پاکستان کو اس وقت ہمیں دس سال کی پالیسی دینی چاہیے، خسرو بختیار

خسرو بختیار

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے خوراک اینڈ فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار نے کہا ہے کہ 27 ملین ٹن گندم کی اس سال ضرورت ہوگی جو آئندہ سال مزید بڑھ جائےگی، ابھی پیدوار کے وسائل پرانے ہی ہیں، سندھ رواں سال گندم کا ایک دانا جمع نہ کرسکی اس نے 14 لاکھ ٹن گندم جمع کرنےکی یقین دہانی کرائی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہا کہ اسحاق ڈار کی اقتصادی پالیسی پائیدار نہیں تھی، ن لیگ کی حکومت جب آئی ایم ایف کے پاس گئی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہت کم تھا، جو قرضہ دیتا ہے تو وہ خسارہ اور زرمبادلہ کے ذخائر دیکھتا ہے اس لیے جو آئندہ حکومت ہوگی اس کو یہ چیلنجز نہیں ہوں گے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

انہوں نے کہا کہ معیشت پر سیاست کرنے کا وقت نہیں ہے، اس وقت پاکستانی معیشت جن چیلنجز کی گھنٹی دکھا رہی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کو اس وقت ہمیں دس سال کی پالیسی دینی چاہیے، خصوصی فنانس کمیٹی بنائی جائےجوموجودہ اورآئندہ کی معاشی صورتحال پرمل کرپالیسی بنائے، پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو مسائل، وسائل اور حل پرروڈ میپ طے کرے، معیشت کے معاملے پر سیاسی تقریریں نہ کی جائیں، اب وقت ہوش کرنے کا ہے، حکومت اور اپوزیشن کو ملکی معاشی معاملات پر ایک ہونا پڑےگا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معیشت کے معاملے پر سیاسی تقریریں نہ کی جائیں کیونکہ اب وقت ہوش کرنے کا ہے حکومت اور اپوزیشن کو ملکی معاشی معاملات پر ایک ہونا پڑےگا۔

خسرو بختیار نے کہا کہ پاکستان ایک سوسالہ عمر پوری کرے گا تو آبادی 40 کروڑ ہوجائے گی، ہمیں اسی زمین سے 40 کروڑ لوگوں کو کھلانا پڑے گا، ہمیں آبادی زمینی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور سرمایہ کاری پرقومی پالیسی بنانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق 7 سے 19 ارب ڈالر تک برآمدات لے کر گئی، پیپلزپارٹی 19 سے 25 ارب ڈالر تک برآمدات لے کر گئی، مسلم لیگ ن 25 ارب سے صفر پر برآمدات چھوڑ کرگئی ہے۔

خسرو بختیار کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے آٹا آٹا کے نعرے بھی لگائے۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Comments

comments

خسرو بختیار,

اپنا تبصرہ بھیجیں