جلا وطن ہونے والے عالمی رہنما….!

 تاریخِ عالم پر نظر ڈالیں تو ہمیں بہت سے ایسے رہنما ملیں گے جو جلا وطن کر دیئے گئے۔ اکثر کا جلا وطنی میں انتقال ہو گیا جبکہ کچھ واپس بھی آ گئے۔

ویسے تو ان رہنماؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہم ذیل میں اپنے قارئین کیلئے اُن رہنماؤں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو بہت مشہور تھے اور جب تک وہ اقتدار میں رہے انہوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں زیادہ تر آمر تھے یا وہ فوجی حکمران جو پوری دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔

ان کے دماغ میں یہ فتور سمایا ہوا تھا کہ وہ پوری دنیا فتح کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اکثر کو اپنی موت کا یقین ہی نہیں تھا۔ لیکن ان سب کو اپنے خوابوں کی تعبیر نہ ملی۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو مظلوم تھے اور جنہیں زبردستی جلاوطن کر دیا گیا جیسے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر۔

نپولین

نپولین پورے یورپ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ آہستہ آہستہ وہ پوری دنیا پر قبضہ کر لے۔ برطانیہ اور اتحادیوں سے جنگ کے بعد اسے فروری 1815 میں جزیزہ البا بھیج دیا گیا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور دوبارہ فرانس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اگرچہ وہ ایک بہترین فوجی جرنیل تھا لیکن اس سے بھی غلطیاں ہوئیں۔ جون میں اتحادیوں نے اسے واٹرلو کے مقام پر شکست دی۔ برطانیہ نے اسے جزیرہ ہلینا بھیج دیا۔ نپولین کا خیال تھا کہ چونکہ وہ فرانس کا بادشاہ ہے اس لئے اس کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور انگریزوں نے اسے ایک ایسے جزیرے میں بھیج دیا جہاں کی آب و ہوا انسان کے لئے انتہائی نقصان دہ تھی۔ اس کے علاوہ اس جزیرے کا پانی بھی مضر صحت تھا۔ یہاں نپولین کو متعدد بیماریاں لاحق ہو گئیں۔ وہ چھ سال اس جزیرے میں رہا اور پھر 1821 میں 51سال کی عمر میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ وہ دنیا تو فتح نہ کر سکا البتہ موت نے اسے فتح کرلیا۔

دراصل انگریزوں نے اسے سینٹ ہلینا جیسے جزیرے میں اس لئے بھیجا تاکہ وہ پھر نہ بھاگ سکے۔ یہ جزیرہ بالکل بنجر تھا اور بحر اوقیانوس کے جنوب میں واقع تھا۔ دراصل برطانیہ نپولین کی درد ناک موت چاہتا تھا اور وہی ہوا۔

بہادر شاہ ظفر

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے 1857کی جنگِ آزادی کے بعد رنگون جلاوطن کر دیا۔ جنگ آزادی جسے غدر بھی کہا جاتا ہے کی ناکامی کے بعد برطانیوں نے مسلمانوں پر عرصہِ حیات تنگ کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے اقتدار انہی سے چھینا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ جو بیتی اُس کاعکس اُن کی شاعری میں ملتا ہے۔ انگریزوں نے ان کے دو بیٹے بھی قتل کر دیئے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

پھر اسی صورت حال کے تناظر میں بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا

یا تو افسر میرا شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا

رنگون برما میں ہے اور آج کل برما کا نام میانمر ہے۔ اس وقت برما پر بھی انگریزوں کی عملداری تھی۔ بہادر شاہ ظفر کے والد اکبر دوم کو انگریزوں نے قید کر لیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہادر شاہ ظفر ہندوستان کے بادشاہ کے طور پر ان کے والد کی پہلی ترجیح نہیں تھے۔ 7نومبر 1862کو بہادر شاہ ظفر کا جلاوطنی میں ہی انتقال ہو گیا۔

کیپرانئو کاسترو

کیپرائنو ویزویلا کا 1899 سے لے کر 1908تک صدر رہا۔ وہ ایک فوجی افسر اور سیاست دان تھا۔ کاسترو کا والد ایک کسان تھا اپنے آبائی شہر اور سین کرسٹوبل میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے کولمبیا میں تعلیم حاصل کی۔ لیکن اس نے تعلیم کا سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا اور سین کرسٹو بل واپس چلا گیا۔ کاسترو سیاست دان بن گیا اور اپنے صوبے ٹیک ہیرا کا گورنر بن گیا۔ لیکن اسے کولمبیا جلاوطن کر دیا گیا یہ اس وقت کی بات ہے جب 1992میںحکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔ کاسترو کولمبیا میں سات برس تک رہا۔ اس نے مویشیوں کی تجارت اور نجی فوج بنانے کے دوران خاصی دولت اکٹھی کرلی۔

جب کاسترو کو وینزویلا کے لوگوں کی خاصی حمایت حاصل ہو گئی تو کاسترو کی بنائی گئی نجی فوج ایک مضبوط قومی فوج بن گئی۔ کاسترو 1899سے 1908تک وینزویلا کا صدر رہا۔ کاسترو کے دور حکومت میں بہت سی بغاوتیں ہوئیں اور مخالفین کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر جلاوطن کر دیا گیا۔

کئی مورخین نے کاستروں کو وینزویلا کے بدترین آمروں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ 1902-03 میں وینزویلا اُس وقت سنگین بحران کا شکار ہو گیا جب کاسترو نے بیرونی قرضے ادا کرنے سے انکار کر دیا اور برطانیہ، جرمنی اور اٹلی نے کئی ماہ تک وینزویلا کی بحری ناکہ بندی کیے رکھی۔ کاسترو کا خیال تھا کہ امریکہ کامون روئے نظریہ یورپ کی فوجی مداخلت کو روک دے گا۔ لیکن وقت آنے پر امریکہ نے یورپ کو علاقے چھیننے کی اجازت دے دی۔ کاسترو نے جھکنے سے انکار کر دیا اور اس کی بجائے اس نے کچھ مطالبات پیش کر دیئے۔ جب عالمی پریس نے ان واقعات پر منفی ردعمل کا اظہار کیا جن میں وینزویلا کے دو بحری جہاز ڈوب گئے تھے اور ساحلوں پر بمباری کی گئی تھی۔ امریکہ نے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا، دونوں فریقین بحری ناکہ بندی کے مسئلے پر مذاکرات کے لئے تیار ہو گئے لیکن مذاکرات کے دوران ناکہ بندی جاری رہی۔ 13فروری 1903 کو اس مسئلے پر واشنگٹن میں مذاکرات ہوئے اور اس کے نتیجے میں ناکہ بندی ختم ہو گئی اور وینزویلا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ 30فی صد کسٹم ڈیوٹی ادا کرے گا لیکن جب امریکہ نے یہ دیکھا کہ ٹریبونل محاصرہ کرنے والی قوتوں کے ساتھ ترجیحی سلوک کر رہا ہے تو اسے خوف لاحق ہوا کہ ان حالات میں مستقبل میں یورپ کو مدالخت کی مزید چھٹی مل جائے گی۔

1908 میں کاسترو گردے کی بیماری کی وجہ سے چار سال تک بستر پر پڑا رہا۔ 1908 کے آخرمیں کاسترو علاج کے لیے پیرس چلا گیا اور حکومت کی باگ ڈور نائب صدر جون وسنٹے گومز نے سنبھال لی۔ تاہم 19دسمبر 1908کو گومزے امریکی بحریہ کی مدد سے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس زمانے میں ہالینڈ کے ساتھ وینزویلا کی جنگ جاری تھی، گومز نے اس جنگ کا خاتمہ کر دیا۔ چند دنوں بعد جنرل کیپرلو کاسترو سرجری کیلئے برلن چلا گیا۔ اس کے بعد کاسترو کو یورپی طاقتوں کی طرف سے ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ میڈرڈ چلا گیا اور پھر پیرس میں اس کا کامیاب آپریشن ہوا۔ 1912کے آخر میں کاسترو نے کچھ عرصہ امریکہ میں گزارنے کا فیصلہ کیا لیکن اسے پکڑ لیا گیا اور جزیرہ ای یس کے امیگریشن حکام نے اس سے بڑے مشکل سوالات کیے۔ آخر کار اپنی بیوی کے ساتھ پیورٹورلیو (1916)میں آباد ہو گیا۔ یہاں جاسوس اس کی سخت نگرانی کرتے تھے۔ یہ جاسوس گومز نے بھیجے تھے، جس نے وینزویلا کی صدارت سنبھال لی تھی۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ میں آمریت کا سب سے طویل دور جون وسنٹے گومز کا تھا۔ کاسترو نے اپنی باقی زندگی جلاوطنی کی گزاری۔ وہ پیورٹوریکو میں رہا۔ اس نے واپس وینزویلا جانے کے بڑے منصوبے بنائے لیکن اس کا کوئی منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ 4دسمبر 1924کو کاسترو کا پیورٹوریکو میں انتقال ہو گیا۔

محمد علی شاہ کاجر

محمد علی شاہ کاجر ایران کا شہنشاہ تھا جو 1909سے 1925تک جلاوطن رہا۔ وہ کاجر خاندان کا چھٹا شہنشاہ رہا۔ وہ جنوری 1907سے 16جولائی 1909تک شہنشاہ رہا۔ کاجر اس آئین کے خلاف تھا جو اس کے باپ نے منظور کیا تھا۔ 1907میں اس نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا اور اعلان کیا کہ آئین ختم ہو چکا ہے کیونکہ یہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس نے ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) پر بمباری کی۔ اس کے لئے اس نے روس اور برطانیہ سے مدد حاصل کی۔ جولائی 1909میں آئین کی حمایت کرنے والی قوتوں نے محمد علی شاہ کو معزول کر دیا اور آئین کو بحال کر دیا۔ 16جولائی 1909کو پارلیمنٹ نے شاہ کے 11سالہ بیٹے احمد شاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ محمد علی شاہ کو اب تک آمریت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ اوڈیسہ (روس) اور آج کل ’’ازبکستان‘‘ فرار ہونے کے بعد محمد علی نے دوبارہ اقتدار میں آنے کا منصوبہ بنایا۔ 1911میں وہ اشتر آباد (پریشیا) میں اپنی فوجوں کے ساتھ داخل ہوا لیکن اس کی فوجوں کو شکست ہوئی۔ محمد علی شاہ دوبارہ روس چلا گیا، پھر استنبول اور اس کے بعد اٹلی کی طرف روانہ ہوا جہاں 5اپریل 1925کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کا بیٹا اور جانشین احمد شاہ کاجر کاجر خاندان کا آخری حکمران تھا۔

سکندر مرزا

سکندر مرزا بنگالی بیورو کریٹ اور پاکستانی فوجی افسر تھے جو پاکستان کے پہلے صدر بھی تھے۔ 1958میں اُس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کر کے سکندر مرزا کا اقتدار ختم کر دیا۔سکندر مرزا نے سینڈہرسٹ کے ملٹری کالج دیو کے) میں تعلیم حاصل کی۔ اس سے پہلے وہ ممبئی یونیورسٹی میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے انہیں سیکرٹری دفاع مقرر کردیا۔ 1954میں انہیں وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے مشرقی بنگال کا گورنر بنا دیا۔ یہ قدم مشرقی بنگال میں زبان کے مسئلے پر پیدا ہونے والی امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کیلئے اٹھایا گیا۔ بعد میں 1955میں انہیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔

سکندر مرزا نے گورنر جنرل غلام محمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ 1956میں جب آئین نافذ کیا گیا تو سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہو گئے۔ ان کی صدارت کے دور میں ملک عدم استحکام کا شکار رہا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سول انتظامیہ کے کاموں میں مسلسل مداخلت کرتے رہے۔ اس طرح دو برسوں میں چار وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سکندر مرزا نے آئین کو معطل کرتے ہوئے اپنی ہی جماعت کی حکومت کے خلاف مارشل لا لگا دیا۔ اس وقت فیروز خان نون وزیراعظم تھے۔ سکندر مرزا نے مارشل لا اپنے کمانڈر ایوب خان کے ذریعے مارشل لا لگایا۔ لیکن سکندر مرزا کی اپنے ہی کمانڈر کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے۔ 1958میں ایوب خان نے سکندر مرزا کو برطرف کر دیا۔ سکندر مرزا 1959 میں برطانیہ جلاوطن ہو گئے جہاں 1969میں ان کا انتقال ہو گیا اور ان کی تدفین ایران میں ہوئی۔ پاکستان کے کچھ مورخین سکندر مرزا کو پاکستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

فلگنیشریو بیستیتا

یہ کیوبا کا صدر تھا جسے 1959 سے لے کر 1973تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ بیستیتا 1940سے 1944تک کیوبا کا صدر رہا۔ 1952سے 1959تک یہ کیوبا کا فوجی آمر رہا اور اسے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل رہی۔ بیستیتا نے میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ اس نے کیمونسٹوں کی بغاوت کچلنے کیلئے بڑے سخت اقدامات کیے۔ اس نے قریباً بیس ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان حربوں کا فیدل کاسترو اور دوسری قوم پرست جماعتوں نے حکومت کے خلاف گوریلا وار شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوبیستیتا کو شکست ہو گئی۔ یہ شکست جن باغیوں نے دی اُن کی قیادت چی گویرا کر رہا تھا۔وہ بہت سی دولت لے کر ملک سے بھاگ یا۔ اس نے پرتگال میں سیاسی پناہ حاصل کرلی جہاں وہ پہلے میڈریا کے جزیرے میں رہا اور پھر ایسٹرورل چلا گیا۔ وہ سپین میں کاروبار کرتا رہا۔ 16اگست 1973کو دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ وہ کیوبا میں نفرت کی علامت ہے کیونکہ اس نے ہزاروں ہم وطنوں کو اپنی آمریت کو دوام بخشنے کیلئے مروا دیا۔ بیستیتا ایک عام سے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے کچھ عرصہ تک مزدوری بھی کی۔ اس نے گنے کے کھیتوں میں بھی کام کیا اور ریل کی پٹڑیوں پر بھی۔ وہ درزی، مکینک اور چھابڑی فروش کی حیثیت سے بھی کام کرتا رہا۔ 1921کو وہ ہواتا چلا گیا اور ایک نجی فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ شارٹ ہینڈ اور ٹائپ سیکھنے کے بعد اس نے فوج کی نوکری چھوڑ دی۔ بہرحال یہ حیرت انگیز بات ہے کہ زندگی میں اتنے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد وہ فوجی آمر بن گیا اور اپنے ہی لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے لگا لیکن جب لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی تو اسے جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ سفاک حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی بھی وقت انہیں زوال کے اندھیروں میں گم ہونا پڑ سکتا ہے لیکن جب اقتدار کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہو تو زوال کی کسے فکر ہوتی ہے۔

سعود آف سعودی عریبیہ

انہیں شاہ سعود بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 1964سے 1969تک سوئٹزر لینڈ، مصر اور یونان میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ سعودی عرب کی یمن کے ساتھ جنگ کی وجہ سے سعود کے والد ابنِ سعود نے اپنے بیٹے سعود کو مشورہ دیا کہ وہ بیرون ملک سفر کریں۔ اپنے والد کے مشیر فواد حمزہ اور ڈاکٹر مدحت شیخ کے ہمراہ سعود نے فلسطین ، عراق مصر اور یورپ کا دورہ کیا۔ سعد نے عراق کے نوجوان بادشاہ کے ساتھ دوستی کرلی۔ جب خلیج فارس کی ریاستوں بحرین اور قطر میں بحران پیدا ہوا تو سعود نے دسمبر 1937 کے دوران قطر کا دورہ کیا۔ اس کا مقصد قطر اور بحرین کے اختلافات ختم کرنا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یہ فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام یقینی ہو گیا تو عرب کی مختلف ریاستوں کے سربراہوں نے مصر میں ملاقات کی۔ یہ 1946کی بات ہے اس کا مقصد صورت حال کا جائزہ لینا تھا اور اس اجلاس کی صدارت مصر کے شاہ فاروق نے کی۔ سعود کے والد نے اپنی ترجمانی کیلئے ایک بار پھر اپنے بیٹے کو منتخب کیا اور سعود نے اس مشہور قرارداد کو پاس کرانے میں کردار ادا کیا جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ فلسطین کا مسئلہ سارے عرب کا مسئلہ ہے صرف فلسطین کا نہیں۔ 1947میں سعود نے امریکہ کا دورہ کیا اور امریکی صدر سے ملاقات کی۔ وہ برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے رہنماؤں سے بھی ملے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ امریکہ اور یورپ کو یہ بتایا جائے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی عرب ممالک کو قبول نہیں۔

1953میں سعود اپنے والد کی وفات کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بن گئے۔ 1962تک شاہ سعود اور شہزادہ فیصل کے درمیان اقتدار کی کشمکش رہی بادشاہ کی غیر موجودگی میں شہزادہ فیصل نے اپنی کابینہ تشکیل دے دی۔ اس وقت شاہ سعود علاج کے لئے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ شہزادہ فیصل نے شہزادہ فہد اور شہزادہ سلطان کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ شہزادہ فیصل کی نئی حکومت میں سعود کے بیٹے شامل نہیں تھے۔ واپسی پر شاہ سعود نے شہزادہ فیصل کی نئی حکومت کو مسترد کر دیا اور دھمکی دی کہ وہ شاہی گارڈز کو متحرک کریں گے ۔ علما، کابینہ اور حکمران جماعت کے سینئر ارکان نے سعود کو مجبور کیا کہ وہ اختیارات کلی طور پر چھوڑ دیں۔ اس طرح فیصل سعودی عرب کے بادشاہ بن گئے۔ سعود کو زبردستی جنیوا (سوئٹزر لینڈ) جلاوطن کر دیا گیا اور اس کے بعد وہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ 1969میں سعود کا یونان میں انتقال ہو گیا۔

محمد ظاہر شاہ

افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ 8نومبر 1933سے جولائی 1973تک افغانستان میں حکومت کرتے رہے۔ وہ افغانستان کے آخری بادشاہ تھے۔ وہ صرف 19سال کی عمر میں افغانستان کے بادشاہ بن گئے۔ ان کے والد محمد نادر شاہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پہلے 30برس تک ان کی حکمرانی اتنی موثر نہیں تھی۔ افغانستان نے لیگ آف نیشنز میں شمولیت اختیار کر لی اور پھر امریکہ نے بھی افغانستان کو سمی طورپر تسلیم کر لیا۔ 1930کے آخر میں افغانستان نے کئی ممالک کے ساتھ تجارت کے معاہدے کیے۔ ان ممالک میں خاص طور پر جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔افغانستان ان ممالک میں شامل تھا جو سرد جنگ کے دونوں دشمنوں (امریکہ اور روس) سے امداد لیتا تھا، 1963 تک افغانستان اپنے بل پر ہی حکومت کرتا رہا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ افغانستان میں بہت سے گروپس بن گئے تھے اور سیاسی لڑائیاں بھی عروج پر تھیں افغانستان میں 1964 میں نیا آئین نافذ کر دیا گیا اور آزادانہ انتخابات، پارلیمنٹ، شہری حقوق اور عورتوں کے حقوق کی وجہ سے افغانستان ایک جدید جمہوری ریاست بن گیا۔

1973میں محمد ظاہر شاہ اٹلی میں اپنی آنکھوں کا علاج کرا رہا تھا اس کے کزن اور سابق وزیراعظم محمد داؤد خان نے بغاوت کر دی اور ایک نئی حکومت قائم کر دی۔ سابق وزیراعظم کی حیثیت سے دس برس پہلے ظاہر شاہ نے داؤد خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اگست 1973کے دوران ظاہر شاہ سے زبردستی اقتدار لے لیا گیا اور اس طرح افغانستان میں 200سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔

ظاہر شاہ اٹلی میں 29سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے 2002میں ظاہر شاہ افغانستان واپس پہنچے۔ جہاں ان کی بہت پذیرائی کی گئی۔ 23جولائی 2007کو ظاہر شاہ کا انتقال ہو گیا۔

عِدی امین

عِدی امین 1971سے 1779تک یوگنڈا کے صدر رہے، انہیں عام طورپر ’’یوگنڈا کا قصائی‘‘ کہا جاتا ہے۔ افریقہ کی تاریخ میں ان کا شمار سفاک ترین آمروں میں کیا جاتا ہے۔ وہ فوج میں تھے۔ 1965میں انہیں فوج کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ انہیں اس بات کی خبر تھی کہ یوگنڈا صدر ملٹن اوبوٹ انہیں گرفتار کرنا چاہتا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے فوج کے فنڈز میں خورد برد کی ہے۔ یوگنڈا نے 1962میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور عدی امین فوج میں رہے۔ انہوں نے 1971میں فوجی بغاوت کر دی اور خود صدر بن گئے۔ اپنے اقتدار کے دوران انہوں نے مغرب نواز پالیسیوں کو ترک کر دیا۔ اسرائیل نے ان کی بھرپور حمایت کی۔ لیبیا کے معمر قذافی سابق سویٹ یونین اورمشرقی جرمنی ان کی حمایت کرتے رہے۔ 1975میں عدی امین افریقی اتحاد کی تنظیم کے چیئرمین بن گئے۔ اس کا مقصد افریقی ریاستوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا۔ 1977میں برطانیہ نے یوگنڈا سے سفارتی تعلقات ختم کر دیئے اور عدی امین نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے برطانیہ کو شکست دے دی ہے۔

عدی امین کے دور میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جبر، ماورائے عدالت قتل، اقربا پروری اپنے عروج پر تھی۔ بدعنوانی اور معاشی بدانتظامی بھی بہت زیادہ تھی۔ ان کے دور میں پانچ لاکھ لوگوں کو قتل کیا گیا۔ 1978میں عدی امین نے تنزانیہ کا اپنے ملک کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر تنزانیہ کے صدر جولیس نائریرے کے فوجی دستوں نے یوگنڈا پر حملہ کر دیا۔ 11اپریل 1979کو ان فوجیوں نے کمپالا پر قبضہ کر لیا۔ اور عدی امین کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ عدی امین نے پہلے لیبیا میں جلاوطنی کی زندگی گزاری اور پھر سعودی عرب میں 16اگست 2003کو سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران ہی چل بسے۔

محمد رضا پہلوی

ایران کے شہنشاہ محمد رضا پہلوی 1979سے 1980تک جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ انہوں نے مصر، مراکش، بہامس، میکسیکو، امریکہ اور پانامہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کی۔ محمد رضا شاہ پہلوی 1941سے 1979تک ایران کے شہنشاہ رہے۔ انہوں نے بھی تہران کے ایک فوجی سکول میں داخلہ لیا۔ 1938میں انہوں نے گریجوایشن کی۔ 1939میں انہوں نے مصر کے شاہ فاروق کی بہن سے شادی کی۔ بعد میں انہوں نے دو مزید شادیاں کیں۔ شاہ ایران کے زوال کا بڑا سبب ان کی امریکہ اور مغرب نواز پالیسیاں تھیں۔ ان کے سیاسی مخالف امام خمینی فرانس میں تھے۔ ایران کے عوام ان سے بہت تنگ تھے۔ انہوں نے ملک کا اسلامی تشخص ختم کر رکھا تھا۔ برسوں سے ان کے خلاف لاوا پک رہا تھا۔ آخر 1978کے آخر میں آتش فشاں پھٹ گیا اور وہ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ گئے۔ شہنشاہ ایران نے عوامی غیض و غضب کو دبانے کی بڑی کوشش کی لیکن ایرانیوں نے قسم کھا لی تھی کہ وہ رضا پہلوی کا تختہ الٹا کر رہیں گے۔ وہ ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے۔ شاہ ایران کے پاس کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اقتدار چھوڑ کر جلاوطن ہو جائیں۔ 1980میں مصر میں ان کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

فیلکس میلوم

یہ افریقی ملک چاڈ کے صدر تھے۔ وہ 1975سے 1979تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہے۔ یہ بھی فوج میں اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔ انہوں نے فرانس کی ملٹری اکیڈمی میںبھی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے بعد میں چاڈ کی فوج میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ چاڈ کی حکمران جماعت پی پی ٹی کے بھی رکن رہے۔ 1971 میں وہ فوج کے کمانڈر انچیف بن گئے۔ جولائی 1973میں انہیں گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا۔ وہ 29اگست 1978تک صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔

میلوم سیاست سے ریٹائر ہو کر نائیجریا چلے گئے۔ وہ 31مئی 2002کو 23سال کی جلاوطنی کے بعد چاڈ واپس آئے۔ ان کی واپسی پر انہیں سابق صدور کو ملنے والی سہولتیں دی گئیں۔ 12جون 2009کو میلوم فرانس میں حرکتِ قلب بند ہونے سے چل بسے۔

محمد نواز شریف

سابق وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کو 10دسمبر 2000کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔ 12اکتوبر 1999کو اس وقت کے فوجی جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا۔ نواز شریف پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کا طیارہ اغوا کرانے کی سازش کی۔ اس سے پہلے نواز شریف پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے برخاست کر چکے تھے۔ جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ میاں نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ان پر طیارہ اغواکا مقدمہ چلایا گیا۔ انہیں دو بار عمر قید کی سزا دی گئی۔ 2000میں ایک معاہدے کے تحت میاں نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے خاندان کو سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب سے واپس آنے کی دو بار کوشش کی لیکن انہیں ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔ 2009میں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے طیارہ اغوا کیس میں بری کر دیا۔ 2013کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بن گئے۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ اب وہ طبی بنیادوں پر رہا ہو کر برطانیہ چلے گئے ہیں۔

(Visited 90 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں