کرونا سے صحتیاب ہونے والے کتنے عرصے تک دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے …؟

ریسرچ
Loading...

کرونا وائرس نے دنیا بھر کو پریشانی میں ڈال رکھا ہے. بیشتر ممالک نے لاک ڈاؤن کے ذریعے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی. تقریبا ہر ملک اس انتظار میں ہیں کہ کب اس کی ویکسین آئے اور اس کو کنٹرول کیا جاسکے.

بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنے شہریوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی قوت مدافعت کو مضبوط بنائیں تاکہ کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں اور کچھ ممالک کی یہ کوشش بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کرونا وائرس کا شکار ہو اور ان میں اس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہوں اور کرونا وائرس کا خاتمہ ہوسکے.

ماہرین نے ایک نئی ریسرچ کے ذریعے ایک اور حیران کن خبر سنائی ہے . ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے ہزاروں مریضوں کی قوت مدافعت کا مطالعہ کیا اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز انسان کے جسم میں مستقل طور پر موجود نہیں رہ سکتی بلکہ یہ اینٹی باڈیز کچھ عرصے بعد ختم ہو جاتی ہیں. اس طرح کرونا سے صحتیاب ہونے والا شخص دوبارہ آسانی سے اس وائرس کا شکار ہو سکتا ہے.

loading...

امریکن ماہرین نے کرونا وائرس کے متعلق نئی ریسرچ جاری کردی….

ماہرین کا کہنا ہے کہ قوت مدافعت زیادہ دیر تک ان لوگوں میں موجود رہتی ہے جن میں وائرس کی شدید علامات ظاہر ہوئی ہوتی ہیں اور انہیں وینٹی لیٹر تک لے جانے کی ضرورت پیش آئے.

اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ نے یہ کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کی ویکسین مارکیٹ میں آجاتی ہے تو یہ ہمیشہ کامیاب ثابت نہیں ہوگی. بلکہ اس ویکسین کو ہر سال نئے فارمولے سے دوبارہ تیار کرنا پڑے گا. کیونکہ یہ وائرس وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرتا رہتا ہے اسی لئے اس کی ویکسین کو بھی ہر سال نئے فارمولے سے بنانا پڑے گا.

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز انسان کے جسم میں 40 سے 45 دن تک عروج پر ہوتی ہیں. اس کے بعد انسان کے جسم میں ان کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سو دن بعد یہ اینٹی باڈیز مکمل ختم ہو جاتی ہیں. جو لوگ کرونا وائرس سے صحت یاب ہوتے ہیں انہیں بھی احتیاط کی ضرورت ہے.

(Visited 73 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں