کیا فلاحی کام قربانی کا متبادل ہوسکتے ہیں؟

Loading...

آج کل اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قربانی کی جگہ کوئی فلاحی کام کیوں نہیں کیا جاتا؟ کثیر تعداد میں جانور ذبح کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ معاشرے میں بہت سارے فقیر اور مسکین لوگ ہیں قربانی پر خرچ کی جانے والی رقم سے ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی؟

ان سوالات کے جواب کے لیے سب سے پہلے یہ بات جاننی چاہیئے کہ قربانی کہتے کسے ہیں۔ قربانی کہتے ہیں کہ ثواب کی نیت سے مخصوص جانور کو مخصوص وقت میں ذبح کیا جائے، یعنی ثواب کی نیت سے گائے، بیل، بھینس، دنبہ اور بکری وغیرہ کو ذی الحجہ کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخوں میں سے کسی دن ذبح کرنا۔

ہر مسلمان، بالغ اور مقیم جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجات اصلیہ سے زائد موجود ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات کی صورت میں ہو یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا مسکونہ مکان سے زائد مکان وغیرہ کی صورت میں ہو۔

لاہور میں مویشی منڈیاں کہاں کہاں لگائی جائیں گی…؟

قربانی ایک اہم اور مستقل عبادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے بعد دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا اور آپ ہر سال برابر قربانی کرتے تھے (ترمذی)۔ اسی طرح نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں اس سے افضل کوئی عمل نہیں۔

Loading...

قربانی کی حقیقت اور فضائل سے معلوم ہو گیا کہ یہ ایک مخصوص اور مستقل عبادت ہے اور ہر صاحب نصاب پر لازم ہے۔ اگر ان مخصوص ایام میں صاحب نصاب نے قربانی نہ کی تو وہ گناہ گار ہو گا۔ جس طرح نماز روزے کی ادئیگی سے ادا نہیں ہوتی اور حج زکوٰۃ کی ادائیگی سے ادا نہیں ہوتا اسی طرح قربانی بھی صدقات اور فلاحی کاموں میں مال خرچ کرنے سے ادا نہیں ہوتی۔ لہذا صاحب نصاب پر لازم ہے کہ قربانی کر کے سنت ابراہیمی پر عمل کرے۔

جن حضرات کے ذہنوں میں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ قربانی کی جگہ فلاحی کام کیوں نہیں کیے جاتے؟ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کیوں نہیں کھلایا جاتا؟ اور انہیں کپڑے کیوں نہیں فراہم کیے جاتے؟ ان کے ذہنوں میں یہ سوالات اس وقت کیوں نہیں اٹھتے جب چودہ اگست منانے کے لئے سرکاری طور پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی مختلف مواقع پر غیر ضروری کاموں میں بے دریغ دولت لٹائی جاتی ہے۔ اس وقت یہ لوگ کہاں ہوتے ہیں؟ نیز یہ اعتراض ان کو ان سرمایہ داروں پر کیوں نہیں ہوتا جن کے پاس ضرورت سے زائد بڑے بڑے بنگلے اور گاڑیاں ہیں۔

لیکن افسوس کہ یہ لوگ صرف عیدالاضحی کے موقع پر غریبوں کے خیرخواہی کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوں کو سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے روکنے کے ارادے سے صدقات اور فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ صدقات اور فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب دینا اچھی بات ہے، لیکن اس کا مقصد مسلمانوں کو قربانی سے روکنا نہیں ہونا چاہیئے۔ اللہ تعالی ہم سب کو دین پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

تحریر: عبدالوحید شانگلوی

(Visited 64 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں