جنوبی سوڈان میں فوج اور شہریوں کے درمیان تصادم میں 127 افراد ہلاک

جنوبی سوڈان
Loading...

جوبا: شمالی افریقی ملک جنوبی سوڈان میں شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 127 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے والے ملک جنوبی سوڈان کے قصبے تونج میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف جاری آپریشن کے دوران فوجیوں اور عام شہریوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دونوں جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 127 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی ہو گئے۔

جنونی سوڈان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل روائی نے ’’ اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے 45 اہلکار جب کہ 82 مقامی نوجوان تھے۔ مزید 32 فوجی زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 6 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

عوامی مطالبے پر لبنانی وزیراعظم حسن دیاب کابینہ سمیت مستعفی

سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملک میں مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث خانہ جنگی ہی جاری تھی جس کے خاتمے کے لیے صدر سلوا کیر نے سیاسی رہنما رائیک ماچر کو گروہوں کو ہتھیار واپس لینے کی شرط پر نائب صدر مقرر کیا تھا۔

Loading...

عرب میڈیا کے مطابق جنوبی سوڈان نے 2011 میں سوڈان سے آزادی کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے دو سال بعد ہی علاقے میں اس وقت خانہ جنگی شروع ہوگئی جب صدر سلوا کیر کو ان کے نائب ریک مارچر نے برطرف کردیا۔

متاثرہ ریاست کے حکام کا بتانا ہےکہ حالیہ پرتشدد واقعات اس وقت شروع ہوئے جب عام شہریوں نے فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا جس کے بعد علاقے میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی اور مسلح شہریوں نے قریبی علاقے میں موجود فوجی اڈے پر حملہ کردیا۔

(Visited 21 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں