیر میں حائل نہیں رہی، کیا کیا متبادل پاکستان کو سجھائے نہیں گئے۔۔یہ سب کچھ اب میڈیا کے طفیل ہم سب کے علم میں ہے لیکن کوئی لالچ، دھونس، دھمکی یا خطرہ پاکستان اور چین کو سی پیک سے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور نہ کرسکا۔۔چین اور پاکستان نے سی پیک پر تحمل کی مستقل پالیسی اپنائے رکھی جو ابھی تک جاری ہے اس منصوبے کی راہ میں اب ابھی اگرچہ بے انتہا چیلنج موجود ہیں لیکن امید یہی کی جاتی ہے کہ دونوں ملک باہمی تعاون سے ان پر قابو پا لیں گے۔

کورونا وائرس کی اس بیماری نے چین کے حوالے سے کچھ سوالات کو جنم دیا ہے جن کے جواب کے بغیر چین کو عالمی برادری میں ناصرف اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو گا بلکہ بہت ممکن ہے کہ کہیں نہ کہیں اسے پسپائی پر بھی مجبور ہونا پڑے۔

آفات ارضی و سماوی سے مفر نہیں لیکن کسی قوم اور ملک کی ان سے نمٹنے کی صلاحیت دنیا میں اسکے مقام کے تعین میں اہم عنصر ہوتی ہے، چین ابھی تک تو کامیابی سے کرونا وائرس کی اس افتاد کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن کیا وہ کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ اس سے نمٹنے میں کامیاب ہو پائے گا اسکا جواب آنے والا وقت دے گا۔ ایسی کسی بھی بیماری کے ظہور کے بعد سازشی تھیوریوں کا ایک طوفان بھی برپا ہو جاتا ہے کہ یہ بیماری دیگر فلاں فلاں بیماریوں کی طرح فلاں طاقت نے جراثیمی ہتھیار کے طور پر استعمال کی ہے یا چین بھی فلاں عالمی طاقت کی طرح اس بیماری کی ویکسین بنا کے اب یہ بیماری اور اس کا خوف پھیلائے گا اور پھر بعد میں ویکسین بنا ڈالنے کی خوشخبری دے کر علاج کے نام پر پیسے کمائے گا۔۔گزشتہ اور موجودہ استعماری طاقتوں کے حربے دیکھے جائیں تو یہ سازشی تھیوریاں اتنی غلط بھی محسوس نہیں ہوتیں،

چین کو اپنا وصف سمجھی جانے والی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے ان شکوک و شبہات کا عالمی ضمیر کو مطمئن کر دینے والا جواب دینا ہوگا جہاں اسکی عالمی طور پر مضبوط حیثیت بھی متزلزل نظر نہ آئے اور ساکھ بھی برقرار رہے۔۔۔اگر یہ واقعی کوئی بیرونی جراثیمی حملہ ہے تو چین کو شاید پہلی بار اپنی restraint کی پالیسی چھوڑ کر جارحیت کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔۔یاد رہے چین اکیلا ہی نہیں بلکہ ریڈ کریسنٹ کے تمام جغرافیائی خطے کی غذا کم و بیش ایک جیسی ہے۔۔۔یورپ میں بھی منچلے شوقیہ بہت سے کریہہ کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں بلکہ وہاں چلنے والے بہت سے کروزشپ کی تو یہ خاص ڈش ہوتی ہے لیکن وہاں کبھی ایسی کسی بیماری کے پھوٹنے کی اطلاع نہیں ہے۔۔اور اگر ایسا نہیں ہے اور نہ ہی یہ مقامی طور پر اپنائی گئی کسی جراثیمی پالیسی کا شاخسانہ ہے تو دنیا کو یقین دلانے کے لیے چین کو خاصی بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی۔۔۔کاروباری طور پر کمزورشخصیت ہو ادارہ ہو یا کوئی ملک اگر اسکی کمزوری عیاں ہو جائے تو اسے مارکیٹ کے لوگ روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں، چین کو ایک طاقت کے طور پر ناصرف اپنی عالمی ساکھ بچانی ہے بلکہ OBOR کی داؤ پر لگی ہوئی ساکھ بھی بچانی ہے۔۔۔کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی میڈیا (پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا بھی) چین کے خلاف بغض و عناد کی پالیسی پر گامزن نظر آیا، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا مغربی میڈیا کو تو ایک کمزوری ہاتھ آ گئی، اس انداز میں اس بیماری کی رپورٹنگ کی جاتی رہی اور کی جا رہی ہے جیسے یہ سب کچھ چین کی صریحاً غفلت سے وقوع پذیر ہوا ہو۔

کرونا وائرس دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، عالمی ادارہ صحت

میڈیا پیسوں سے چلتا ہے، عالمی طاقتیں اس پر خوب انویسٹمنٹ کرتی ہیں، بیانیوں کو اپنے مفادات کے لیے بنایا اور پھیلایا جاتا ہے، زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما سے خارج ہونے والی ایٹمی تابکاری نے ماحولیات کے لیے کیا چیلنجز پیدا کیے آپ کو اسکا ذکر کم ملے گا کیونکہ جاپان طاقتوروں کا بغل بچہ ہے، فرانس نے سمندروں میں جو ایٹمی ٹیسٹ کیے اسکا ذکر بھی شاید نہ ہونے کے برابر اور ناکارہ ایٹمی مواد کی سمندر بردگی یا ویران جزیروں پر ڈمپنگ کا ذکر بھی خال خال لیکن چرنوبل دنیا بھر کو ازبر ہے کیوں؟ اس لیے کے بیانیے کا اپنا میدان جنگ ہے۔۔۔شاید اب چین کو بھی پوری تیاری کے ساتھ بیانیے کے اس کارزار میں اسی انداز میں اترنا ہوگا جس انداز میں باقی عالمی طاقتیں اتری ہیں۔۔۔موجودہ چینی میڈیا کا اثر محدود تر ہے چنانچہ جب تک کم از کم “الجزیرہ” کے انداز کے چینی ملکیت والے چینلز وجود میں نہیں آ جاتے تب تک چین کو اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو استعمال کر کے دنیا کے معتبر میڈیا ہاؤسز میں خاطر خواہ انویسٹمنٹ کرنا پڑے گی۔

چین اپنے مفادات کے حوالے سے ملکوں کی اخلاقی یا سفارتی حمایت کیا کرتا تھا، اسلحہ یا ٹیکنالوجی دیتا تھا یا معاشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا تھا لیکن اب اسے شاید کچھ جارحانہ مزاج اپنانا پڑے کیونکہ آپکے نقصان پہنچانے کی صلاحیت اب آپ کے کاروبار کی حفاظت کی ضمانت ہے ورنہ آپکا تحمل، بردباری، صلح جوئی اور افہام و تفہیم تاریخ میں بھی آپ کے لیے کوئی اچھا مقام متعین نہیں کریں گے۔

آخری بات یہ کہ دنیا کی آبادی پھیلتی جا رہی ہے اور دنیا سکڑتی جا رہی ہے تمام عالم انسانیت گویا دنیا نام کی ایک کشتی میں سوار ہے چنانچہ اب اگر کشتی کا کوئی مسافر بھی بے اصولی برتے یا غیر منطقی رویہ اپنائے تو اسکا اثر اس “گلوبل شپ” پر پڑے گا اور تمام ہی مسافر نقصان میں رہیں گے اس لیے ایسی غذاؤں سے پرہیز کی پالیسی عالمی طور پر متعارف بھی کروائی جائے اور اپنائی بھی جائے جو کسی وبا یا بیماری کا باعث بن سکتی ہوں اور اسکی ابتدا اگر چین سے ہو جائے تو دنیا کے لوگوں کو ایک محبت بھرا پیغام جائے گا۔
(تمت)
تحریر : عامرکریم خان

(Visited 82 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

چین, کورونا وائرس,

اپنا تبصرہ بھیجیں