کشمیر سے متعلق ترک صدر کے بیان پر بھارت کو مرچیں لگ گئیں

ترک صدر

نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترک صدر طیب اردوان کے بیان سے بھارت کو مرچیں لگ گئیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے ترک صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے۔

loading...

واضح رہےکہ گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کی اور کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لیے ہے۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔

پاکستان اور ترکی کا ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہونے کا عہد

کشمیر کی صورتحال کا پس منظر

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں