والدین سے حسن سلوک …

ماں باپ
Loading...

رمضان المبارک کی برکات کے حوالے سے میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ بہت ہی اہم ہے یعنی ” والدین کے حقوق ” والدین کے حقوق کے بارے میں جتنا بھی لکھا اور بولا جائے کم ہے ۔

مگر لکھنے اور بولنے سے زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے جو کہ آج کے معاشرے میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے والدین کے حقوق کا جتنا زکر ہماری آخری کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں کیا گیا ہے اور جس قدر قرآن پاک میں اللہ تعالی نے سختی سے حکم دیا ہے اور جس کا مفہوم ہے کہ مسلمانوں کے لیئے والدین کی عزت اور قدر کرنا نہایت ضروری ہے یعنی اگر کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پاؤ تو ان کو اف تک نا کہو دوسری بات جو اللہ تعالی نے کی وہ یہ ہے کہ کسی اور کام کو اللہ تعالی نے احسن طریقے سے کرنے کا حکم نہیں دیا مگر والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے کہ والدین کہ فرمانبرداری احسن طریقے سے کرو والدین سے احسن طریقے سے بات کریں والدین کی فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نا برتیں .

اس موقع پر میں حضور پاکؐ کی بہت سی احادیث اور روایات کو آپ سے شیئر کرنا چاہوں گی ۔ مگر اس سے پہلے میں حضرت موسیٰ جو اللہ تعالی کے واحد پیغمبر ہیں کہ جن کو اللہ تعالی نے ہم کلامی کا شرف بخشا اور آپ نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے سوال کیا کہ میرا جنت میں پڑوسی کون ہو گا تو اللہ تعالی نے فرمایا آپ کا پڑوسی ایک قصائی ہو گا آپ بہت حیران ہوئے کیونکہ آپؑ کو لگتا تھا کہ آپ کا ہمسایہ کوئی ولی اللہ ہی ہو گا

آپؑ اس قصائی کی کھوج میں نکل پڑے اور آخر آپ کو وہ قصائی مل گیا آپ نے دیکھا کہ وہ قصائی گوشت بنا رہا ہے اور اچھے ٹکڑے ایک کپڑے میں ڈال رہا ہے اور جب وہ گوشت بیچ چکا تو آپ نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ آپؑ اس کے گھر جانا چاہتے ہیں تو اس نے فورًا کہا کہ جی جی ضرور کیوں نہیں آئیئے میرے ساتھ ۔

آپؑ جب اس کے گھر گئے تو آپ نے دیکھا کہ اس نے گوشت کو صاف کیا ہے اور اچھے طریقے سے دھو کر کھانا بنایا ہے اور پھر ایک بوڑھی خاتون جو کہ بستر پر پڑی ہوئی تھی اسے نہایت احترام کے ساتھ اٹھایا اور ان کے چہرے کو صاف کر کے ان کے لیئے کھانا لائے اور بہت پیار کے ساتھ انہیں کھانا کھلایا اور جب وہ کھانا کھلا چکے تو بوڑھی خاتون نے ان کے کان میں کچھ کہا آپؑ حیرانگی کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے وہ قصائی اس عورت کی بات سن کر ہنس پڑا آپؑ نے اس سے بوچھا یہ بڑھیا کون ہے ؟

تو آپؑ نے جواب دیا یہ بڑھیا میری ماں ہے ۔۔ آپ نے پھر پوچھا جب آپ کھانا کھلا رہے تھے تو اس وقت اس بوڑھی خاتون نے کیا کہا کہ آپ اسے سن کر ہنس دیئے ۔ تو قصائی نے جواب دیا کہ میں جب بھی اپنی والدہ محترمہ کو کھانا کھلاتا ہوں تو وہ مجھے جواب دیتی ہیں ۔

اللہ تجھے جنت میں حضرت موسیٰؑ کا پڑوسی بنائے تو میں مسکرا دیتا ہوں کہ کہاں میں اور کہاں حضرت موسیٰؑ ثابت ہوا کہ ماں کے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ایک اور واقعہ جو حضرت موسیٰؑ سے ہی معتلق ہے وہ بہت مشہور اور اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ جب بھی اللہ تعالی سے ہم کلام ہوتے تو پیچھے سے ان کی والدہ محترمہ ان کے لیئے بہت دعا کرتیں۔ ایک بار آپؑ جب اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے گئے تو اللہ تعالی نے پہلی بار ہی یہ فرمایا کہ آج میرے سے سوچ سمجھ کر بات کرنا کیونکہ آپ کے پیچھے آج کوئی دعا کرنے والی نہیں مطلب کے حضرت موسیٰؑ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو چکا تھا۔

Loading...

اب میں نبی پاکؐ کی کچھ احادیث پر روشنی ڈالنا چاہتی ہوں جو کہ والدین اور ان کے حقوق اور ان کی فرمانبرداری کے معتلق ہیں آپؐ نے فرمایا کہ والدین کی اطاعت کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ ( انہوں نے ایک موقع پر فرمایا ) اگر میں فرض نماز ادا کر رہا ہوتا اور میری والدہ مجھے بلاتیں تو میں فرض نماز توڑ کر کہتا جی ماں جی ۔۔۔

برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ….!

یعنی کے والدہ محترمہ کی بات کی اہمیت فرض نمازوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا
جنت ماں کے قدموں تلے ہے مگر جنت کا دروازہ باپ ہے ۔۔۔ یعنی کہ جہاں ماں کی بہت اہمیت ہے وہاں والد محترم کے حقوق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ایک اور موقع پر ایک صحابی نے رسولؐ سے عرض کیا کہ قیامت کب آئے گی ؟
تو آپؐ نے کچھ نشانیاں بتائیں ان میں سے عام نشانی یہ تھی کہ جب لڑکی یعنی بیٹی اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کرے گی اور لحاظ نہیں کرے گی اس وقت سمجھ لینا کہ قیامت بہت قریب ہے ۔

ایک اور واقعہ جو کہ حضرت اویس قرنی کا ہے جو والدین کی اطاعت کے حوالے سے کافی اہمیت کا حامل ہے ان کی والدہ کے ساتھ ان کی خدمت اور فرمانبرداری پر رسولؐ نے فرمایا کہ اویس جنت میں اکیلے نہیں جائیں گے بلکہ اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آپ جس کی طرف بھی اشارہ کریں گے وہ جنت میں جائیں گے

ایک اور موقع پر حضورؐ نے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علیؓ کو حضرت اویسؓ سے دعا کرنے کا کہا کیونکہ انہوں نے اپنی والدہ کی خدمت اس انداز میں کی تھی کہ وہ اللہ تعالی کے نزدیک بہت اہمیت اور خاص مقام رکھتی ہے ۔

آخر میں میں صرف یہی کہنا چاہوں گی کہ ہمیں اللہ تعالی والدین کی فرمانبرداری اور ان کی خدمت کا موقع عطا فرمائیں کیونکہ کسی ایک کی بھی ناراضگی ہمارے تمام اچھے اعمال کو خاک میں ملا سکتی ہے اور ان کی خوشی ہمیں فرش سے اٹھا کر عرش تک لے جا سکتی ہے تو آئیئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ اس رمضان المبارک ہم اپنے والدیں کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آئیں اور ان کی اطاعت اچھے طریقے سے خدمت کریں اور ان کی فرمانبرداری میں کوئی کسر نا چھوڑیں کیونکہ ان کی فرمانبرداری میں ہی اللہ کی خوشنودی ہے

آمیں یارب العالمین ۔

(Visited 118 times, 2 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں