بی آر ٹی ( بس ریپڈ ٹرانزٹ )منصوبے کا بلآخر افتتاح

بس ریپڈ ٹرانزٹ
Loading...

بی آر ٹی( بس ریپڈ ٹرانزٹ )منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کے گذشتہ دورحکومت میں سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے شروع کیا جسے 6 ماہ میں مکمل ہونے کا دعوی کیا گیا تھا تاہم اس منصوبے کو مکمل ہونے میں 3 سال لگ گئے۔اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ49 ارب روپےتھا جو 71ارب سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

بس ریپڈ ٹرانزٹ میں 220 چھوٹی بڑی بسیں موجود ہیں جو کہ تمام ائیر کنڈیشنڈ کی سہولت سے آراستہ ہیں۔بس کا روٹ شاہراہ حیات آباد ،کارخانو مارکیٹ سے چمکنی تک ہے۔مخصوص کوریڈور میں 30 اسٹاپ ہیں اور پہلی منزل سے آخری تک کے سفر کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے ہوگا۔

اسٹیشن پر مسافروں کے لئے بیٹھنے کاا نتظام،پانی، پنکھے فری وائی فائی اور دیگر سہولیات ہوجود ہیں۔مسافروں کو زیادہ انتظار نہیں کرنا ہو گا کیونکہ ہر تین سے پانچ منٹ کے دورانیہ میں بس آئے گی جو کہ بیس سیکنڈ تک اسٹیشن پر رکے گی۔

بسوں میں خواتین، معذور اور ضعیفوں کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے۔معذور افراد کے لئے دروازے کے عین سامنے والی سیٹوں کو مختص کیا گیاہے تا کہ آسانی رہے۔ڈرائیور حضرات کا بھی الگ کیبن ہے۔بی آر ٹی ہفتے میں سات دن صبح چھ سے رات 10 بجے تک چلے گی۔اس منصوبے سے یومیہ تین لاکھ 60 ہزار لوگ استفادہ کرسکیں گے۔

Loading...

بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل کے بعد پشاور کے شہریوں کو نہ تو بسوں کاانتظار کرنا پڑے گا اورنہ ہی چھتوں پر سفر کرنا پڑےگا۔ یہ ٹرانسپورٹ کا جدید ترین منصوبہ ہے، جو نہ صرف پشاور کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا بلکہ ٹرانسپورٹ میں بہتری لائے گا۔

بی آر ٹی منصوبے میں تاخیرہونے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا آغاز تاہم حکومتی درخواست پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو منصوبے کی تحقیقات سے روک دیا۔بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بی آر ٹی منصوبے کے بارے میں دائر پٹیشن پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں ایف آئی اے سے کہا گیا کہ وہ 45 روز میں اس منصوبے کی انکوائری مکمل کرے تاکہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس منصوبے میں منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث بار بار تبدیلیاں کی گئیں جس سے نہ صرف منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا بلکہ لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا۔

یوم آزادی: پاکستانی صارفین کے لئے پب جی کا دبنگ اعلان

بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح کرنے کے لئے نو بار تاریخ دی گئی لیکن اس کا افتتاح نہیں ہو سکا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کئی بار اس منصوبے کے مکمل ہونے کی نوید سنائی اور اب جا کر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔

جون 2020 میں بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب تاخیر کی گئی۔آج 13 اگست 2020 کو اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ابھی تک بی آر ٹی منصوبے کا کام مکمل نہیں ہوا ،تین ڈپو، کمرشل پلازے اور سائیکل ٹریک پر تاحال کام جاری ہے۔

(Visited 20 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں