بس بہت ہوگیا، اب مزید ناانصافی برداشت نہیں ہوگی، سونیا حسین

سونیا حسین
Loading...

لاہور: پاکستان کی معروف اداکارہ سونیا حسین نے ایک مرتبہ پھر صدا بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے خلاف آواز بُلند کرنے کا وقت آگیا ہے۔

کیا اداکارہ ہانیہ عامر نے ہونٹوں کی سرجری کروائی ہے …؟

 سونیا حسین نے ایک خصوصی تصویر پوسٹ کی جس میں عورت سے جنسی زیادتی کی دردناک منظر کشی دکھائی گئی ہے۔

تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بس بہت ہوگیا، اب مزید ناانصافی برداشت نہیں ہوگی، اب پاکستان میں کسی کو جنسی زیادتی کا شکار نہیں بننے دیا جائےگا۔

سونیا حسین نے ملک میں عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے لکھا کہ ہم اپنے ملک کو ہر شخص کے لیے ایک بہتر اور محفوظ جگہ بنانا چاہتے ہیں، اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب ہم اپنی دبی ہوئی آوازوں کو بُلند کریں اور انصاف کے لیے یکجا کھڑیں ہوں۔

View this post on Instagram

Enough is enough!!! No more injustice. No more sexual or verbal harassment in pakistan 🤚🏽🚫 We want a better place to be. It’s time to raise your voice. اب بس !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! بہت ہوگیا !!!!! باہر نکلو !!!! آواز اُٹھاؤ !!!!! ۔ Come join me and my fellows for a peaceful protest at karachi press club tomorrow. 14th September 2020 , 5pm- 7pm. ‼️‼️ Are we all together???????? #letsjoinhands #nomercyforrapists @friehaaltaf @yasir.hussain131 @manshapasha @ayesha.m.omar @ashrafrubina @mahirahkhan @rasikhismailkhan @ugsid @ansari.bushra @sanammody @thesaniasaeed @angelinemalikofficial @iamshaniera @iamshaistalodhi @adnansid1 @adnansarwar11 @adeelhusain78 @ushnashah #sonyahussyn

A post shared by Sonya Hussyn Bukharee (@sonyahussyn) on

loading...

یاد رہے کہ اِس سے قبل سونیا حسین نے ملک میں زیادتی کے بڑھتے کیسز اور لاہور موٹروے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے جذبات بیان کیے تھے

سونیا حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انصاف کسی چڑیا کا نام نہیں ہے کیونکہ یہاں عام آدمی ہمیشہ انصاف کی طلب میں مارا مارا پھرتا ہے لیکن اُسے انصاف نہیں ملتا۔

اداکارہ نے کہا تھا کہ جس ملک میں کتّوں کا قانون ہو، جہاں بچے، بچیاں، عورتیں، کتّے، بلیاں اور یہاں تک کے قبروں میں لاشیں بھی محفوظ نہ ہوں تو وہاں سوشل میڈیا پر پوسٹس لگانے اور احتجاج کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب تک قانون کے محافظ اور سربراہان کے گھروں میں گُھس کر اُنہیں جوتے نہیں ماریں جائیں گے تب تک اعلیٰ حکام کو احساس نہیں ہوگا کہ آخر غیر محفوظ ہونے کا احساس کیسا ہوتا ہے۔

(Visited 10 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں