ماہرین نے کرونا کے ایسے مریضوں کے لیےخطرے کی گھنٹی بجادی….!

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے صورتحال آئے دن بدتر ہوتی چلی جارہی ہے دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس سے 2 لاکھ 92 ہزار 893 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 43 لاکھ 42 ہزار 354 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں.

دنیا کے سپر پاور ملک امریکا میں متاثرین کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ گئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 83 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ امریکی ماہرین نے اپنی ریسرچ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کرونا وائرس نہ صرف انسان کی قوت مدافعت کو کمزور بنا کر اس کی جان خطرے میں ڈال دیتا ہے بلکہ اگر کوئی شخص گردوں کے کسی معمولی سے مرض میں بھی مبتلا ہوتا ہے تو یہ اس کے دونوں گردے خراب کردیتا ہے.

امریکن ویسٹرن یونیورسٹی نے کرونا وائرس سے مرنے والے لوگوں پر ریسرچ کی اور اس ریسرچ سے اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ جب گردوں کا معمولی سا مرض رکھنے والا کوئی شخص کرونا وائرس کا شکار ہوا تو اس خطرناک وائرس نے اس شخص کے دونوں گردے مکمل ناکارہ کردیئے.

گردوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے تحقیقی عمل میں یہ دیکھا کہ 30 میں سے 25 مریضوں کے گردے کرونا وائرس نے بنا دیے اور ایسے مریضوں کی شرح اموات بھی 50 فیصد سے زیادہ نظر آئی.

پورن فلموں والے کرونا وائرس سے کیسے فائدہ اٹھارہے ہیں…. ؟

امریکن نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین کے علاوہ چائنا کے ماہرین نے بھی اپنی رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کرونا وائرس کی مریضوں کے گردے خراب کرنے والی جو قسم ہے وہ انتہائی خطرناک ہے.

ہم اس کی پیچیدگی کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے. اگر گردوں کا مرض رکھنے والا کوئی شخص کرونا وائرس کا شکار ہوتا ہے تو اس کے گردوں میں خون کے لوتھڑے بننا شروع ہو جاتے ہیں اور ان میں سوجن بھی آجاتی ہے.

اس کے علاوہ کچھ ایسی علامات بھی ہوتی ہیں جو مریض میں ظاہری طور پر تو نظر نہیں آتی لیکن اس کو اندر سے نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں امریکی ماہرین کی تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو چاہیے کہ وہ اس کرونا وائرس کا شکار گردے کا کوئی بھی مرض رکھنے والے مریض پر خاص توجہ دیں اور ان کے گردوں کو ٹیسٹ کرواتے رہیں اور جو مریض ڈائلیسس پر ہیں ان کی خصوصی نگرانی کرنی چاہیے.

(Visited 59 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں