سرکاری ملازمین کا اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا

Loading...

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مختلف یونینز نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دے دیا۔

جلسے جلوسوں سے حکومتیں نہیں گرا کرتیں، شیخ رشید

سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے، سرو س اسٹرکچر بدلنے اور دیگر مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دیا گیا۔

مظاہرین احتجاج کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس جانے لگے تو پولیس نے انہیں ڈی چوک پر روکنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین رکاوٹیں توڑ کرپارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے۔

احتجاجی مظاہرے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں جن پر سروس اسٹرکچر بدلنے، پنشن، لائف انشورنس دینے، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیو مہم میں تحفظ دینے کے مطالبات درج ہیں۔

اُدھرمظاہرین نے مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

مظاہرین سے  فنانس اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے وزارت صحت کے نمائندے مذاکرات کریں گے۔

loading...

بلاول کی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی حمایت

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی حمایت کردی ہے۔

بلاول نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاں، پنشن اور مساوی مراعات وفاقی حکومت کے ملازمین کے حقوق ہیں، وفاقی حکومت کے ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور پیپلزپارٹی لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام سرکاری ملازمین کے مسائل ہر فورم پراٹھائے گی۔

اسلام آباد پولیس نے ڈرون سے احتجاج کو مانیٹر کیا

اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا اور ڈرون کے استعمال کو پولیس ائیرپٹرولنگ یونٹ کا نام دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی چوک پر لیبر یونین کے احتجاج کی مکمل مانیٹرنگ پہلی بار ائیرپیٹرولنگ یونٹ نے کی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں بھی سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے احتجاج کیا تھا۔

(Visited 87 times, 2 visits today)
Loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں